افغان صدر اشرف غنی نے فیس بک کے ذریعہ ملک چھوڑنے کی وجہ بتائی
طالبان ” امارات اسلامیہ افغانستان ” کا اعلان کرسکتے ہیں : میڈیا رپورٹس
کابل:16۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
افغان صدر اشرف غنی جو کہ طالبان کے کابل میں داخل ہوجانے کی اطلاع کے فوری بعد افغانستان چھوڑکر تاجکستان پہنچ گئے ہیں( ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اشرف غنی تاجکستان سے تاشقند،ازبیکستان گئے ہیں) نے خود اپنے ” آفیشل فیس بک پیج ” پر ایک پوسٹ لکھتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ اس سے خون خرابہ کو روکا جائے اور افغانی عوام کا تحفظ کیا جاسکے۔

اشرف غنی نے اپنے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ میں نے گزشتہ 20سال افغانستان کی حفاظت پر صرف کیے۔اشرف غنی نے لکھا ہے کہ طالبان نے بندوقوں اور تلواروں کے زور پر فیصلہ جیت لیا ہے اور اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے عوام، ان صحت اور عزت نفس کا تحفظ کریں۔
اشرف غنی کے فیس بک پوسٹ کا انگریزی ترجمہ:

اشرف غنی کی جانب سے یہ فیس بک پوسٹ ہندوستانی وقت کے مطابق 15 اگست کی رات ساڑھے گیارہ بجے کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بہت سی باتیں لکھی ہیں۔
اسی دؤران الجزیرہ کے مطابق ہتھیاروں سے لیس طالبان مکمل طور پر صدارتی محل میں داخل ہوکر اس کو اپنے قبضہ میں لے چکے ہیں۔
اس طرح امریکہ میں 11ستمبر2001ء کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد طالبان 20 سال بعد افغانستان کے صدارتی محل میں دوبارہ داخل ہوئے ہیں۔!!
بین الاقوامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ کمانڈر طالبان ملا عبدالغنی برادر کے نام کا صدر افغانستان کے طورپر اعلان کیا جانے والا ہے۔
میڈیا اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ طالبان صدارتی محل سے افغانستان کو اسلامی ریاست ” امارات اسلامیہ افغانستان ” کے طور پر اعلان کرنے والے ہیں۔
اس دؤران نیوز ایجنسی اسوسی ایٹیڈپریس (اے پی) نے سینئر امریکی ملٹری عہدیداروں کے حوالہ سے اطلاع دی ہے کہ کابل ایرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے بند کردیا گیا ہےتاہم ملٹری پروازیں جاری ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پیر سے اپنی پروازیں افغانستان سے تاحکم ثانی منسوخی کا اعلان کیا ہے وہیں اے این آئی کے مطابق برٹش ایرویز نے اپنے تمام پائلٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ افغانستان کی فضائی حدود کو استعمال نہ کریں۔
اے ایف پی نیوز ایجنسی نے اپنے ٹوئٹ میں پینٹگان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے مزید ایک ہزار فوجیوں کو کابل روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہاں موجود 6,000 فوجیوں سمیت امریکی سفارتی عملہ کے انخلاء میں مدد کی جاسکے۔
وہیں برطانیہ نے کہا ہے کہ طالبان کو افغان حکومت تسلیم نہ کیا جائے۔
سی این این نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے اپنے ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ امکان ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن چند دنوں میں افغانستان کے بحران پر قوم سے خطاب کریں گے۔

