تلنگانہ میں بی جے پی کودھچکا، سابق وزیر ڈاکٹر چندراشیکھر کا پارٹی سے استعفیٰ، 18 اگست کو کانگریس میں شمولیت، ریونت ریڈی کی ملاقات

وقارآباد ضلع: تلنگانہ میں بی جے پی کودھچکا،سابق وزیر ڈاکٹر چندراشیکھر کا پارٹی سے استعفیٰ
ریونت ریڈی کی ملاقات، 18 اگست کو ملک ارجن کھرگے کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت

حیدرآباد/وقارآباد : 13۔اگست
(سحرنیوزڈاٹ کام)

تلنگانہ میں جوں جوں اسمبلی انتخابات کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے،سیاسی قائدین کی جانب سے پارٹی تبدیلیوں کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

تلنگانہ میں بی جے پی کو گذشتہ رات اس وقت شدید دھچکا لگا جب سابق وزیر ڈاکٹر اے۔چندراشیکھر جن کا ضلع وقارآباد سے تعلق ہے جو پانچ مرتبہ حلقہ اسمبلی وقار آباد سے کامیاب ہوچکے ہیں نے پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دیتےہوئے اپنا مکتوب استعفیٰ ریاستی صدر بی جے پی و مرکزی وزیر سیاحت جی۔کشن ریڈی کو روانہ کر دیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر اے۔چندراشیکھرنے میڈیا سے بات کرتےہوئے کہا کہ وہ پارٹی کی پالیسیوں سےمطمئین نہیں ہیں اور سابق صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار کوریاستی صدر کے عہدہ سے ہٹائے جانے کی وجہ سے بھی ناواقف ہیں اور وہ اس بات کو لے کر حیرت زدہ ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت سے نالاں اور بی جے پی میں گروپ بازی سے بھی پریشان تھے۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ موجودہ حالات اور واقعات کو دیکھ کر شبہ ہوتا ہے کہ بی جے پی اور بی آر ایس پارٹی ایک ہی ہیں۔اور بی جے پی تلنگانہ میں بی آر ایس پارٹی کا تحفظ کر رہی ہے۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تلنگانہ میں کے سی آر حکومت اور مرکز میں نریندر مودی حکومت کی برقراری جیسا معاہدہ طئے ہوا ہے۔!!

اسی دوران آج حیدرآباد میں صدر تلنگانہ پردیش کمیٹی و رکن پارلیمان ریونت ریڈی نے ڈاکٹر اے۔چندرا شیکھر کی رہائش گاہ پہنچ کر ان سے خیر سگالی ملاقات کی اور انہیں گلدستہ پیش کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔جس کے بعد سابق وزیر ڈاکٹر اے۔ چندراشیکھر نے اعلان کیا کہ وہ کانگریس پارٹی میں شامل ہوں گے،ساتھ ہی انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حالیہ دنوں میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے چند دیگر ریاستی قائدین بھی کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔

اسی دوران میڈیا اطلاعات کےمطابق صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی نے انکشاف کیا کہ 18 اگست کو حیدآباد میں ایک جلسہ منعقد ہوگا۔جس میں صدر کل ہند کانگریس کمیٹی ملک ارجن کھرگے شرکت کریں گے اور اس جلسہ میں ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے لیے ڈکلیئریشن جاری کریں گے۔امکان ہے ڈاکٹر اے۔چندراشیکھر اسی دن باقاعدہ کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔

ڈاکٹر چندرا شیکھر 1985ء سے متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے امیدوار کے طور پر چار مرتبہ حلقہ اسمبلی وقارآباد سےمنتخب ہوئے۔ انہوں نے 2001ء میں ریاست تلنگانہ کے حصول کے مقصد سے ٹی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

پانچویں مرتبہ انہوں نے 2004ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور آنجہانی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی حکومت میں وزیر بھی رہے۔اس وقت کانگریس اور ٹی آر ایس کی مخلوط حکومت تھی۔تاہم 2008ء میں کانگریس کو ٹی آر ایس کی تائید سے دستبرداری اور اجتماعی استعفوں کےدوران انہوں نے بھی اپنی وزارت اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اور ضمنی انتخابات میں انہیں کانگریسی امیدوار جی۔پرساد کمار کے ہاتھوں شکست ہوگئی تھی۔2009ء کے انتخابات میں بھی انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد وزیراعلیٰ کے سی آر کے بااعتماد رفیق مانے جانے والے ڈاکٹر اے۔چندرا شیکھر نے ٹی آر ایس سے علحدگی اختیار کرلی اور کانگریس میں شامل ہوگئے۔انہوں نے 2014ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ نہیں کیا۔2018ء کے انتخابات میں بحیثیت آزاد امیدوار وہ حلقہ اسمبلی وقار آباد سے ہار گئے۔بعد ازاں 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس پارٹی ٹکٹ پر مقابلہ کرتے ہوئے پیدا پلی سے بھی انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

کانگریس پارٹی سے مستعفی ہوکر ڈاکٹر اے۔چندرا شیکھر 18 جنوری 2021ء کو بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔حالیہ عرصہ کےدوران وہ بی جے پی کے مختلف پروگراموں سے دور ہی تھے۔میڈیا اطلاعات کےمطابق انہوں نے اعلان کیاہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں حلقہ اسمبلی وقارآباد سے مقابلہ نہیں کریں گے۔کیونکہ یہاں پہلے سے ہی سابق وزیر جی۔پرساد کمار موجود ہیں۔امکان ہےکہ انہیں کانگریس حلقہ اسمبلی یا حلقہ پارلیمان ظہیر آباد سے اپنا امیدوار بنائے گی۔؟ یا پھر حلقہ اسمبلی یا حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے انہیں ٹکٹ دیا جاسکتا ہے۔؟