میں نہ جگنو ہوں ، دِیا ہوں ، نہ کوئی تارہ ہوں
روشنی والے میرے نام سے جلتے کیوں ہیں
راحت اندوری، عام آدمی سے لے کر سنجیدہ مزاج لوگوں کے مقبول شاعر
تیسری برسی کے موقع پر خراج عقیدت، منتخب ویڈیوز، غزلیں اور اشعار
حیدرآباد : 11/اگست
(سحر نیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
شہرہ آفاق نامور شاعر راحت اندوری کا 11 اگست 2020ء کو مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے شری اروندو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں دل کا دورہ پڑنے سے 70 سال کی عمر میں انتقال ہواتھا،جہاں وہ کوویڈ سے متاثر ہوکر زیر علاج تھے۔
اپنے 50 سالہ شعر و شاعری کے طویل سفر میں اردو کےمعروف شاعر اور نغمہ نگار راحت اندوری نے مشن کشمیر ( سنجے دت،رتھک روشن، جیکی شراف) خود دار (گووندہ)، فضا(رتھک روشن)، منا بھائی ایم۔بی۔بی۔ایس(سنجے دت)،کریم،گھاتک(سنی دیول)،عشق (عامر خان،اجئے دیوگن)، یہ رشتہ( تبو،کنال کپور)،جنٹلمین (چرنجیوی)،سر (نصیرالدین شاہ)،دراڑ،قریب،میناکشی،تمنا،اؤزار، گلی گلی چور ہے اور جرم میں گیت بھی لکھے تھے۔
راحت اندوری کا پورا نام ” راحت اللہ قریشی ” تھا جو شاعری کی دنیا میں ساتویں دہا میں راحت اندوری کے نام سےمشہور ہوئے۔ یکم جنوری 1950 کو مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پیدا ہوئے۔وہ دیوی اہليہ یونیورسٹی اندور میں اردو ادب کے پروفیسر بھی رہے۔ان کی سات تصانیف دھوپ، دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، رت بدل گئی، ناراض، موجود۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم) منظر عام پر آچکی ہیں۔
آج 11 اگست 2023 کوراحت اندوری جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ عوام کےدلوں اورجذبات کی خوب عکاسی کی اور ہمیشہ حکومت وقت کو اپنی شاعری کے ذریعہ آئینہ دکھاتے رہے کی تیسری برسی کے موقع پر ان پر لکھے گئے دو مضامین کے اقتباسات،ان کی منتخب غزلیں، مشہور زمانہ اشعار کےعلاوہ جگجیت سنگھ اور جسویندر سنگھ کی گائی ہوئی راحت اندوری کی دو غزلوں کےعلاوہ راحت اندوری کی مشاعروں میں شرکت کے چند منتخب ویڈیوز بطور خراج عقیدت پیش ہیں۔آج موجودہ حالات میں نامور غیر جانبدار، آزاد صحافیوں، سماجی جہد کاروں کی صحافت اور جدوجہد کے دوران راحت اندوری کے چند اشعار بار بار سنائی دیتے ہیں۔
جن میں قابل ذکر اشعار یہ ہیں؎
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
٭٭
سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟
کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا؟
٭٭
ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں
٭٭
دو گز سہی مگر یہ مری ملکیت تو ہے
اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا
٭٭
میں نہ جگنو ہوں ، دِیا ہوں ، نہ کوئی تارہ ہوں
روشنی والے میرے نام سے جلتے کیوں ہیں
٭٭
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
٭٭
طوفانوں سے آنکھ ملاؤ سیلابوں پر وار کرو
ملّاحوں کا چکر چھوڑو تیر کے دریا پار کرو
٭٭
یہ الگ بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں
پھر بھی جولوگ بڑے ہیں وہ بڑے رہتے ہیں
ایسے درویشوں سے ملتا ہے ہمارا شجرہ
جن کے جوتوں میں کئی تاج پڑے رہتے ہیں
٭٭ سحر نیوز ڈاٹ کام ٭٭
روزنامہ ڈان،پاکستان میں 12 اگست 2021 کے تحریر کیے گئے اپنے مضمون میں ممبئی کے سینئر اور معروف صحافی جناب ندیم صدیقی لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر راحت اندوری اسی دور کےممتاز ترین شاعر تھے۔ہم نے اپنے بزرگوں سےجگر مراد آبادی کی مقبولیت اور شہرت کی خوب روداد سنی ہے، جگر کے بعد مشاعروں کی دنیا میں اگر کسی کو غیر معمولی اور تادیر مقبولیت ملی تو وہ راحت اندوری ہی کی شخصیت تھی۔وہ عام آدمی سے لے کر سنجیدہ سمجھے جانے والوں تک میں مقبول تھے۔
