فلم دی کیرالہ اسٹوری اپنے مقصد میں کامیاب!، 15 دنوں میں 180 کروڑ سے زائد کی کمائی

فلم دی کیرالہ اسٹوری اپنے مقصد میں کامیاب!، 15 دنوں میں 180 کروڑ سے زائد کی کمائی
سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد 32,000 لڑکیوں کی سچی کہانی کا دعویٰ خیالی اورغیر مستند بن گیا

نئی دہلی: 21/مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

حال حال تک بھی ایک دؤر ہوا کرتا تھا کہ فلموں کے ذریعہ مختلف مذاہب کےماننے والوں کے درمیان سیکولرازم، قومی یکجہتی اور بھائی چارگی کومضبوط کیا جاتا تھا۔ہر فلم کا اختتام برائی پر اچھائی کی فتح پر ہوا کرتاتھاچاہے فلم کا ہیرو یا ویلن مسلم کردار کا حامل ہو یا کسی اور مذہب کا۔
ہر فلم میں تمام مذاہب پرمشتمل کردار موجود ہوتے تھے۔بالی ووڈ ہو یا علاقائی فلمیں سب کی کہانی تمام مذاہب کے درمیان اتحاد و اتفاق اور بھائی چارہ کا سبق دیتی تھیں۔تفریح کے ساتھ فلموں کے ناظرین کو ملک مذاہب،انسانیت سے محبت کا پیغام دیا جاتا تھا۔

لیکن افسوس کہ گذشتہ چند سال سے اظہار رائے کی آزادی کے نام پر چند ایسی فلمیں بھی بنائی جارہی ہیں جو ملک میں بدامنی اور بے چینی کو ہوا دےرہی ہیں۔ساتھ ہی دعوےبھی کیےجارہےہیں کہ یہ سچی کہانیوں اور حقائق پرمشتمل فلم ہے۔ایسی فلموں کےذریعہ اس ملک کی صدیوں قدیم ہندو۔مسلم بھائی چارگی اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔فلموں میں جہاں کہیں دہشت گردی،ظلم و زیادتی اور خون خرابہ پیش کرنا ہو تو مرکزی کردارمسلمان کا ہونا لازمی ہوگیا ہے۔!!

گذشتہ چنددنوں سےفلم "دی کیرالہ اسٹوری” TheKeralaStory# ” سرخیوں میں ہے.جس کے نام پرمسلمانوں کے خلاف جم کر زہر افشانی کی جا رہی ہے۔ وہیں اس ملک کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس فلم کو جھوٹ کا پلندہ کہہ کر مسترد کرنے میں مصروف ہے۔

فلم کیرالہ اسٹوری سن شائن پکچرز کےبینر تلے ہدایت کار اور پروڈیوسر وپل امرت لال شاہ کی تیار کردہ فلم ہے سدیپتو سین کی لکھی اور ہدایت کاری میں بننے والی فلم دی کیرالہ اسٹوری میں اداہ شرما،یوگیتا بہانی،سونیا بالانی اور سدھی ادنانی نے کام کیاہے۔یہ فلم ہندی،ملیالم، تلگو اور تمل زبانوں میں 5 مئی 2023ء کو ملک اور بیرون ملک ریلیز کی گئی۔اس فلم نے اب تک 178 کروڑ روپئے کاکلکشن کرلیاہے۔اس فلم کو بی جے پی اقتدار والی ریاستوں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور اتر اکھنڈ میں ٹیکس فری کر دیا گیا ہے۔

فلم کیرالہ اسٹوری کی نمائش پر تشدد کا خدشہ ظاہر کرتےہوئے مغربی بنگال میں پابندی عائد کردی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے گذشتہ دنوں یہ کہتے ہوئے فلم پر سے پابندی برخاست کردی کہ سینسر بورڈ نے اس فلم کومنظور کردیا ہے۔عدالت نے بنگال حکومت سے کہا کہ وہ فلم دیکھنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کی تصدیق کے خلاف بھی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ہم ان کو سننے سے پہلے یہ فلم بھی دیکھنا چاہیں گے۔

ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کیرالہ اسٹوری کے فلمسازوں کو ہدایت دی کہ ” 20 مئی کی شام تک اس فلم کی نمائش کے ساتھ واضح کرنا ہوگا کہ یہ فلم سچی کہانیوں پرمشتمل نہیں ہے بلکہ خیالی ہے۔اور اس فلم میں جو 32,000 تبدیلی مذہب کی بات بتائی گئی ہے اس کامستند ریکارڈ موجود نہیں ہے۔”جس پر کیس کی سماعت کے دوران فلم پروڈیوسر کی جانب سےسینئر وکیل ہریش سالوےنےبھی اس بات سے اتفاق کیاکہ 32,000 خواتین کے اسلام قبول کرنے کے جواز کے لیے کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے اور فلم کے ساتھ اس کو واضح کیا جائے گا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ 3 نومبر 2022ء کو فلم کیرالہ اسٹوری کا ٹیزر(ٹرائلر) سن شائن فلمز کے یوٹیوب چینل پر جاری کیا گیاتھا۔جس کے ساتھ لکھا گیا تھا کہ 32,000 کیرالہ کی لڑکیوں کی سچی کہانی ہے،جنہیں اسلام قبول کروانےکےبعد دہشت گردتنظیم داعش میں شامل کیا گیا۔ جسے یوٹیوب پر ہی 30 اپریل تک 14 ملین سے زائد افرادنے دیکھا تھا۔(اب یہ ٹیزر یوٹیوب پر دستیاب نہیں ہے،جس کو پرائیوٹ کردیا گیا ہے)۔ (اس ویڈیو کو نومبر 2022ء میں ٹوئٹر پر وائرل کیا گیا تھا۔وہ ویڈیو نیچے دی گئی سحر نیوز ڈاٹ کام کی لنک کو کلک کرکے دیکھا جاسکتا ہے

بعدازاں اس فلم کی ریلیز سے عین قبل 26 اپریل کو دوبارہ اس فلم کا ایک ٹریلر/ویڈیوفلمسازکےاسی یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیاگیا جسے آج تک 42 ملین افراد نے دیکھاہے۔تاہم سب سے بڑی تبدیلی کرتےہوئے اس دوسرے ٹریلر کےساتھ لکھا گیاکہ یہ کیرالہ کی تین لڑکیوں کی کہانی ہے۔ یعنی 32 ہزار لڑکیوں کی سچی کہانی کے نام پر ٹیزر کے ذریعہ اس فلم کی جم کرتشہیر کی گئی اور فلم کی ریلیز سےعین قبل اسے صرف تین لڑکیوں کی کہانی تک محدود کر دیا گیا۔

 

خود وزیراعظم نریندرمودی نے کرناٹک کی انتخابی مہم کےدوران جلسہ سے اپنے خطاب میں کہاکہ فلم کیرالہ اسٹوری ایک اچھی فلم ہے کیرالہ میں ایسا ہورہا ہے۔

9 مئی کو دہلی کے ایک سینما گھر میں فلم دی کیرالہ اسٹوری دیکھنے کےبعد مرکزی وزیر بہبود برائےخواتین و اطفال و اقلیتی امور اسمرتی ایرانی نے کہا کہ جو اپوزیشن جماعتیں اس فلم کے خلاف ہیں وہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہیں۔اس معاملہ میں والدین کو چوکس رہنا ہوگا۔

اس معاملہ میں سب سےحیرت انگیز بیان مرکزی وزیر سیاحت جی۔کشن ریڈی کا سامنے آیاہے جب منگل 23 مئی کو حیدرآباد کےایک سینما گھر میں فلم کیرالہ اسٹوری دیکھنےکے بعدنامہ نگاروں سے بات کرتےہوئے جی۔ کشن ریڈی نے کہاکہ ملک بھر میں خاص طور پر کیرالہ میں لڑکیوں کا زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا،انہیں بیرون ملک لےجایا گیا اور دہشت گرد بنایا گیا۔انہوں نے کہاکہ یہ کہانی حقیقی زندگی کی کہانیوں پر مبنی فلم ہے۔ایسی فلموں کے ذریعہ شعور پیدا کیا جانا چاہئے۔اور والدین بھی اپنی لڑکیوں کے معاملہ میں چوکس رہیں۔

اس سلسلہ میں دکن ہیرالڈنے لکھا ہے کہ جی۔کشن ریڈی نے 4 فروری 2020ء کو جب وہ مملکتی وزیر داخلہ تھے تو لوک سبھا کو بتایا تھا کہ لو جہاد کی اصطلاح موجودہ قوانین کے تحت بیان نہیں کی گئی ہے،لو جہاد کا ایسا کوئی معاملہ کسی بھی مرکزی ایجنسی نے رپورٹ نہیں کیا ہے۔

