ٹی آرایس نے حلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی حیدرآباد،رنگاریڈی، محبوب نگر کی نشست بی جے پی سے چھین لی

ٹی آرایس نے حلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی حیدرآباد،رنگاریڈی، محبوب نگر کی نشست بی جے پی سے چھین لی

حیدرآباد۔20۔مارچ (سحر نیوزڈاٹ کام)
حلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی حیدرآباد، رنگاریڈی محبوب نگرکی باوقار نشست کو ریاست میں برسراقتدار ٹی آرایس پارٹی نے بی جے پی سے چھین لی جبکہ حلقہ ایم ایل سی گرائجویٹ کھمم، ورنگل ،نلگنڈہ کی نشست پر بھی ٹی آرایس امیدوار راجیشور کامیابی کی سمت گامزن ہیں اور ووٹوں کی گنتی ہنوز جاری ہے۔

حلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی حیدرآباد، رنگاریڈی محبوب نگر سے کامیاب ٹی آرایس امیدوار وانی دیوی کو وزیرتعلیم پی سبیتا ریڈی اور رکن قانون ساز کونسل نظام آباد کے۔ کویتا شال پوشی کے بعد مبارکباد دیتے ہوئے۔

ان دونوں ایم ایل سی نشستوں کے لیے 14مارچ کو رائے دہی ہوئی تھی بشمول کانگریس ، بی جے پی، تلگودیشم جملہ 93 امیدوار مقابلہ کررہے تھے اور 17 مارچ سے ان ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری تھا جسے لیکر چار دن سے تجسس پایا جاتاتھا۔ حلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی حیدرآباد، رنگاریڈی ،محبوب نگرسے ٹی آرایس پارٹی نے ریاست میں بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو روکنے کے منصوبہ کے تحت سابق وزیر اعظم آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ کی دختر سرابھی وانی دیوی کو میدان میں اتارا تھا جنہوں نے آج جاری کردہ انتخابی نتیجہ میں اس نشست کے موجودہ بی جے پی کے ایم ایل سی اور امیدوار رام چندراراؤ کو شکست فاش سے دوچار کردیا۔

تانڈور میں منعقدہ ٹی ارایس امیدوار کی انتخابی مہم کے دؤران اجلاس میں وزراء ٹی۔ ہریش راؤ ،پی۔سبیتا اندراریڈی ،ایم پی چیوڑلہ ڈاکٹر رنجیت ریڈی،ایم ایل سی پی۔مہندرریڈی،رکن اسمبلی تانڈور روہت ریڈی، صدر بلدیہ سواپنا پریمل،امیدوار وانی دیوی کے علاوہ مقامی ٹی آرایس قائدین دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس طرح  6 سال کے قبضہ کے بعد ٹی آرایس نے اس باقار ایم ایل سی نشست کو بی جے پی سے چھین لیا۔14 مارچ کو اس نشست کیلئے بحیثیت مجموعی 67.2 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔

ٹی آرایس امیدوار سرابھی وانی دیوی نے جملہ 1,49,269 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جبکہ انکے حریف بی جے پی امیدوار رام چندرا راؤ نے 1,37,566 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا اس طرح ٹی آرایس امیدوار سرابھی وانی دیوی نے 11,703 ووٹوں کی اکثریت سے اپنی کامیابی درج کروائی ۔ حلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی حیدرآباد، رنگاریڈی محبوب نگر سے ٹی آرایس امیدورا وانی سرابھی دیوی کی کامیابی کے بعد ٹی آرایس حلقوں میں جوش و خروش پیدا ہوگیا ہے۔

سدی پیٹ کے حلقہ اسمبلی دوباک سے بی جے پی امیدوار کی کامیابی اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ناقابل یقین 44 نشستیں حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے بڑھتے قدم سے ٹی آرایس خیمہ میں الجھن پیدا ہوگئی تھی کیونکہ اپریل میں حلقہ اسمبلی ناگرجنا ساگر کا ضمنی انتخاب بھی ہونا ہے جہاں کے ٹی آرایس رکن اسمبلی نرسمہیا کی گزشتہ سال ڈسمبر میں قلب پر حملہ کے باعث انتقال ہوا تھا ۔ان ایم ایل سی انتخابات میں ٹی آرایس امیدواروں کی کامیابی نے ٹی آرایس قیادت اور کارکنوں میں ایک نیا جوش بھردیا ہے!!