صدرنشین بلدیہ تانڈور کی ڈھائی سالہ معیاد ختم، عہدہ کی منتقلی سے انکار، معاملہ ٹی آر ایس پارٹی ہائی کمان تک پہنچ گیا

صدرنشین بلدیہ تانڈور کی ڈھائی سالہ معیاد ختم
عہدہ کی منتقلی سے انکار،معاملہ ٹی آر ایس پارٹی ہائی کمان تک پہنچ گیا
تحریری معاہدہ کے مطابق صدرنشین بلدیہ عہدہ سے ہٹ جائیں
رکن اسمبلی روہت ریڈی کا مطالبہ،پارٹی کے دونوں گروپس بضد

وقارآباد/تانڈور: 28۔جولائی(سحرنیوز ڈاٹ کام)

صدرنشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کی ڈھائی سالہ معیاد کا کل 27 جولائی کو اختتام ہوگیا ہے۔لیکن انہوں نےاپنے اس عہدہ سےمستعفی ہونے کا اور عہدہ کی منتقلی کا اعلان نہیں کیا۔قریبی ذرائع کے مطابق صدرنشین بلدیہ نے اپنےعہدہ سےمستعفی نہ ہونے کا اعلان کیا ہے اور وہ اس معاملہ میں بضد ہیں۔!! اس سے صدرنشین بلدیہ اور ان کے شوہر تاٹی کونڈا پریمل خود حالیہ دنوں میں بارہا مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی پانچ سالہ معیاد مکمل کریں گی۔ان کاکہنا ہے کہ عہدہ کے حصول کے بعد کوروناوائرس کی وبا کا آغاز ہوا تھا۔اسی میں زائداز دیڑھ سال گزرگئے۔

واضح رہےکہ تانڈور میں ٹی آر ایس پارٹی دوگروپوں میں منقسم ہے۔ایک گروپ رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی کا اور دوسرا گروپ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کا ہے۔جبکہ ان دونوں قائدین کے درمیان معاملہ ایسا ہے کہ ان کے سامنے ہری گھانس بھی ڈال دی جائے تو اس میں بھی آگ لگ جائے!!

صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کا تعلق ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی گروپ سے ہے اور نائب صدرنشین بلدیہ پٹلولا دیپا نرسملو کا تعلق پائلٹ روہت ریڈی گروپ سے ہے۔اسی طرح ٹی آر ایس پارٹی کے ارکان بلدیہ،قائدین اور کارکن بھی ان دونوں گروپوں میں منقسم ہیں۔

کل 27 جولائی کو معیاد کے اختتام کے بعد صدرنشین بلدیہ کی جانب سے عہدہ مستعفی ہونے سے انکار کے بعد سیاست تیز اور گرم ہوگئی ہے۔پارٹی ذرائع کے بموجب اب یہ معاملہ پارٹی ہائی کمان تک پہنچ گیا ہے۔اور اس سلسلہ میں ہائی کمان نے ثالثی کے ذریعہ اس مسئلہ کےحل کے لیے ریاستی وزیرتعلیم مسز پی۔سبیتا اندرا ریڈی اور ریاستی وزیر تلسانی سرینواس یادو کو مقرر کیا ہے!

اس معاملہ میں رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی سخت تیور اپنائے ہوئے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ معیاد کی تکمیل کے بعدصدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل فوری اخلاقی طور پر اپنے عہدہ سے ہٹ جائیں اور ڈھائی سال قبل کیے گئے تحریری معاہدہ کے تحت موجودہ نائب صدر نشین بلدیہ پٹلولا دیپا نرسملو کو صدارت کا عہدہ حوالے کردیں۔

آج مختلف میڈیا سے بات کرتے ہوئےانہوں نے انکشاف کیا کہ ڈھائی سال قبل وزرا،ارکان قانون سازکونسل،ارکان اسمبلی اور ارکان بلدیہ کی موجودگی میں ہی ڈھائی سالہ معیاد کا تحریری معاہدہ کیا گیا تھا۔رکن اسمبلی نے کہا کہ انہیں صدرنشین بلدیہ سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اس معاملہ کو پارٹی ہائی کمان سے رجوع کیا جائے گا اور کسی بھی حال ڈھائی سال قبل کیے گئے معاہدہ پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ڈھائی سال قبل جنوری 2020ء میں منعقدہ بلدی انتخابات کے موقع پر وقارآباد ضلع کے تانڈور کی 36 رکنی مجلس بلدیہ میں ٹی آر ایس پارٹی کے 18 امیدوار کامیاب ہوئے تھے اور صدرنشین بلدیہ کے عہدہ کے حصول کے لیے 19 ارکان بلدیہ کی عددی طاقت ضروری تھی۔تاہم اس وقت کامیابی حاصل کرنے والے دو آزاد ارکان بلدیہ مختار احمد ناز اور بھیم سنگھ راتھوڑ کی تائید اور انہیں پارٹی میں شامل کرتے ہوئے صدرنشین بلدیہ کے عہدہ پر ٹی آرایس نے قبضہ کیا تھا۔

