وقارآبادضلع: تانڈور کی کاگنا ندی میں بہہ جانے والے
ایک کسان جوڑے کی نعشیں کرناٹک میں دستیاب
وقارآباد/تانڈور: 27۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)
وقارآباد ضلع کے اوپری علاقوں کوٹ پلی،پدیمول،دھارور،مومن پیٹ اور دیگر مقامات پر اتوار کو اور پیر کی رات ہونے والی شدید ترین بارش کے باعث تانڈور سے گزرنے والی کاگنا ندی میں سیلابی پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔کل منگل کی صبح سے اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوا جس کے باعث کاگنا ندی میں موجود قدیم بریج مکمل طور پر زیر آب آگیاتھا۔کاگنا ندی کا یہ سیلابی پانی قدیم تانڈورکی جانب کاگناندی میں تعمیر کردہ چیک ڈیم میں ذخیرہ ہونے کے بعد ریاست کرناٹک میں داخل ہوجاتا ہے۔چیک ڈیم بھی اس سیلابی پانی میں غرق ہوچکا ہے۔
اسی دؤران کاگناندی نے ایک کسان جوڑے کونگل لیا جن کی نعشیں آج پڑوسی ریاست کرناٹک کے علاقہ میں ندی کے کنارےبرآمد ہوئی ہیں۔
اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق بشیر آباد منڈل کےموضع منتٹی کا ساکن کسان جوڑا این۔بگپا اور اس کی بیوی یادماں منتٹی کےقریب مولاگڈہ میں موجود اپنی زرعی اراضی میں ترکاریوں کی کاشت کرتے تھے۔یہ جوڑا زیادہ تر رات دن اپنے کھیت میں ہی مقیم رہ کرترکاریوں کی کاشت کیا کرتا تھا اور کاگنا ندی عبور کرتے ہوئے تانڈور منڈل کے چندراونچہ موضع کو لے جاکر اپنی ترکاریاں فروخت کرتے ہوئے زندگی بسر کررہا تھا۔
اتوار کے دن دونوں شوہر اور بیوی بگپا اور یادماں حسب معمول ترکاریاں لے کرموضع چندراونچہ پہنچے اور کل پیر کی صبح چندراونچہ سے منتٹی واپسی کے دؤران کاگنا ندی کو عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ ندی میں سیلابی پانی ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ندی عبور کرنے کی کوشش میں یہ کسان جوڑا تیز سیلابی پانی میں بہہ گیا۔اس کے بعد ان کا اکلوتا بیٹاانہیں تلاش کرنے میں مصروف تھا۔
اسی دؤران تلنگانہ اور کرناٹک کی سرحد پر موجود کرناٹک کے موضع جیٹورسے آج صبح یہ اطلاع موصول ہوئی کہ وہاں کاگناندی کے کنارے دو نعشیں بہہ کر آئی ہیں۔اطلاع پر اس کسان جوڑے کا بیٹا اور موضع کے لوگ جائے مقام پر پہنچ گئے۔شناخت کے بعد یہ دونوں نعشیں کسان جوڑے کی ہی تھیں۔پولیس کو اطلاع دی گئی بعدازاں پولیس نے جائے مقام پر پہنچ کر بعد پنچنامہ دونوں نعشوں کو پوسٹ مارٹم کی غرض سے تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال منتقل کردیا۔