جناب ندیم صدیقی لکھتے ہیں کہ وہ جس طرح کانپور کی موتی جھیل کے گراؤنڈ میں ہونے والے عام مشاعرے کے سننے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتےتھے اسی طرح ہم نے دیکھاکہ دوحہ قطر کے فائیو اسٹار ہوٹل میں موجود اردو کا ذوق رکھنے والوں میں بھی وہ اتنے ہی پسند کیےجاتے تھے۔ چونکہ ہم نے ان کا وہ زمانہ بھی دیکھا جب وہ معروف ہورہے تھے اور اِس دور کےبھی چشم دید گواہ ہیں جب وہ اردو مشاعروں کے ہیرو بن چکے تھے۔ ذہانت کے قبیل کا مگر ذرا ترچھے معنوں کا ایک لفظ ہے فطانت۔راحت اندوری ان دونوں لفظوں کے معنوی اوصاف کے حامل شخص تھے۔
وہ ذہانت کے ساتھ فطانت جیسے وصف کے بھی حامل تھے سو انہوں نے اپنی راہ الگ نکالنے کی کوشش کی اورعوامی مشاعروں میں اپنا کلام تحت اللفظ پڑھنے کی ایک عجب طرز نکالی جسےہمارے جیسےلوگ "پرفارمنس” کہتےہیں۔مشاعروں میں راحت اندوری کی یہ پرفارمنس توپ کی طرح چلی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس طرزِ راحت نے شہرت اور مقبولیت کی کئی چوٹیاں سَر کرلیں۔
مشاعروں میں راحت اندوری کی یہ پرفارمنس توپ کی طرح چلی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس طرزِ راحت نے شہرت اورمقبولیت کی کئی چوٹیاں سَر کرلیں۔ان کی غزلوں کو راحت اندوری مشاعرہ سننے والوں کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کو انہوں نے سلیقے سے برتا بھی اور اس ہنر میں وہ نہایت کامیاب شخص تھے۔وہ سلگتے ہوئےموضوعات کو ایک سلیقے سے شاعری کا لباس نہ سہی مگر التباس بنانےمیں پوری طرح قادر تھے اور سننے والا ان کے بیانیے پر جھومتا نہیں بلکہ داد کو نعرۂ تکبیر جیسا بنا دیتا تھا۔
کئی برس پہلے کی بات ہے کہ ہم بھی اس مشاعرے میں شریک تھے اور جب راحت اندوری نے اپنا یہ شعر پڑھا؎
ہمارے سَر کی پھٹی ٹوپیوں پَہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں
تو تمام مشاعرے گاہ میں صرف واہ، واہ کا شور دیر تک بلند رہا اور پھر یہ شعر اس مشاعرے کاحاصل بن گیا تھا۔ہمارا خیال ہےکہ ہندوستانی مسلمانوں کی کسمپرسی اور بے بسی نے بھی راحت کی شاعری کو بڑی کمک پہنچائی۔بارہا فسادات میں مارےگئے اور بابری مسجد کی شہادت جیسے سانحے سے غمزدہ مسلمانوں کی نفسیات کا راحت نے گہرا مطالعہ کیا اور اس درد و غم سے انہوں نےشاعری کی جو بُنت کی،ظاہر ہے کہ وہ سننے والوں کے دل کی آواز بن گئی اور راحت کی یہ آواز پورے ملک میں جنگل کی آگ کی مانند پھیلنی تھی سو خوب خوب پھیلی۔
راحت اندوری یکم جنوری 1950ء کو اندور میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم حاصل کی۔انہوں نے اردو مشاعرےجیسے موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کی اور کم لوگ جانتے ہیں کہ راحت اندوری ایک اچھے مصور بھی رہے ہیں،مگر برش کی مصوری سے زیادہ لفظوں سےانہوں نےجو تصاویربنائیں اور مشاعروں کے اسٹیج پر لوگوں کو دکھائیں وہ کہیں زیادہ پُرکشش ثابت ہوئیں۔انہوں نے نہ صرف ہندوستان بھر میں مشاعرے پڑھے بلکہ دنیا بھر میں وہ عزت و تکریم سے مدعو کیے گئے۔اپنے شعر اور اندازِ پیشکش سے لوگوں کو بھی خوب متاثر کیا۔
شعر خوانی کا ان کا انداز بہت ہی جاندار تھا۔یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کی مقبولیت میں ان کی” پیش کش "اثر انداز رہی یا کلام،مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ اس دور کے اردو مشاعروں کےمقبول ترین شاعر کے طور پر تادیر یاد رکھے جائیں گے۔اس وقت ان کا یہ شعر بھی یاد آتاہے ؎
مَیں نور بن کے زمانے میں پھیل جاؤں گا
تم آفتاب میں کیڑے نکالتے رہنا
(بشکریہ : روزنامہ ڈان، پاکستان)
https://www.dawnnews.tv/news/1139711
11 اگست 2020 کو تعمیر نیوز میں ” راحت اندوری: عام آدمی کے دکھ درد کا ترجمان کے عنوان سے ” ظفر گورکھپوری ” لکھتے ہیں کہ
راحت اندوری آج کےمشاعروں کےبے حد کامیاب اور مقبول شاعر ہیں۔ان کےتحت کے آگے اچھے اچھوں کے چراغ ماند پڑ جاتے ہیں۔ کیوں نہ ہو؟ ان سے زیادہ مشاعروں کی نفسیات کون سمجھے گا کہ مشاعرے کے موضوع پر انہوں نے پی۔ایچ۔ڈی کیاہے۔ میں نے راحت کی شاعری کا مطالعہ مشاعروں کے حوالے سے نہیں کیا ہے۔راحت کی شاعری زندگی کے چھوٹے بڑے مسائل، عہد حاضر کے سیاسی اور سماجی حالات اور ایک عام آدمی کے دکھ درد کی ترجمان ہے۔