اسی طرح اس وقت بی جے پی کے 7،کانگریس کے 4،مجلس اتحادالمسلمین کے 3،سی پی آئی اور ٹی جے ایس کے ایک،ایک امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

جنوری 2020ء میں صدرنشین بلدیہ تانڈور کے عہدہ کے لیے رکن قانون ساز کونسل گروپ سے وابستہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل اور رکن اسمبلی گروپ کی جانب سے پٹلولا دیپا نرسملومضبوط دعویدار تھیں۔ٹی آر ایس پارٹی ذرائع کےمطابق اس عہدہ کے لیے طویل رسہ کشی کے بعد جنوری 2020ء میں رکن قانون سازکونسل اور رکن اسمبلی تانڈور کے درمیان پارٹی قیادت کی مداخلت کے بعد معاہدہ ہوا تھا کہ اس عہدہ کے لیے پہلے کے ڈھائی سال تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کوصدرنشین بلدیہ تانڈور کی ذمہ داری تفویض کی جائے گی اور پٹلولا دیپا نرسملو کو نائب صدرنشین بلدیہ کا عہدہ دیا جائے گا۔بعدازاں مزید ڈھائی سال پٹلولا دیپا نرسملو کو صدرنشین بلدیہ کا عہدہ منتقل کردیا جائے گا۔

اس طرح موجودہ صدرنشین بلدیہ کی ڈھائی سالہ معیاد کل 27 جولائی کوختم ہوگئی۔لیکن چند ماہ سے اس عہدہ کی منتقلی کو لے کر ٹی آر ایس پارٹی کے دونوں گروپوں میں رسہ کشی کاسلسلہ جاری ہے۔صدرنشین بلدیہ سواپنا پریمل اس عہدہ کو چھوڑنے سے انکار کررہی ہیں۔

اسی دؤران جاریہ ماہ بی جے پی کی دو ارکان بلدیہ سندھوجا گوڑ اور سنگیتا ٹھاکر نے رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی کی قیادت میں کارگزار صدر ٹی آر ایس کے ٹی آر اور وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی سے علحدہ علحدہ ملاقات کرتے ہوئے ٹی آرایس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ان کے ساتھ سی پی آئی کےواحد رکن بلدیہ وفلورلیڈر محمد آصف بھی ٹی آرایس پارٹی میں شامل ہوگئے۔اس طرح 36 رکنی مجلس بلدیہ تانڈور میں موجودہ طور پر ٹی آر ایس کے 23 ارکان بلدیہ ہیں،تاہم یہ رکن قانون ساز کونسل اور رکن اسمبلی کےگروپس میں تقسیم ہیں۔وہیں بی جے پی کے پانچ،  کانگریس کے چار،مجلس اتحادالمسلمین کے تین اور تلنگانہ جناسمیتی(ٹی جے ایس )کے ایک رکن بلدیہ ہیں۔

اب صدرنشین بلدیہ کے عہدہ کی منتقلی کے متعلق جہاں خود ٹی آر پارٹی میں رسہ کشی جاری ہے وہیں عوام میں بھی تجسس پایا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کسی بھی طرح اپنے گروپ سے وابستہ موجودہ نائب صدرنشین بلدیہ پٹلولا دیپا نرسملو کو صدرنشین بلدیہ کے عہدہ پر براجمان دیکھنا چاہتے ہیں۔وہیں ایسی اطلاعات بھی زیر گشت ہیں کہ رکن قانون سازکونسل ڈاکٹر پی۔مہنیدر ریڈی موجودہ صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کو ہی اس عہدہ پر برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔!!اور ان دونوں گروپوں کا دعویٰ ہے کہ درکار ارکان بلدیہ کی تعداد ان کے پاس موجود ہے!!

بہر حال اب یہ مسئلہ ٹی آرایس پارٹی ہائی کمان کےلیے درد سر بن گیا ہے۔وہیں رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندر ریدی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی انا کا مسئلہ بھی!!۔

یہی تنازعہ وقارآباد کی بلدیہ میں بھی جاری ہے۔جہاں صدرنشین بلدیہ سی۔منجولا رمیش نے ڈھائی سالہ معیاد کےاختتام پرمستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔جبکہ رکن اسمبلی وقارآباد و ٹی آر ایس پارٹی صدر ضلع وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند کا مطالبہ ہے کہ صدرنشین بلدیہ وقارآباد,اپنےعہدہ کی معیاد کی تکمیل کےبعد عہدہ سے ہٹ جائیں۔تاہم تانڈور اور وقارآباد کی صدورنشین بلدیات اپنے اپنے عہدوں سےمستعفی نہ ہونے کے لیے بضد ہیں۔