کرناٹک حجاب معاملہ پر ہائی کورٹ میں
مسلم طالبات کی درخواست کی سماعت کل بھی جاری رہے گی
طلبہ اور عوام صبر اور تحمل سے کام لیں: ہائی کورٹ
تمام تعلیمی ادارے تین دن کے لیے بند: چیف منسٹر کرناٹک کا ٹوئٹ
بنگلورو :08۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

جنوبی کرناٹک کے کئی اضلاع کے سرکاری اور خانگی کالجس اور اسکولوں میں مسلم لڑکیوں کے حجاب (اسکارف) پہن کر کالج آنے کے خلاف زعفرانی تنظیموں اور طلبہ کی جانب سے احتجاج,مسلم طالبات کے کالجوں میں داخلہ پر پابندی کے خلاف اڑپی کی مسلم طالبات کی کرناٹک ہائی کورٹ میں داخل کردہ درخواست پر آج ایڈوکیٹ جنرل اورمسلم طالبات کے وکیل کی بحث و مباحث کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی سماعت کل 9 فروری ڈھائی بجے دن تک کے لیے ملتوی کردیا ہے اب اس معاملہ میں کل دوبارہ سماعت ہوگی۔
کرناٹک حجاب معاملہ کے شدت اختیار کرجانے کو دیکھتے ہوئے حکومت کرناٹک نے ریاست کے تمام اسکولوں اور کالجوں کو آئندہ تین دن کے لیے بند رکھنے کا علان کیا ہے۔اس طرح کل 9 فروری بروز چہارشنبہ سے 11 فروری تک کرناٹک میں تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
اس سلسلہ میں چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی نے ٹوئٹر پر کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”میں تمام طلبا،اساتذہ ،اسکولوں اور کالجوں کے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ کرناٹک کے عوام سے امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔میں نے اگلے تین دن تک تمام ہائی اسکول اور کالج بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تمام متعلقہ افراد اس معاملہ میں تعاون کریں”۔
آج اس معاملہ کی سماعت کے اختتام کے بعد معززجسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد نے طلباء اور عوام سے کہا ہے کہ وہ امن برقرار رکھیں۔’’اس عدالت کو عوام کی دانشمندی اور خوبی پر پورا بھروسہ ہے اور وہ امید کرتی ہے کہ اس پر عمل کیا جائے گا‘‘۔
حجاب معاملہ پر آج ہائی کورٹ میں ہونے والی بحث کے دؤرن لڑکیوں کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ دیودت کامت نے عدالت کو بتایا کہ” سر پر اسکارف پہننا مسلم ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے” انہوں نے کہا "اسے امن عامہ کا رنگ دینے کے لیے یہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کی کوشش ہے”۔
کرناٹک ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ” سکھوں کے معاملہ میں اسے نہ صرف ہندوستانی بلکہ کینیڈا اور برطانیہ کی عدالتوں نے بھی ایک ضروری مذہبی ثقافت قرار دیا ہے۔لڑکیوں کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ دیودت کامت نے عدالت میں بحث کے دؤران کہا کہ”اگر کچھ غنڈے کچھ کر رہے ہیں تو یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ چھوٹی بچیاں سکون سے کالج جا سکیں”۔انہوں نے کہا کہ” ہمارا سیکولرازم ایک دوسرے کے مذاہب اور عقائد کے احترام پر مبنی ہے،ریاست تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے”۔
مسلم طالبات کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ دیودت کامت اس کیس کی دلیل کے دوران ایک عبوری حکم نامہ جاری کرنے کی ہائی کورٹ سے درخواست کی تاکہ لڑکیوں کو اسکارف پہن کر کلاسوں میں جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ امتحانات قریب آ رہے ہیں۔
بحث کے دؤران ایڈوکیٹ دیودت کامت نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے 5 فروری کو جاری کردہ حکم جس میں سرکاری اداروں کے طلباء کو محکمہ کی طرف سے تجویز کردہ اپنے اسکول یونیفارم پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا تھا اور کسی بھی ایسے کپڑے پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی جس سے امن،ہم آہنگی اور امن و امان کو نقصان پہنچے، آئین میں درج بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
ہائی کورٹ میں مباحث کے دؤران مسلم طالبات کے عرضی گزار ایڈوکیٹ دیودت کامت نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کچھ حجاب پوش طالبات کو اسکول کے احاطے کے اندر جانے کی اجازت دی تو گئی تھی لیکن انہیں الگ کلاس روم میں بیٹھنے کے لیے کہا گیا اور یہ ” مذہبی نسل پرستی "ہے۔جس پر ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ ناودگی پر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ” اس طرح کے بیانات کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے”۔اطلاع ہے کہ آج مزید مسلم طالبات حجاب پہن کر تعلیمی اداروں میں داخلہ کی درخواست کے ساتھ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے اس دؤران نوٹ کیا کہ احتجاج کرنا،سڑک پر جانا،نعرے لگانا،طلبہ کا ایک دوسرے پر حملہ کرنا،یہ اچھی چیزیں نہیں ہیں۔ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ٹی وی پر آگ اور خون دیکھا تو ججز پریشان ہو جائیں گے۔دماغ پریشان ہو تو عقل کام نہیں کرے گی۔
حجاب معاملہ پر جاری سماعت کے دؤران ایڈوکیٹ جنرل پربھو لنگ ناودگی نے کرناٹک ہائی کورٹ سے کو بتایا کہ کالجوں کو یونیفارم کا فیصلہ کرنے کے لیے خود مختاری دی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو طلبا نرمی چاہتے ہیں وہ کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی سے رجوع کریں۔کرناٹک ہائی کورٹ کا کہناتھا کہ ہم وجوہات اور قانون کے ساتھ جائیں گے،جذبے یا جذبات کے ساتھ نہیں۔ہم آئین کے مطابق چلیں گے اور آئین بھگوت گیتا ہے۔ہائی کورٹ نے ریمارک کیا کہ اس حجاب معاملہ میں شرپسند افراد معاملہ کو بھڑکارہے ہیں۔

