تانڈور کی فضائی آلودگی کیلئےسمنٹ فیکٹریز ذمہ دار نہیں! تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی رپورٹ

تانڈور کی فضائی آلودگی کیلئے سمنٹ فیکٹریز ذمہ دار نہیں
نیشنل گرین ٹریبونل میں تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی رپورٹ
خطرناک فضائی آلودگی اورسڑکوں کی ابترحالت سے پریشان عوام میں مایوسی
آلودگی کے خاتمہ کیلئے کوئی اقدامات نہیں!

وقارآباد/تانڈور:
(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

گزشتہ زائد از دس سال سے تانڈور فضائی آلودگی کی شدید لپیٹ میں ہے خطرناک فضائی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔جس کے خلاف صدر سٹیزن ویلفیئرسوسائٹی تانڈور راج گوپال سارڈا کی متعدد شکایتوں کے بعدتلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کیجانب سے یہاں فضائی آلودگی ناپنے والے آلہ کیساتھ 17؍ ڈسمبر 2015ء کو حیدرآباد روڈ پرلاری پارکنگ کے علاقہ میں 8؍گھنٹوں تک آلودگی کو ریکارڈ کیا گیا تھا جسکے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ تانڈور میں تمام اقسام کی دھول ، مٹی اور دیگر عوامل پر مشتمل فضائی آلودگی کی شرح 622؍ ملی گرام ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے طئے کردہ قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی شہر کی فضائی آلودگی فی کیوبک میٹر 100؍ملی گرام ہونی چاہئے!

بعد ازاں راج گوپال سارڈ ا نے فضائی آلودگی کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے2016ء میں ریاستی ہائیکورٹ کی ہدایت پرنیشنل گرین ٹریبیونل پرنسپل بنچ چنئی سے پھر 2018ء میں نیشنل گرین ٹریبیونل پرنسپل بنچ دہلی میں 8؍سرکاری محکمہ جات اور یہاں کی پانچ سمنٹ فیکٹریز کے انتظامیہ کو فریق بناتے ہوئے کیس دائر کیا تھا۔

جہاں تین رکنی بنچ کی تشکیل کے بعد اس ٹریبونل کے معززچیئر مین جسٹس آدرش کمار گوئل، جسٹس ایس پی وانگڑی جوڈیشیل رکن اورڈاکٹر ناگن ننداایکسپرٹ ارکان نے 29؍ا گست 2019ء کو مرکزی اور ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایت جاری کی تھی کہ اس سلسلہ میں تانڈور میں مؤجودہ فضائی آلودگی کا تناسب او ر ماضی میں ریکارڈ کیے گئے تناسب کے بعد آلودگی کے خاتمہ کیلئے کیے گئے اقدامات پر مشتمل رپورٹ دی جائے۔

بعدازاں 22؍ستمبر 2019ء کو مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ اور ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے بنگلورو اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کی ٹیم نے تانڈور کے مختلف مقامات پر آلات نصب کرکے یہاں کی فضائی آلودگی کے تناسب کی پیمائش کی تھی۔

آج ذرائع سے دستیاب اطلاع کے بموجب تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈکی جانب سے نیشنل گرین ٹریبونل دہلی کی سدرن بنچ میں داخل کی گئی رپورٹ میں تانڈور میں موجود سمنٹ فیکٹریز کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تانڈور کی فضائی آلودگی کیلئے سمنٹ فیکٹریز براہ راست ذمہ دار نہیں!

بلکہ سڑکوں کی ابتر حالت ، سڑکیں بچھانے اور دیگر سرکاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے تانڈور میں فضائی آلودگی پیدا ہورہی ہے !اور ساتھ ہی بھاری گاڑیوں کے ذریعہ مختلف اشیاء کی منتقلی بھی فضائی آلودگی کی وجوہات میں شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تانڈور کے تین مقامات پر فضائی آلودگی طئے شدہ آلودگی کے مطابق ہی ہے جبکہ صرف گوتاپور روڈ پر ایچ پی پٹرول بنک ،(فیاض اینڈ کمپنی)،گوتاپور اور تانڈور میں ہی فضائی آلودگی کا تناسب بڑی تعداد میں گاڑیوں کی حمل و نقل کے باعث زیادہ ہے اور گوتاپور روڈ پر سڑک کا تعمیری کام بھی جاری ہے۔

