کورونا وائرس سے متاثر ٹی وی جرنلسٹ روہت سردانہ کی قلب پر حملہ سے موت

Picture Courtesy: Twitter

کورونا وائرس سے متاثر ٹی وی جرنلسٹ روہت سردانہ کی قلب پر حملہ سے موت

نئی دہلی :30۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)

آج تک نیوز چینل کے نیوز اینکر روہت سردانہ 41 سالہ کی آج جمعہ کے دن قلب پر حملہ کے باعث موت واقع ہوگئی
اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ ایک ہفتہ قبل وہ کوروناوائرس سے متاثر ہوکر دہلی کے میٹرو ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

ایڈیٹر ان چیف زی نیوز سدھیر چودھری نےآج دوپہر سردانہ کی موت کی اطلاع پرمشمل ٹوئٹ کیا ہے۔روہت سردھانہ کی موت پر میڈیا حلقوں اور ان کے مداحوں میں ماتم کی لہر دؤڑگئی ہے۔
نیوز اینکر روہت سردانہ 22 ستمبر 1979ء کو ہریانہ کے کروکشیترا میں پیدا ہوئے تھے۔روہت سردانہ کے لواحقین میں بیوی نیتی چودھری کے علاوہ دو بیٹیاں ہیں۔

روہت سردانہ نے 2017ء میں زی نیوز چینل چھوڑکر آج تک جوائن کیا تھا جہاں وہ تال ٹھونک کے کے نام سے پروگرام پیش کرتے تھے۔

انہوں نے 7 جنوری 2017ء سے زی نیوز پر متنازعہ شخصیت ،پاکستانی بھگوڑے اور کینیڈا میں مقیم اسلام بیزار طارق فتح کیساتھ ملکر انتہائی متنازعہ سیکولر اور لبرلس کے نام پر فتح کا فتویٰ پروگرام پیش کرتے ہوئے ہندوستان اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کی دلآزاری کی تھی۔

جس میں قرآنی آیات اور اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا اور اس پروگرام میں شرکت کرنے والے بقول گودی میڈیا مسلمانوں کے دھرم گروؤں کی جم کر تذلیل کی جاتی۔

بالآخر اس دلآزار پروگرام کے خلاف مسلمانوں نے نیوز براڈکاسٹرس اسوی ایشن(این بی اے) کیساتھ ساتھ دہلی ہائیکورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے درخواست کی تھی کہ فتح کا فتویٰ پروگرام پر پابندی عائد کی جائے جس سے سماج میں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔

اس درخواست پر 23ستمبر 2017ءکو اس وقت ورکنگ جسٹس دہلی ہائیکورٹ محترمہ گیتا متل اور جناب سی۔ ہری شنکر پرمشتمل دو رکنی بنچ کو مرکزی حکومت نے بتایا تھا کہ فتح کا فتویٰ پروگرام بند کردیا گیا ہے اور اس کا آخری ایپی سوڈ 7 مئی کو دکھایا گیا تھا۔

اسکے بعد سے روہت سردانہ آج تک پر دنگل کے نام سے ایک پروگرام چلاتے تھے۔مسلمانوں کا احساس ہے کہ جموں کے کتھوا میں 8 سالہ معصوم لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کا معاملہ ہو، یا پھرشاہین باغ کامظاہرہ، یا جامعہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس بربریت کا، یا پھر گزشتہ سال کے اوائل میں ہونے والے دہلی کے ہولناک فسادات کا معاملہ ہو یا گزشتہ سال کورونا وائرس کے آغاز کے بعد تبلیغی جماعت اور ملک کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کا معاملہ ہو روہت سردانہ بھی اس نفرت انگیز مہم کا ایک حصہ رہ چکے ہیں!!

 

آج تک کے اس ٹی اینکر روہت سردانہ کی موت پروزیراعظم نریندرمودی نے اپنے ٹوئٹ میں روہت کے بے وقت انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ” روہت سردانہ نے بھی جلد ہی ہمیں چھوڑ دیا۔ توانائی سے بھر پور ، ہندوستان کی ترقی کے بارے میں پرجوش اور ایک نرم دل روح ، روہت کو بہت سارے لوگ یاد کریں گے۔ ان کے اس انتقال نے میڈیا کی دنیا میں ایک بہت بڑا خلاء چھوڑ دیا ہے۔ ان کے اہل خانہ ، دوستوں سے تعزیت۔

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی اپنے ٹوئٹ میں روہت سردھانہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے،

مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے سردھانہ کی موت پر غم کا اظہار کیا ہے۔

وہیں روہت سردانہ کی موت کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک پر ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ان کے شخصی نظریات اور عملی رویوں کو لے کر بحث زوروں پر جاری ہے۔