وقارآبادضلع: تانڈور کی کاگنا ندی کے قدیم بریج کا ایک حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا
جیونگی میں مندر بھی زیرآب،ندی کے قریب موجود فصلوں کو نقصان
دوسال قبل تکمیل شدہ جدید بریج کا افتتاح کب؟
وقارآباد/تانڈور:27۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام)
وقارآبادضلع کے وقارآباد مستقر کے علاوہ دیگر منڈلات میں پیر کی رات ہونے والی شدید بارش کے باعث بشمول کوٹ پلی پراجکٹ ضلع کی دیگر ندیاں،تالاب اور نالے لبریز ہوگئے ہیں اور ان کے پشتوں سے زائد پانی کا اخراج جاری ہے۔کوٹ پلی پراجکٹ کے پشتہ سےخارج ہونے والا اور پدیمول منڈل میں ہونے والی بارش کا سیلابی پانی تانڈور سے چار کلومیٹر کے فاصلہ پرمحبوب نگر روڈ پر موجود کاگنا ندی میں پہنچتا ہے۔پھر وہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں داخل ہوجاتا ہے۔
کل اس ندی میں موجود 130 سال قبل نظام دؤر حکومت میں تعمیر کردہ بریج سیلابی پانی میں مکمل طور پر غرق ہوگیا تھا۔جب ندی کے پانی کی سطح کم ہوئی تو یہ قدیم بریج نظر آیا اور اس قدیم بریج کا محبوب نگر کی جانب والا حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ چار سال کے دؤران اسی بریج کا یہی حصہ تین مرتبہ سیلابی پانی میں بہہ چکا تھا جس کی عارضی طور پر مرمت کرتے ہوئے ٹریفک بحال کی گئی تھی۔
یہاں تعجب خیز بات یہ ہے کہ بنگلور۔ممبئی ہائی وے کی حیثیت رکھنے والی اس اہم شاہراہ پرجہاں سے دن رات ہزاروں گاڑیوں کا گزر ہوتاہے قدیم بریج کی شکستگی کو دیکھتے ہوئے زائداز پانچ سال قبل اس وقت کے وزیر ٹرانسپورٹ و موجودہ رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی کی نمائندگی پر کاگنا ندی پر متوازی ایک وسیع وعریض بریج کی تعمیر کے لیے حکومت نے 14 کروڑ روپئے منظور کیے تھے اور اس بریج کی تکمیل کو زائد از دو سال ہوگئے ہیں!!صرف اس بریج کی دونوں جانب لنک روڈ تعمیر کرنے کا کام چھوڑ دیا گیا ہے اور مٹی کے ذریعہ بریج کو عارضی طور پر جوڑا گیا ہے۔لیکن اس بریج کا باقاعدہ سرکاری طور پر افتتاح عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔

قدیم بریج کی بوسیدگی کو دیکھتے ہوئے اس بریج کے بہہ جانے سے قبل بھاری اورعوامی گاڑیاں اس جدید بریج پر سے ہی گزررہی ہیں جس کے آغاز اور اختتام پرمٹی ڈالی گئی ہے۔جبکہ چھوٹی گاڑیوں کا گزراسی قدیم بریج سے جاری تھا۔حتی کہ اس بریج میں بھی شگاف پڑجانے کی اطلاع ہے!اور اس میں جنگلی پودےاُگ آئے ہیں۔کل سیلابی پانی کے باعث اس جدید بریج کےایک حصہ کی مٹی بھی بہہ گئی ہے۔
رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی سے عوامی مطالبہ ہے کہ تانڈور سے چار کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود اس کاگنا ندی کے قدیم بریج کی دوبارہ مرمت کی جائے اور ساتھ ہی جدید بریج کے بقیہ کاموں کی فوری انجام دہی کے بعد اس بریج کا افتتاح عمل میں لایا جائے۔
دوسری جانب بشیرآباد منڈل کے موضع جیونگی میں کاگنا ندی کے کنارے موجود مہادیوا لنگیشورالیم مندر بھی کل ندی کے سیلابی پانی میں غرق ہوگئی تھیں۔پانی کی سطح کم ہونے کے بعد بھی یہ منادر ہنوز پانی میں محصور ہیں۔
یاد رہے کہ بشیرآباد منڈل کے ہی منتٹی موضع کا ساکن ایک کسان جوڑا پیر کے دن کاگنا ندی عبور کرنے کے دؤران پانی میں بہہ گیا تھا۔حالانکہ اس وقت ندی میں سیلابی پانی کا بہاؤ تیز نہیں تھا۔جن کی نعشیں آج تلنگانہ۔کرناٹک سرحد پرموجود کرناٹک کے موضع جیٹور میں ندی کے کنارے پودوں سے برآمد ہوئی ہیں۔

” پیر کی رات وقارآباد ضلع میں ہونے والی شدید بارش اور زیر آب کاگنا ندی کے بریج کی تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو اس لنک پر "

