جاگ اُٹھے عوام !!
فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف کل 4 ڈسمبر کو تانڈور بند
کل سے غیر معینہ مدت تک زنجیری بھوک ہڑتال کا آغاز
عوام سے تعاون کی اپیل،حکومتی سطح پر اقدامات تک احتجاج جاری رہے گا
وقارآباد/تانڈور: 03۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ کئی سال سے ضلع وقارآباد کے تانڈور ٹاؤن میں موجود خطرناک فضائی آلودگی اور یہاں کی خراب سڑکیں عوام کے لیے شدید وبال جان بنی ہوئی ہیں۔اس فضائی آلودگی کے باعث تانڈور میں امراض قلب،گردوں کا عارضہ، دمہ،سانس کی بیماریاں،جلدی بیماریوں سمیت مختلف بیماریاں عام ہیں۔

تانڈور کی اس فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف نوجوان کئی مرتبہ احتجاج کرچکے ہیں وہیں چار دن قبل انتارام کے ساکن محمد رضوان اور بوئنی امبریش بھی انوکھا احتجاج کرکے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ تانڈور کی اس حالت زار کو آشکار کرچکے ہیں۔
لیکن افسوس پھر بھی اس جانب نہ حکومت متوجہ ہوئی، نہ ضلع انتظامیہ نے کوئی اقدام کیا اور نہ ہی یہاں کے منتخبہ عوامی نمائندوں بشمول رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اور رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر مہندرریڈی اس جانب متوجہ ہوئے!!
بالآخر یہاں کے سماجی نمائندوں نے آج ایک اجلاس طلب کیا اور ” تانڈور ڈیولپمنٹ فورم ” تشکیل دیتے ہوئے آج اعلان کیا ہے کہ تانڈور کی فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف کل 4 ڈسمبر بروز ہفتہ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر " تانڈور بند ” منائیں۔

تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں سید کمال اطہر اور گوپال بھاگرے نے اس تانڈور بند کے دؤران تمام کاروباری اور تجارتی ادارے،تمام اسکولس اور کالجس کو بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔اور تانڈور کے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے وہ آگے آئیں اور تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کا ساتھ دیں کیونکہ صاف و شفاف ہوا، پانی اور بہتر سڑکیں عوام کا جمہوری حق ہے۔
” تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں کا بیان ” (ویڈیو)
ساتھ ہی تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں سید کمال اطہر اور گوپال بھاگرے نے واضح کیا ہے کہ یہ احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی قائد یا حکومت کے خلاف یا تائید میں نہیں ہے اس کا مقصد صرف تانڈور کے عوام کو درپیش ان خطرناک مسائل کو حل کروانا مقصد ہے اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر تانڈور کے ساتھ ساتھ صاف و شفاف ہوا، پانی اور بہتر سڑکیں فراہم کرنا ہے۔
ساتھ ہی تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں سید کمال اطہر نے اعلان کیا ہے کہ کل 4 ڈسمبر بروز ہفتہ تانڈور بند کے ساتھ ساتھ کل سے ہی تانڈور کے امبیڈکر چوک پر تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کی جانب سے غیر معینہ مدت کے لیے”زنجیری بھوک ہڑتال ”
Indefinite Relay Hunger Strike ” کا آغاز کیا جائے گا۔اس زنجیری بھوک ہڑتال میں بھی بڑے پیمانے پر حصہ لینے کی عوام بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی گئی ہے۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ سمنٹ، پتھر اور سدہ کی معدنیات وصنعتوں اور تور دال کی پیداوار کی وجہ سے پورے ملک میں اپنی شناخت رکھنے والے تانڈور میں فضائی آلودگی کے ساتھ سڑکیں بھی انتہائی ابتر حالت میں موجود ہیں۔نئی سڑکیں بچھانا تو دور ان کی مرمت کی جانب بھی نہ منتخبہ عوامی نمائندوں کا دھیان جاتا ہے اور نہ ہی محکمہ آر اینڈ بی کے عہدیدار خوب غفلت سے جاگنے تیار ہیں! ان سڑکوں پر ہونے والے حادثات سے اب تک کئی قیمتی انسانی جانیں تلف ہوچکی ہیں اور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

کرناٹک ریاست کی سرحد پر موجود تانڈور میں موجود چارسمنٹ فیکٹریز، ہزاروں شاہ آباد پتھر(سنگ سیلو) کی معدنیات اورصنعتوں،سدہ کی معدنیات کے علاوہ تور کی دال کی پیداوار اور یہاں موجودسینکڑوں چھوٹے بڑے کارخانوں،ہزاروں ٹرکس اورمختلف چھوٹی بڑی سینکڑوں گاڑیوں کے ذریعہ حکومت کو سالانہ کروڑہا روپئے کے برقی بلس،رائلٹی،جی ایس ٹی،وہیکل ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کی شکل میں حاصل ہوتے ہیں۔
” گزشتہ زائد از دس سال سے تانڈور کی فضائی آلودگی اور اس کے خلاف گرین ٹریبونل میں جاری کیس اور تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے موقف سے متعلق مکمل تفصیلات پر مشتمل سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس خصوصی رپورٹ میں پڑھی جاسکتی ہیں،ویڈیوس اور تصاویر دیکھ کر بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تانڈور کی حالت کیا ہے! "۔
تانڈور کی فضائی آلودگی کیلئےسمنٹ فیکٹریز ذمہ دار نہیں! تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی رپورٹ