ان کی شاعری میں کسی گہرے فلسفے یا کسی پیچیده رمز کی عقدہ کشائی نہیں لیکن یہ کم اہم بات نہیں کہ ہم اس میں زندگی کی دھڑکنیں سنتے ہیں۔یہ شاعری ہمیں اپنے اطراف پھیلی ہوئی وسیع تر دنیاکے شب و روز کی سچی تصویریں دکھاتی ہے۔
تخلیقی سطح پر سادہ اور مانوس لفظیات کے استعمال اور ایک غیر مبہم پیرایۂ اظہار نے راحت کی شاعری کو ایسا ذائقہ عطا کر دیا ہے جو عوام اور خواص دونوں کو اپنے دائرۂ اثر سے باہر جانے نہیں دیتا۔راحت کا لہجہ تیکھا ہے۔ ان کے شعری مزاج میں صاف گوئی، بے خوفی اور بے باکی ہے جو میرے نزدیک ایک حقیقی فن کار کا جوہر ہے۔
ایک بات جس کی طرف میں اشارہ کرنا چاہوں گا،وہ یہ ہے کہ ان کے ہاں احتجاج وافر ہے اور احتجاج کا آبنگ اتنا crude، واضح اور بیانیہ ہے کہ وہ کبھی کبھی فکری سطح پر صحافت کے حدود میں داخل ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔مجھے یہ کہنے میں قطعی کوئی باک نہیں کہ راحت کے یہ وہ اشعار ہیں جو مشاعرہ بازی کے کاروباری عمل سے قطع نظر ان کی ادبی شناخت کا حوالہ بھی ہیں۔ مستقبل انہیں اسی حوالے سے تلاش کرے گا۔( بشکریہ : تعمیر نیوز )
https://www.taemeernews.com/2020/08/rahat-indori-spokesperson-of-common-man.html
پیش ہے راحت اندوری کا منتخب کلام اور ویڈیوز :
لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
٭٭
مے کدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے
خالی شیشوں کی طرح لوگ اچھلتے کیوں ہیں
٭٭
موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے
اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں
٭٭
نیند سے میرا تعلق ہی نہیں برسوں سے
خواب آ آ کے مری چھت پہ ٹہلتے کیوں ہیں
٭٭
میں نہ جگنو ہوں، دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوں
روشنی والے مِرے نام سے جلتے کیوں ہیں
٭٭٭٭ ⬇️⬇️ ٭٭٭٭
” راحت اندوری صاحب کی یہ غزل جگجیت سنگھ کی آواز میں "
٭٭٭٭٭
سخت راہوں میں بھی آسان سفر لگتا ہے
یہ میری ماں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے
٭٭
پہلے تو توپ بھی سینے سے لگالیتے تھے
‘اب کوئی پھول بھی دیتا ہے تو ڈر لگتا ہے
٭٭
میں نے جس وقت تیرے در پہ کیا ہے سجدہ
آسمانوں سے بھی اونچا میرا سر لگتا ہے
٭٭
ایک ویرانہ جہاں عمر گزاری میں نے
تیری تصویر لگادی ہے تو گھر لگتا ہے
٭٭٭ ⬇️⬇️ ٭٭٭
” اس غزل کو گلوکار جسویندر سنگھ نے اپنی خوبصورت آواز دی ہے”
٭٭٭٭٭
اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے
٭٭
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
٭٭
میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے
٭٭
ہمارے منھ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منھ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے
٭٭
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
٭٭
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
٭٭٭٭ ⬇️⬇️ ٭٭٭٭
” مشاعرہ میں اس شہرہ آفاق انقلابی کلام کو راحت اندوری سناتے ہوئے "
راحت اندوری صاحب کےمتفرق اشعار پرمشتمل 1993ء کے مشاعرہ کا
ایک نایاب ویڈیو جسے دو کروڑ سے زائد افراد نے دیکھا ہے۔
٭٭٭٭ ⬇️⬇️٭٭٭٭
” 2019ء میں بنگلورو میں منعقدہ عظیم الشان مشاعرہ میں راحت اندوری متفرق کلام سناتے ہوئے۔
اس ویڈیو کو اب تک دو کروڑ 68 لاکھ 27 ہزار افراد نے دیکھا ہے ”
***** ⬇️⬇️ *****
بن کے ایک حادثہ بازار میں آجائے گا
جو نہیں ہوگا وہ اخبار میں آجائے گا
٭٭
چور ، اُچکوں کی کرو قدر کہ معلوم نہیں
کون ،کب، کونسی سرکار میں آجائے گا
٭٭٭٭ ⬇️⬇️ ٭٭٭

ترتیب و پیشکش: یحییٰ خان
Mail: khanreport@gmail.com
facebook : http://khanyahiya276
Twitter: @khanyahiya
Instagram: @khan_yahiya276

