تمام مذاہب کی تعلیمات اور پیغام کوسمجھنے کے لیے دستورِ ہند کا مطالعہ ضروری
ہر شعبہ میں ترقی کے باوجود انسانیت کا گرتا ہوا معیار قابل تشویش
چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن جسٹس جی۔چندریا کی پریس کانفرنس
وقارآباد/تانڈور: 25۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن(انسانی حقوق کمیشن) معزز جسٹس جی۔چندریا نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر تمام مذاہب کی تعلیمات اوران کے پیغام کوسمجھنا ہے تو دستور ہند کو پڑھا جائے انہوں نے کہا کہ دستور ہند ایک عظیم کتاب ہے۔انہوں نےمشورہ دیا کہ ہر شہری کو چاہئے کہ وہ دستور ہند کا مطالعہ کرے۔انہوں نے کہا کہ دستور ہند میں شہریوں کے لیے جو ذمہ داریاں اور یکساں حقوق دئیے گئے ہیں ان پر عمل کیا جائے تو ایک بہترین اور مہذب سماج کھڑا ہوسکتا ہے۔
ہفتہ کے دن وقارآباد ضلع کے تانڈورٹاؤن میں انسانی حقوق کےتحفظ پرمنعقدہ پروگرام میں شرکت کےبعد پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ ہیومین رائٹس کمیشن معزز جسٹس جی۔چندریا نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تعلیمی شعبہ کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات میں ترقی ہورہی ہے لیکن انسانیت کامعیار گرتا جارہا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
معزز جسٹس جی۔چندریانے کہا کہ ہر شہری میں،”میں کے بجائے ہم”والی سوچ پیدا ہونی چاہئے اور اس کی سخت ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بہترین سماج کے لیے ہر کسی کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر کام کرنا ہوگا۔اس سے سماج میں امن و امان قائم ہوگا۔
معزز جسٹس جی۔چندریا نے کہا کہ دستور ہند نے عام شہریوں اور عہدیداروں کو مساوی حقوق اور ذمہ داریاں فراہم کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی انسانی حقوق کمیشن،ریاستی انسانی حقوق کمیشن اور قانونی امداد ی تنظیموں کی جانب سے سماج میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ اور شعور بیداری کی ذمہ داری قانونی اداروں کے علاوہ انسانی حقوق کمیشنوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور اس کے لیے لگاتار کوشش کی جارہی ہے۔اس کے لیے تعلقہ،ضلع اور ریاستی سطح پر شعور بیداری پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔
معزز جسٹس جی۔چندریا صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ انسانی حقوق کمیشن نے کہاکہ ملک اور سماج کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں اور والدین کے بھی حقوق ہوتے ہیں اس پر بھی شعور بیداری پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے طبی اور تعلیمی شعبہ جات کا بھی مشاہدہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے اس احساس کا اظہار بھی کیا کہ ریاست مرحلہ وار طریقہ سے ترقی کرے گی۔
قبل ازیں معزز جسٹس جی۔چندریا صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ انسانی حقوق کمیشن نے آر ڈی او تانڈور اشوک کمار،تحصیلدار چنا اپلا نائیڈو،ڈی ایس پی جی۔شیکھر گوڑ،سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ ضلع ہسپتال تانڈور ڈاکٹر روی شنکر کے ساتھ حکومت کی مختلف اسکیمات پر عمل آوری،نظم ونسق کی صورتحال اور شہری حقوق پر ایک جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں۔

اس اجلاس میں آر ڈی او اشوک کمار نے انہیں واقف کروایا کہ تانڈور میں تین سٹیزن کیس درج ہوئے ہیں۔جبکہ آسراسکیم کی کارکردگی اور اراضیات کےتنازعات کی تفصیلات معززجسٹس نے تحصیلدار سے حاصل کیں۔اور ہدایت دی کہ حکومت کی تمام اسکیمات مستحقین تک پہنچائی جائیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگلاتی ارا ضی کے معاملہ میں گریجن طبہ کے ساتھ ناانصافی کی اطلاعات ہیں۔رنگاریڈی ضلع کے ابراہیم پٹنم میں خاندانی منصوبہ بندی آپریشن کی ناکامی سے خواتین کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا۔


