یوپی کے لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر کے بیٹے نے احتجاجی کسانوں پر کار چڑھادی!،8 ہلاک

یوپی کے لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر کے بیٹے نے احتجاجی کسانوں پر کار چڑھادی! 8 ہلاک
اپوزیشن جماعتوں کی سخت مذمت،چیف منسٹر اترپردیش نے واقعہ پر افسوس ظاہر کیا

دہلی/لکھنو:03۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

مرکزی حکومت کی جانب سے منظورہ تین زرعی قوانین کے خلاف کسان دس ماہ سے پرامن احتجاج میں مصروف ہیں ان کسانوں کا مطالبہ ہے کہ یہ تینوں قوانین کسانوں کے ساتھ ساتھ مستقبل میں کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے فائدہ مند اورعوام کے لیے بھی سخت نقصاندہ ثابت ہوں گے اور ساتھ ہی ان احتجاجی کسانوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت اجناس کی اقل ترین قیمت کا اعلان کرے۔

وہیں مرکزی حکومت اور بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔اپوزیشن جماعتوں ، کسانوں اور ان قوانین کو جاننے والوں کا کہنا ہے کہ جب کسانوں کے پاس سے من مانی قیمت پر کارپوریٹ ادارے اجناس خرید کر ذخیرہ کریں گے اور اونچی قیمتوں پر ان اجناس کو فروخت کریں گے تو اس ملک کے عوام کو شدید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملک کے دارالحکومت دہلی کی سرحدوں کے علاوہ اتر پردیش،پنجاب اور ہریانہ سمیت مختلف مقامات پر کسانوں کا پر امن احتجاج جاری ہے۔

آج اتوار کے دن کسان سمیکت مورچہ اور بھارتیہ کسان یونین نے کسانوں کو احتجاجی مظاہرہ کی غرض سے لکھیم پور کھیری پہنچنے کے لیے کہا تھا جس کے بعد ہزاروں کسان وہاں پہنچ گئے اور مرکزی وزیر اجئے مشرا کے مختلف پروگراموں کے دؤران کسانوں نے کالی جھنڈیاں دکھائیں۔

اسی دؤران احتجاجی کسانوں پر  مرکزی وزیر کے بیٹے ابھئے مشرا نے کار چڑھادی جس کے باعث 8 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں چار کسان بتائے جاتے ہیں۔جبکہ درجنوں کسان شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

جبکہ مرکزی وزیر اجئے مشرا کا دعویٰ ہے کہ اس واقعہ کے موقع پر ان کے فرزند وہاں موجود ہی نہیں تھے! اس واقعہ کے بعد مشتعل کسانوں نے زائد از تین گاڑیوں کو آگ کی نذر کردیا وہیں چند کسان تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے اس موقع پر فائرنگ بھی کی گئی!!

اطلاعات کے مطابق برہم ہجوم نے جن تین گاڑیوں کو نذرآتش کیا ہے اس میں سے ایک کار مرکزی وزیر کے بیٹے کی ہے۔

کسانوں پر کار چڑھائے جانے اور اس واقعہ میں کسانوں کی اموات کے بعد کسانوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے۔اس واقعہ کے بعد اتر پردیش میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے لکھیم پور کھیری واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اس واقعہ کی تحقیقات کے بعد خاطیوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔انہوں نے عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی ہلاکت کے بعد اپوزیشن جماعتوں کانگریس،سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی کے علاوہ دیگر جماعتوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی وزیر کے بیٹے کی اس حرکت سے احتجاجی کسانوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

جنرل سیکریٹری کل ہند کانگریس و انچارج اتر پردیش پرینکا گاندھی نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل لکھیم پور کھیری کا دؤرہ کریں گی۔

جبکہ سابق چیف منسٹر اتر پردیش و سماج وادی پارٹی چیف اکھلیش یادو نے اس واقعہ کو بربریت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاجی کسانوں پر مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کا بیٹا اس سارے واقعہ کے لیے ذمہ دار ہے۔اکھلیش یادو نے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔اکھلیش یادو نے بھی کل لکھیم پور کھیری کے دؤرہ اور مہلوک کسانوں کے افراد خاندان سے ملاقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وہیں بہوجن سماج پارٹی سپریمو و سابق چیف منسٹر اتر پردیش مایاوتی نے بھی لکھیم پور کھیری واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی وزیر اور ان کے بیٹے نے جان بوجھ پرامن کسانوں پر گاڑی چڑھائی ہے۔مایاوتی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کل ہی لکھیم پور کھیری کا دورہ کرتے ہوئے مہلوک کسانوں کے افراد خاندان سے ملاقات کریں گی۔

لکھیم پور واقعہ کے بعد اترپردیش کا سیاسی منظر تبدیل ہوگیا ہے جہاں پانچ ماہ بعد ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور تمام اپوزیشن جماعتوں نے برسراقتدار بی جے پی اور چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔وہیں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر بھی مرکزی وزیر اور ان کے بیٹے کے خلاف شدید غصہ اور برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں پیش آئے اس افسوسناک واقعہ کے کئی گھنٹوں بعد رات دیر گئے مرکزی وزیر اجئے مشرا نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کسانوں نے ہی اس حملہ میں تین بی جے پی کارکنوں اور کار ڈرائیور کو ہلاک کیا ہے!

ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ کار کی زد میں آکر دو کسانوں کی ہلاکت ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ تقریب میں شرکت کی غرض سے آنے والے اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ کے استقبال کے لیے جارہے بی جے پی کارکنوں کے ساتھ یہ تصادم پیش آیا ہے۔

انہوں نے کہا کسانوں نے انہیں کالی جھنڈیاں دکھائیں اور کاروں پر کسانوں کی جانب سے پتھراؤ کے دؤران کار الٹ گئی۔مرکزی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس واقعہ کے ویڈیوس اور فوٹوز موجود ہیں!!