آکسیجن کی سپلائی میں رُکاوٹ پیدا کرنے والوں کو پھانسی دی جائے گی : دہلی ہائیکورٹ کا سخت انتباہ

آکسیجن کی سپلائی میں رُکاوٹ پیدا کرنے والوں کو پھانسی دی جائے گی: دہلی ہائیکورٹ کا سخت انتباہ

نئی دہلی:24۔اپریل(سحر نیوزڈاٹ کام)

ملک کی مختلف ریاستوں میں بشمول دارالحکومت دہلی میں آکسیجن کی قلت،اس سے ہونے والی اموات اور آکسیجن کی کالابازاری کے خلاف آج دہلی ہائیکورٹ نے انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ آکسیجن کی سپلائی میں رُکاوٹ پیدا کرنے والوں کو پھانسی دی جائے گی۔

آج ہفتہ کے دن تعطیل کے باؤجود دہلی کے مختلف ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت کے بحران پر مہاراجہ اگرسین ہسپتال کی ایک آکسیجن کی قلت اور اسکے حصول میں رُکاوٹ سے متعلق اپیل پر خصوصی سماعت کرتے ہوئے جسٹس وِپن سنگھی اورمحترمہ ریکھا پلّی کی ہائیکورٹ بنچ نے دہلی میں کوویڈ کی وباء کی شدت اور متاثرین کو درپیش مشکل صورتحال کاسخت نوٹ لیا اور کوروناوائرس کی بڑھتی وباء کو سونامی سے تعبیر کرتے ہوئے اپنے انتہائی سخت انتبا ہ میں کہا کہ اگر کوئی مرکزی،ریاستی یا مقامی انتظامیہ کا عہدیدار آکسیجن کے حصول یا اس کی سپلائی میں رُکاوٹ پیدا کرتا ہے تو ہم اس شخص کو پھانسی دیں گے۔

اس سماعت کے دؤران دہلی حکومت کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ راہول مہتا نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ اگر اندرون 24 گھنٹے ریاست کو 480 میٹرک ٹن آکسیجن نہیں ملتی ہے تو پورا نظام بُری طرح بگڑ جائے گا۔

دہلی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ راہول مہتانے ہائیکورٹ کو بتایا کہ ہمیں صرف 296 میٹرک ٹن آکسیجن ہی ملی ہے جبکہ دہلی حکومت کا کوٹہ 480 میٹرک ٹن ہے۔