صدر اشرف غنی افغانستان سے تاجکستان روانہ!
کابل اور صدارتی محل طالبان کے قبضہ میں،میڈیا رپورٹس
کابل:15۔اگست (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
افغانستان سے میڈیا کے ذریعہ مستقل ایسی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ کابل طالبان کے حوالے کردیا گیا ہے اور افغانستان کے دارلحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کی خبریں موصول ہونے کے بعد صدر اشرف غنی کابل سے چلے گئے ہیں۔
آج رات سوا دس بجے کی غیر ملکی میڈیا اطلاعات میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کابل کے کچھ علاقوں میں لوٹ مار کی اطلاع پر طالبان فورسیس نے مورچہ سنبھال لیا ہے۔

افغان میڈیا نے صدر اشرف غنی کے افغانستان چھوڑنے کی تصدیق کردی ہے۔ادھر دفتر افغان صدارت کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کے سبب اشرف غنی کی نقل و حرکت کے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا جاسکتا۔
دوسری جانب افغان وزارت داخلہ کے سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر افغانستان اشرف غنی تاجکستان روانہ ہوگئےہیں۔واضح رہے کہ آزاد ذرائع نے تاحال افغان صدر کے کابل چھوڑنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔وہیں برطانوی میڈیا بھی یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کابل سے تاجکستان پہنچ گئے ہیں۔
اس سے قبل افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی نے کابل کا دفاع کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔علاوہ ازیں طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ ہم پُرامن اور جلد اقتدار کی منتقلی کے منتظر ہیں۔
خبر رساں ادارے ” اسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) ” کے مطابق افغان سیکیورٹی کونسل کے مشیر اور سابق صدر حامد کرزئی کے آفس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
اے پی کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ صدر اشرف غنی کے ہمراہ افغان قومی سلامتی کے مشیر محب اللہ محب بھی وطن چھوڑ چکے ہیں۔تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ صدر اشرف غنی افغانستان سے کونسے ملک منتقل ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ” رائٹرس ” نے وزارت داخلہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اشرف غنی کابل سے تاجکستان چلے گئے ہیں۔
طالبان کے ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کابل میں مذاکرات کے بعد اتوار کو صدر اشرف غنی نے استعفیٰ دے دیا ہے جسے منظور کر لیا گیا ہے۔
طالبان نے مزید بتایا ہے کہ افغان رہنما اور عمائدین قطر کے دارالحکومت دوحہ جائیں گے جہاں طالبان کو اقتدار کی منتقلی کا عمل طے پائے گا۔واضح رہے کہ افغان صدارتی محل کی جانب سے اب تک فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔اس سے قبل افغانستان کے قائم مقام وزیرِ داخلہ عبدالستار مرزکوال نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ کابل میں پرامن طریقہ سے اقتدار کی منتقلی کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں اور ایک معاہدے کے تحت عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
” رائٹرس ” کی تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ طالبان نے افغان صدر کے محل کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے!
ہندوستانی نیوز چینل پر صدر افغانستان اشرف غنی کی اپنے صدارتی محل میں طالبان کے نمائندوں سے بغلگیر ہوتے ہوئے ایک تصویر دکھائی جارہی ہے کہ افغان صدر نے اپنے محل میں خود طالبان کا استقبال کیا ہے! اور سوال کیا جارہا ہے کہ اس کی ” کرونا لوجی ” کیا ہے؟
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ” ٹولو نیوز ” کو بتایا کہ طالبان فورس کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کابل شہر میں داخل ہوجائیں ساتھ ہی انہوں نے نیوز ایجنسی ٹولو کو بتایا کہ کابل میں سیکورٹی حالات قابو میں ہیں۔
برطانوی میڈیا نے تاجکستان کے میڈیا کے حوالے سے آج رات دیر گئے کہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح کابل سے تاجکستان پہنچے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ دونوں” دوشنبے ” میں موجود ہیں۔
وہیں تاجکستان کے میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح تاجکستان سے کسی اور ملک روانہ ہوں جائیں گے!!

