وقارآباد کے قریب موجود تلنگانہ کے اوٹی اننت گیری ہلز پر بارش کے دوران دلکش نظارے، آبشار جاری، سیاحوں کا ہجوم

وقار آباد کے قریب موجود تلنگانہ کے اوٹی اننت گیری ہلز پر
بارش کے بعد دلکش نظارے،کئی مقامات پر آبشار جاری
ہر طرف خوبصورت، لائق دید اور سرسبز و شاداب مناظر ،سیاحوں کا ہجوم

وقار آباد : 22۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

چاروں جانب ہزاروں ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے جنگلات، بہترین آب و ہوا،ان جنگلات کی تینوں جانب بلند و بالاہرے بھرے درختوں والے پہاڑوں کا حصار،زمین پر چاروں جانب سبزہ،مختلف انواع کے پھول اور پودے اورمختلف قسم کے جانور جن میں قومی پرندہ مور بھی شامل، تو درختوں کے درمیان سے سانپ کی مانند رینگتی ہوئی سڑکوں کا دلنشین نظارہ۔اور پھر تانڈور کی جانب سے اننت گیری ہلز پر گاڑیوں کوچڑھنے کے لیے طویل اور دلفریب گھاٹ!! اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی دور دراز کا سیاحتی علاقہ ہوگا تو آپ غلطی پر ہیں۔

دراصل یہ قدرتی رنگینیوں اور قدرتی نظاروں سے بھرپور،آنکھوں اور ذہن کو تروتازہ کرنےوالا لائق دید نظارہ اننت گیری ہلز کا ہے جو کہ ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے صرف 70؍کلومیٹر اور وقارآباد سے 6؍کلومیٹر کے فاصلہ پرمؤجود ہے۔ 3,762؍ ایکڑ جنگلاتی علاقہ پر محیط اننت گیری ہلز سے ہی سےمشہور تاریخی موسیٰ ندی کا آغاز ہوتا ہے جو حیدرآباد کے درمیان سے بہتی ہے۔اننت گیری ہلز تلنگانہ کے اوٹی کے طور پر مشہور ہے۔

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/782342973627075

اس اننت گری ہلز کے جنگلات میں ہمہ اقسام کی نایاب و نادر جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں اور مختلف اقسام کے گھنے پیڑ اور پودے مؤجود ہیں۔یہ مختلف جنگلی جانوروں بشمول ہرنوں کی یہ آماجگاہ بھی ہے۔اننت گری ہلز سطح سمندر سے 2؍ہزار میٹر بلندی پر انتہائی معتدل اور بہترین پُرفضاء پر مقام پر واقع ہے۔اننت گری ہلز پر نظام دؤرحکومت میں پورے ہندوستان میں سروے کے بعد 1946ء میں 26؍ ایکڑ اراضی پر 450؍ بستروں کا حامل ٹی بی ہسپتال قائم کیا گیا تھا جو کہ اب بھی مؤجود ہے۔

اس ٹی بی سینیٹوریم کی خاصیت یہی تھی کہ اس علاقہ کی پرفضاء مقام سے ہزارہا تپ دق ( ٹی بی ) کے مریض ملک کے کونے کونے سے یہاں لائےجاتےتھے اور چند ماہ کے قیام اور علاج کے بعد توانا و تندرست ہوکر لوٹ جاتے تھے اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔اننت گیری کا علاقہ محکمہ جنگلات کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

اننت گیری ہلز پر مانسون اورمؤسم سرماء میں دلکش نظارےلائق دیدہوتے ہیں۔صبح کی اؤلین ساعتوں میں اننت گیری ہلز کامکمل علاقہ اور گھاٹ کہر کی گہری چادر میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں اور اس مؤقع پر سڑک کے کنارے موروں اور ہرنوں کے علاوہ دیگر چرند پرند اورمختلف جانوروں کے غول ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔

گزشتہ پانچ دنوں سےضلع وقارآباد میں بھی جاری بارش کے باعث اننت گیری ہلز پرانتہائی خوبصورت اور دلنشین نظارے دیکھے جارہے ہیں۔ایک جانب تاحد نظر بارش میں نہایا ہوا جنگلاتی علاقہ اور گھاٹ پر بارش کےدوران دؤڑتی ہوئی کاریں انتہائی خوبصورت نظارےپیش کر رہی ہیں شدید بارش کے بعد کل جمعہ کے دن سے اننت گیری ہلز کے تین مقامات پر آبشار جاری ہوگئے ہیں۔جن کا کا نظارہ بھی انتہائی لائق دید ہے۔

اننت گیری ہلز کے ان خوبصورت قدرتی نظاروں کو دیکھنے کےلیے مختلف مقامات سے سیاح پہنچ رہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ان خوبصورت مناظر کو دیکھنے کے لیے بشمول حیدرآباد ریاست تلنگانہ کے علاوہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے مختلف مقامات سے سیاحوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔جولائی 2021 میں بھی شدید بارش کے بعد یہ آبشار جاری ہوئے تھے۔

اننت گیری ہلز سے جاری ہونے والی موسیٰ ندی کی سطح آب میں بھی اضافہ ہواہے۔آج ہفتہ کےدن تعطیل کےباعث اننت گیری ہلز پر بڑی تعداد میں سیاحوں کاہجوم دیکھاگیا۔جو ان آبشاروں سے باآواز اونچائی سے گرتے ہوئے پانی سے لطف لیتے رہے۔اور ان قدرتی نظاروں کو اپنے اپنے موبائل فون میں قید کرتے رہے۔

حیدرآباد سے اننت گیری ہلزسیاحت کی غرض آنے والوں کےلیے مہدی پٹنم اور لنگرحوض سے تانڈور جانےوالی آر ٹی سی بسوں کی براہ راست سہولت دستیاب ہے۔جبکہ ٹرینوں کےذریعہ وقارآباد جنکشن تک پہنچنےوالے سیاحوں کے لیے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے صبح 4 بجے بیدر سوپر فاسٹ ٹرین،20-5 بجے صبح تانڈور ایکسپریس، 10-10 بجے صبح پلناڈو ایکسپریس اورممبئی۔ایل ٹی ٹی دوپہر 55-12 بجے ٹرین سرویس دستیاب ہے۔

اسی طرح اپنی گاڑیوں میں حیدرآباد سے آنے والے سیاح براہ مہدی پٹنم، لنگرحوض، پولیس اکیڈیمی،معین آباد،چیوڑلہ،منے گوڑہ اور وقارآباد سے ہوتے ہوئے تانڈور کی سمت 6 کلومیٹر کا سفر طئے کر کے اننت گیری ہلز تک پہنچ سکتے ہیں۔یہاں ایک ہریتا ریسارٹ بھی موجود ہے۔

"سحر نیوز ڈاٹ کام کے ایک ہمہ وقتی،معیاری اور مکمل اردو نیوز چینل کے لیے ہمیں آپ کا تعاون ناگزیرہے۔آپ سے گذارش ہےکہ سحر نیوز کے اس یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں۔” ⬇️⬇️⬇️