اسکول کے احاطہ میں سیلابی پانی، خاتون ٹیچر کے داخل ہونے کے لیے طلبہ نے جمائیں کرسیاں، ویڈیو وائرل، شدید تنقید، ٹیچرمعطل

اسکول کے احاطہ میں سیلابی پانی،خاتون ٹیچر کے داخل ہونے کے لیے
طلبہ نے جمائیں کرسیاں،ویڈیو ہوا وائرل،سوشل میڈیا پر شدیدتنقید،ٹیچرخدمات سےمعطل

حیدرآباد:28۔جولائی(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

اساتذہ کو قوم کامعمار مانا جاتا ہے۔اساتذہ ایک کمزور ذہن طالب علم میں موجود صلاحیتوں کو نکھارکر انہیں تراش خراش کرہیرا بنانے کا ہنررکھتے ہیں۔بچوں کو بھی ہمیشہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کا اتنا ہی احترام کریں جتنا کہ وہ اپنے والدین یا بزرگوں کا کرتے ہیں۔
لیکن اترپردیش میں ایک خاتون ٹیچر کو اپنے طلبہ سے محنت کروانا مہنگا ثابت ہوا اور وہ خدمات سے معطل کردی گئیں۔

یہاں سب سے زیادہ سبق آموز پیغام یہ ہے کہ چونکہ یہ سوشل میڈیا کا سیاہ دؤر ہے۔اگر آپ چلتے ہوئے اچانک پھسل کر گر جاتے ہیں یا کوئی ایسی حرکت عوام کے درمیان کرتے ہیں جسے معیوب مانا جاتا ہے تو آپ کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ کون بندہ اس عمل کی ویڈیو لے کرکسی کو بھیج دیا ہے اور وہاں سے وہ گروپ میں فارورٖڈ ہوگیا اور اس طرح وہ ویڈیو سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر وائرل ہوجاتا ہے۔

افسوس کہ آج کے اس ترقی یافتہ دؤر میں زیادہ تر انسان اتنے بےحس ہوچکے ہیں کہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات،لڑائی جھگڑوں حتیٰ کہ قتل کی وارداتوں کے موقع پر بھی مداخلت یا مدد کرنے کے بجائے فوری اپنے موبائل فون کے ذریعہ ویڈیو لینے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں۔جبکہ اس سے انہیں ذاتی طورپر کوئی مالی فائدہ بھی نہیں ہوتا بس ایک جنون رہتا ہے۔

تو لازمی ہے کہ موجودہ دؤر میں ہر کسی کے موبائل فون کے کیمرے سے خود کو محفوظ رکھیں۔اور ساتھ ہی موبائل فون پر کسی بھی معاملہ میں کسی سے بھی کی جانے والی بات چیت کے موقع پر بھی انتہائی ذمہ داری کے ساتھ بات کریں،کیونکہ اب چندشاطر دماغ یا پھر جان بوجھ کر آڈیو ریکارڈنگ کو بھی فارورڈ کرنے یا پھر مخصوص افراد کو روانہ کرنے کی لت لگ چکی ہے!! اس سے تلخیاں اور بدگمانیاں پیدا ہورہی ہیں۔!

خدمات سے معطل ہونے والی اترپردیش کی اس ٹیچر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔جب وہ اسکول میں داخل ہونے پہنچیں تو اسکول کا احاطہ سیلابی پانی سےمحصور ہوچکاتھا۔اس خاتون ٹیچر نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئےطلبہ کی جانب سےلگائی جارہیں پلاسٹک کی کرسیوں پر چڑھ کر سیلابی پانی کے اختتام پر فرش پر اتر گئیں۔

بتایا جارہا ہے کہ ایسا مشورہ وہاں موجود چند مرد ٹیچرس نے ہی دیا تھا اور اس ویڈیو میں ان کے درمیان باتیں قہقہہ بھی سنےجاسکتے ہیں۔لیکن انہی ساتھی ٹیچرز میں سے کسی نے نادان دوست ثابت ہونے کا ثبوت فراہم کردیا یا پھر مخاصمت!! کہ اس واقعہ کا ویڈیو لے لیا اور سوشل میڈیا پر ڈال دیا جو کہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا۔جسے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین اور ان طلبہ کے سرپرستوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے برہمی ظاہر کی۔جس کے بعد حکومت نے اس خاتون ٹیچر کو خدمات سے معطل کردیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو اترپردیش کےضلع متھرا کے ایک سرکاری اسکول کاہے۔جہاں لگاتار بارش کے باعث اسکول کا احاطہ پانی سے بھرا ہوا تھا۔صبح اسکول پہنچیں خاتون ٹیچر کو اس پانی کے ذخیرہ سے محفوظ طور پر اسکول کے اندر داخل ہونےکی غرض سے طلبہ نے اسکول میں موجود پلاسٹک کی کرسیاں جمع کیں اور اسکول کے داخلہ سے اندر تک کرسیاں بچھائیں جن پر چلتے ہوئے یہ ٹیچر اسکول میں داخل ہوئیں۔

ایک اور اطلاع میں بتایاجارہا ہے کہ خاتون ٹیچر نےخود طلبہ کوہدایت دی تھی کہ وہ کلاس رومز سے ٹیچرز کی کرسیاں اٹھاکر لائیں اوران کے لیے اس طرح راستہ بنائیں!؟ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اترپردیش کے محکمہ تعلیمات نے اس خاتون ٹیچر کو خدمات سے معطل کردیاہے۔