گجرات میں فنڈز کی اجرائی میں تاخیر،حکومت کے خلاف احتجاج
گاؤشالاؤں کے ٹرسٹیوں نے 10 ہزار گائیں سڑکوں پر چھوڑ دیں
احمدآباد: 25۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )
ریاست گجرات!جس کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہوئے بی جے پی نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور گجرات میں جہاں جاریہ سال کے اختتام میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں،میں حکومت کےخلاف پانچ الگ الگ مطالبات کے تحت احتجاج جاری ہیں ان میں ٹیچرز اور گاؤشالاؤں کے احتجاج بھی شامل ہیں۔یہ الگ بات کہ میڈیا اس جانب سے انجان بنا ہوا ہے جسے عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔
اسی احتجاج کے دؤران شمالی گجرات کی شاہراہوں پر گاؤشالاؤں کے ٹرسٹیوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے گاؤشالاؤں کوبطور امداد جاری کیے جانے والے 500 کروڑ روپئے جاری نہ کرنے کےخلاف ہزاروں گائیں سڑکوں پر چھوڑدیں۔اطلاعات میں ان گائیوں کی تعداد 10,000 تھی۔!
بناس کانٹھا گاؤشالہ کےٹرسٹی کشور دوے نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ 15 دنوں سے ٹرسٹی احتجاج کررہے ہیں اور سال 2022-2023 کے ریاستی بجٹ میں وعدے کےمطابق مالی امداد کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کی متعدد نمائندگیوں اور احتجاج کےباؤجود بھی فنڈجاری نہ کیےجانے کے خلاف گاؤشالاؤں کےٹرسٹیوں نےشمالی گجرات میں سرکاری عمارتوں کے احاطوں کے علاوہ ریاستی اور قومی شاہراہوں پر ہزاروں گائیں چھوڑ دیں۔
ریاست گجرات میں 1,500 گاؤشالہ ہیں جو ساڑھے چار لاکھ گائیوں کو پناہ دیتے ہیں۔صرف بناس کانٹھا میں موجود 170 گاؤشالاؤں میں 80،000 سے زائد گائیوں کو پناہ دی گئی ہے۔

بناس کانٹھا گاؤشالہ کے ٹرسٹی کشور دوے نے کہاکہ ان گاؤشالاؤں کے ٹرسٹ کو روزانہ ایک گائے کےچارے کے لیے 60 تا 70 روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔جبکہ کورونا وباء کے بعد سے ان گاؤشالاؤں کے لیےعطیات بھی کم ہوگئے ہیں،اور فنڈز کے بغیر شیلٹرہوم چلانامشکل ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے جلد از جلد فنڈز جاری نہیں کیے تو احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔
https://twitter.com/SevadalNL/status/1573688589967237121

