کرناٹک کے کالج میں حجاب مخالف لڑکوں کا جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ تعاقب، تنہا برقعہ پوش طالبہ مسکان خان نے لگایا اللہ اکبر کا نعرہ

کرناٹک کے کالجوں میں حجاب مخالف مہم
تنہا برقعہ پوش طالبہ مسکان خان کا جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ تعاقب
بے خوف طالبہ اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ کالج میں داخل

مانڈیا: 08۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

جنوبی کرناٹک کے اضلاع اُڑپی،چکمگلور،کندا پور،ہاسن اور دیگر مقامات پرمسلم طالبات کے حجاب (اسکارف) پہن کر کالج آنے کے خلاف زعفرانی تنظیموں سے وابستہ طلبا اور طالبات اپنے گلوں میں زعفرانی شال اور کھنڈوے پہن کر جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے ساتھ احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اڑپی کی مسلم طالبات اس سلسلہ میں ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہیں جس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ انہیں حجاب پہن کر کالجوں اور اسکولوں میں داخلہ کی اجازت دی جائے جو کہ ان کا مذہبی اور دستوری حق ہے۔

جس پر آج 8 فروری کو سماعت جاری ہے۔اس خبر کے لکھے جانے تک بنگلورو سے دستیاب اطلاع کے مطابق اس معاملہ کی سماعت دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کی گئی ہے۔اس سے قبل عدالت میں وکلا کی جانب سے بحث بھی کی گئی۔

دوسری جانب آج کرناٹک کے مانڈیا کے ایک کالج کا قابل مذمت ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حجاب پہن کر کالج پہنچی ایک تنہا مسلم طالبہ مسکان خان کا سینکڑوں لڑکوں کا جھنڈ زعفرانی شالوں اور کھنڈوؤں کو لہراتے ہوئے جئے شری رام کے نعروں اور قہقہوں کے ساتھ تعاقب کررہا ہے۔

اتنے سنگین اور اہانت آمیز واقعہ کے دؤران یہ باہمت مسکان خان "اللہ اکبر”کے نعرے لگاتے ہوئے کالج میں داخل ہورہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق مانڈیا کے” پی ای ایس کالج ” کا یہ ویڈیو ہے۔

جب برقعہ پوش مسکان خان اپنی اسکوٹی پر کالج پہنچیں اور اسکوٹی کو پارک کرنے کے بعد کالج کی عمارت کی جانب بڑھ رہی تھیں تو سینکڑوں کی تعداد میں لڑکوں کا ایک جھنڈ جو کہ جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے اس مسلم برقعہ پوش طالبہ کا تعاقب کررہا تھا۔تاہم اس حوصلہ مند مسلم طالبہ کے ماتھے پر خوف کی ایک شکن تک نظر نہیں آئی اور وہ اس جھنڈ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کئی مرتبہ اپنا ہاتھ اٹھاکر” اللہ اکبر ” کا نعرہ لگاتی رہیں۔

اسی درمیان کالج کے اسٹاف نے اس طالبہ کو اپنے حصار میں لے کر کالج کی عمارت کی جانب روانہ کردیا۔اس احتجاج کے دؤران مسلم طالبہ کالج کی عمارت میں داخل ہوگئیں۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔جس کی ہر طرف سے شدید مذمت کی جارہی ہے کہ ایک تنہا مسلم طالبہ کے ساتھ یہ رویہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے!!