چلتی ٹرین سے اترنے کی کوشش
آر پی ایف انسپکٹر نے ٹرین اور پلیٹ فارم کے درمیان پھنسی ہوئی خاتون کی جان بچائی
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
پرولیا/مغربی بنگال: 03۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ڈیوٹی پر موجود ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے ایک سب انسپکٹر نے چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی برق رفتاری کے ساتھ ٹرین کے ساتھ ہی دؤڑتے ہوئے بنگال کے پرولیا ریلوے اسٹیشن پر ایک خاتون مسافر کی جان بچائی جو چلتی ایکسپریس ٹرین سے اترنے کی کوشش میں اپنا توازن کھو بیٹھی اور ٹرین اور پلیٹ فارم کے درمیان تقریباً گر گئی تھی۔

آرپی ایف اڈرا ڈیویژن کے ٹوئٹر ہینڈل پر اس سنسنی خیز واقعہ کا سی سی ٹی وی فوٹیج ٹوئٹ کیا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں باآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ دو خواتین جو ساڑی پہنی ہوئی ہیں سنترا گاچی-آنندوہارایکسپریس کے پلیٹ فارم سے رفتار پکڑنے کے فوری بعد اس ٹرین کی بوگی سے پلیٹ فارم پر اترنے کوشش کرتی ہیں۔
ان میں سے ایک خاتون ٹرین سے تھوڑی دور پلیٹ فارم پر گرجاتی ہے۔وہیں دوسری خاتون اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے اور خطرناک حد تک ٹرین اور پلیٹ فارم کے درمیان کے فاصلے میں پھنس جاتی ہے۔

اسی دؤران آر پی ایف سب انسپکٹر ببلو کمار ٹرین کے ساتھ ہی دؤڑ لگاتے ہوئے عین وقت پر اس خاتون کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اس خاتون کو پلیٹ فارم اور ٹرین کے درمیان سے کھینچ کر بحفاظت پلیٹ فارم پر لے لیتے ہیں۔
پلیٹ فارم پر موجود کئی دوسرے لوگ بھی اس خاتون کی مدد کے لیے دؤڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جن میں ایک مسافر بھی شامل ہے جو اسے بچانے کے لیے کودنے کی کوشش کرتا ہے۔

” اس واقعہ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "
چلتی ٹرینوں میں سوار ہونے یا اترنے کی عادت بالخصوص ساڑی یا برقعہ پہنی ہوئیں خواتین کے لیے انتہائی خطرناک مانی جاتی ہے جس کے خلاف ریلوے عہدیدار متنبہ بھی کرتے رہتے ہیں۔تاہم اس کے باوجود مسافر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔
یہ جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ ہوتا ہے کہ غلط ٹرین میں سوار ہوگئے یا پھر کوئی ساتھی مسافر سوار نہیں ہوا۔لیکن یاد رہے کہ اس طرح اچانک لیا جانے والا فیصلہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر ٹرین سے اترنے لازمی ہو تو اس بات کا خیال رکھا جانا ضروری ہوتا ہے کہ اگلے اسٹیشن تک سکون سے سفر کرلیا جائے۔اپنے موبائل فون کے ذریعہ اپنوں کو اطلاع دی جائے اور اگلے اسٹیشن پر اتر کر کسی ٹرین یا دیگر ذرائع سے واپس ہوا جاسکتا ہے یا پھر اگلے اسٹیشن پر اتر کر اپنے ساتھی مسافرین کا انتظار بھی کیا جاسکتا ہے۔! کیونکہ ٹرینیں آتی اور جاتی رہتی ہیں ایک چھوٹ گئی تو دوسری مل جاتی ہے لیکن یاد رہے کہ ” زندگی نہ ملے گی دوبارہ "!!