چیف منسٹر کیرالہ پنا رائی وجین نے سوشل میڈیا پر موضوع بحث فلم کیرالہ اسٹوری پر 30 اپریل کو اپنے ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعہ تنقید کرتے ہوئے لکھاتھاکہ”اس فلم کے ذریعہ کیرالہ جوکہ سیکولرازم کی سرزمین ہے،اس کومذہبی دہشت گردی کے مرکز کےطور پر پیش کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھایا گیا ہے۔

دوسری جانب مہاراشٹرا کے اکولہ میں اسی ہفتہ فلم کیرالہ اسٹوری کو لے کر دو گروہوں میں تصادم ہوگیا۔جس میں ایک کی موت واقع ہوگئی۔مہاراشٹر کے وزیر گریش مہاجن نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ اکولہ میں دو برادریوں کے ارکان کے درمیان تصادم ہوا جس میں ایک شخص کی جان گئی اور 9 دیگر زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ پہلے سے منصوبہ بند تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق یہ تشدد متنازعہ فلم دی کیرالہ سٹوری پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے باعث اکولہ کےحساس قدیم شہرکے علاقے میں ہوا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کے قصبے میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ایک شخص کی موت اور آٹھ دیگر کے زخمی ہونے کے بعد 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایاکہ تشدد سب سے پہلے یہ معاملہ ہفتہ کو شروع ہوا جب ایک طبقہ کے افراد اکولہ میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر فلم سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے۔رپورٹس کے مطابق یہ دو رہائشیوں کے درمیان ہونے والی چیٹ کا اسکرین شاٹ تھا جسے ان میں سے ایک نے انسٹاگرام پر شیئر کیا تھا۔

ایک پولیس عہدیدارنے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ چیٹ میں کچھ پیغامات سےدوسرے شخص کے”مذہبی جذبات کوٹھیس پہنچی”لیکن انہوں نےمزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔دونوں گروپوں کے ارکان نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی۔فسادیوں نے تشدد کے دوران چند کاروں اور موٹرسیکلوں کو آگ لگادی۔حکام نے حالات کو قابو میں لانے کے لیے انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور کرفیو نافذ کر دیا۔ جھڑپوں میں زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون کانسٹیبل بھی شامل ہے۔

وہیں سوشل میڈیا اور دیگر آزاد میڈیا سوال اٹھا رہے ہیں کہ ریاست کیرالہ سے 32,000 لڑکیوں کے قبول اسلام اور ملک سے فرار ہوکر دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونےکے اس فلم کےدعوے خود مرکزی حکومت،وزارت داخلہ، انٹلی جنس ایجنسیوں کی چوکسی اور کارکردگی کے برعکس ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کس طرح لڑکیاں ملک سے فرار ہوکر دہشت گردوں تک پہنچ سکتی ہیں۔؟ 

دس دن قبل مشہور یوٹیوبر دھروو راٹھی نے اپنے یوٹیوب چینل پرفلم کیرالہ اسٹوری کے حقائق تفصیلی طور پر پیش کیے ہیں دھروو راٹھی جنکے یوٹیوب پر 10 ملین سبسکرائبرس ہیں کے 22 منٹ کے اس ویڈیو کو آج تک حیرت انگیز طور پر 14 ملین سے زائد افراد نے دیکھا ہے اور ایک ملین سے زائد نے لائیک کیا ہے۔

فلم دی کیرالہ اسٹوری دیکھنے کے بعد ایک نوجوان اور خاتون کا ردعمل یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ "

 

” 7 نومبر 2022ء کو فلم کیرالہ اسٹوری کے پہلے ٹیزر / ٹریلر کی ریلیز اور وائرل پر لکھی گئی خصوصی تحریر اور ویڈیوز اس لنک پر "

کیرالہ کی 32 ہزار لڑکیوں کو داعش میں شامل کرنے والا ایک خاتون کا تہلکہ خیز ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، حقیقت کیا ہے ؟

 

” 30 اپریل 2023ء کو پیش کی گئی سحر نیوز ڈاٹ کام کی تفصیلی رپورٹ اس لنک پر ” :- 

چیف منسٹر کیرالہ پنائی راجن وجین کی فلم دی کیرالہ اسٹوری پر تنقید، فلم کوسنگھ پریوار کا پروپیگنڈہ قرار دیا