اور اس سلسلہ میں تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے محکمہ آراینڈ بی کے عہدیداروں کو اس جانب توجہ دلائی ہے کہ فضائی آلودگی کے خاتمہ کیلئے اقدامات کیے جائیں جس پر محکمہ آراینڈ بی کے عہدیداروں نے جواب دیا ہے کہ 31؍مئی تک اس سڑک کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔

چنگیز پور روڈ پر فضائی آلودگی کا منظر۔

تانڈور کی خطرناک فضائی آلودگی کی بات کی جائے تو کئی بلدی حلقے،اہم تجارتی و کاروباری علاقے بھی فضائی آلودگی کی شدید لپیٹ میں ہیں انسانی سروں ، کپڑوں کے علاوہ گاڑیوں،سڑکوں پر کھلے عام فروخت کی جانے والی غذائی اور دیگر اشیاء کے علاوہ یہاں کے درخت،پیڑ اور پودوں پربھی ہمیشہ دھول اور مٹی کی دبیز چادرکی موجودگی یہاں کے عوام کا مقدر بن کر رہ گیا ہے! یاد رہے کہ 2018ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر تانڈور کی فضائی آلودگی بھی ایک انتخابی ایشو تھا! یہاں فضائی آلودگی کے خاتمہ کیلئے "ٹاور نصب ” کرنے کا اعلان بھی اب تک تو محبوب کے وعدہ کی طرح ہی ثابت ہوا ہے۔!

فضائی آلودگی کے باعث یہاں کے زیادہ تر درختوں اور پودوں پر دھول اور مٹی کا ذخیرہ۔

عوام یہاں کی خراب سڑکوں،سڑکوں کے کنارے اور سڑکوں پر موجود مٹی اور دھول کا ذخیرہ ،اس سے اُڑتی ہوئی دھول اور مٹی پر حکومت ،سرکاری انتظامیہ اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی پر برہم ہیں اور سوشیل میڈیا پر اڑتی ہوئی دھول،دھول میں لت پت گاڑی سواروں کی تصاویر کیساتھ اکثرسوال اٹھایا جاتارہا ہے کہ آخر تانڈور کے عوام کو کس گناہ کی سزاء دی جارہی ہے اور کیوں یہاں کی خطرناک فضائی آلودگی کے خاتمہ یا پھر اس میں کمی کیلئے اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں!اس سلسلہ میں سوشیل میڈیا پر کئی میمیس بناکر بالخصوص گوتاپور روڈ پر موجودفضائی آلودگی کا مذاق اڑایا جارہا ہے ساتھ ہی عوامی منتخبہ نمائندوں کو اس جانب راغب بھی کروایا جارہا ہے۔

گوتاپور روڈ کی حالت زار اور فضائی آلودگی پر بنایا گیا میم  Meme جو سوشیل میڈیا پر وائرل ہے۔

سوشیل میڈیا پر تانڈور کی آلودگی پر بنایا گیا میم Meme- (ویڈیو) 

اس فضائی آلودگی سے محفوظ رہنے کی غرض سے گزشتہ سال کورونا وائرس کی وباء کے آغاز سے قبل ہی سے یہاں عوام ماسک کا استعمال کرنے پر مجبور تھے۔اس فضائی آلودگی کے باعث تانڈور میں گزشتہ 6؍سال کے دؤران امراض قلب ، پھیپھڑوں ، دمہ ، سانس لینے میں تکلیف ، امراض جلد کیساتھ ساتھ گردوں کے امراض اور اموات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جارہا ہے تاہم اسکے باؤجودبھی حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور خود یہاں کے منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی معنی خیز ہے!!

یہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہاں موجود سمنٹ فیکٹریز، پتھر کی صنعتوں ، سدہ اور لال مٹی کی کانکنی ، لاریوں کے ٹیکس ، معدنیات کی رائلٹی کے علاوہ گنج اور دیگر ذرائع سے سالانہ کروڑہا روپئے کا ٹیکس حاصل ہوتا ہے پھر تانڈور کی ترقی کیلئے اور اس فضائی آلودگی کیلئے کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے ہیں؟ 

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ تانڈور سے 15 ؍ کلومیٹر کے فاصلہ پر مؤجود ایشیا کی دوسری سب سے بڑی سرکاری سمنٹ فیکٹری سی سی آئی ،پینا سمنٹ، انڈیا سمنٹ ، وکاٹ ساگرسمنٹ اوروساکھا سمنٹ جیسی پانچ سمنٹ فیکٹریز اورسینکڑوں پتھرکی اور دیگر صنعتیں موجود ہیں اسی طرح یہاں زمین سے نکلنے والے سدہ اور لال مٹی کی کانکنی بھی ہوتی ہے۔ تانڈور سے ملک کے کونے کونے تک سمنٹ ، پتھر ، سدہ اور لال مٹی منتقل کرنے کیلئے روزآنہ زائد از 4؍ ہزار بھاری ٹرکس اور سمنٹ ٹینکرس کی آزادانہ آمدورفت ہوتی ہے جبکہ بھاری ٹرکس کے ذریعہ ان سمنٹ فیکٹریز کو لال مٹی، جپسم ، کوئلہ بھی روزآنہ بڑی تعداد میں درآمد کیا جاتا ہے۔

تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے خود اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے تانڈور تا گوتاپور کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے کیونکہ اسی سڑک سے ہوکر کرناٹک کے علاوہ تمام پانچوں سمنٹ فیکٹریز ، پتھر کی معدنیات کو روزآنہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں اس سڑک کی حالت انتہائی ابتر ہے دو ماہ قبل اس سڑک کے تعمیراتی کاموں کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اب یہ کام روک دیا گیا ہے جسکے باعث دن رات اس سڑک پرگاڑیوں کے گزرنے کے دؤران مٹی اور دھول کا غبار اس طرح اڑتا رہتا ہے کہ راستہ نظر نہیں آتا!!

افسوسناک پہلو یہ بھی ہیکہ تانڈور میں اس جان لیوا فضائی آلودگی کے باؤجود بڑے پیمانے پرشجر کاری پر نہ عہدیدار دھیان دے رہے ہیں اور نہ ہی عوام!! یا پھر شجر کاری کے بعد ان پودوں کو بچانے کے اقدامات ہی کیے جاتے ہیں۔

تانڈور کی انتہائی پاش مانی جانے والی شانتی نگر کالونی کا پارک۔

اسی طرح تانڈور کے عوام کی یہ بھی بدقسمتی ہیکہ تازہ ہوا اور چہل قدمی کیلئے ایک ڈھنگ کا پارک بھی انہیں نصیب نہیں ہے!!

ابتر حالت میں موجود یہاں کا شانتی نگر پارک دیکھا جاسکتاہے۔ (ویڈیو)

فضائی آلودگی کیخلاف دس سال سے جدوجہد میں مصروف مسٹر راج گوپال سارڈا۔

گزشتہ سال سے بناء کسی اپنے ذاتی مفاد کے تانڈور کی فضائی آلودگی کیخلاف ہائیکورٹ،نیشنل گرین ٹریبونل چنئی اور دہلی سے رجوع ہوکر مہم چلانے میں مصروف صدر سٹیزن ویلفیئرسوسائٹی تانڈور راج گوپال سارڈا  کا مطالبہ ہیکہ یہاں مؤجود سمنٹ فیکٹریز سے ہزاروں کروڑ کا منافع حاصل کرنے والی مرکزی حکومت اور سمنٹ فیکٹریز کا انتظامیہ اس آمدنی میں سے 10؍تا 20؍فیصد حصہ تانڈور کیلئے مختص کرے راج گوپال سارڈا کا کہنا ہیکہ آلودگی سے پاک صاف ہوا، پانی اور کشادہ سڑکیں عوام کا جمہوری حق ہیں۔

اگر تانڈور میں موجود فضائی آلودگی کو ختم یا کم کرنے کے اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں تو پھر آنیوالی نسلیں ہمارا گریبان پکڑ کر ضرور پوچھیں گی کہ فضائی آلودگی کے خاتمہ کیلئے کیا کیا تھا؟ اور ہم اس گھٹن بھرے ماحول میں سانس کیسے لیں!!

تانڈور کی فضائی آلودگی کی حالت اس ویڈیو پر دیکھی جاسکتی ہے۔