سپریم کورٹ نے نفرت پھیلانے والے نیوز چینلوں کو آئینہ دکھایا
میڈیا عوام کو تقسیم نہ کرے،اینکرز کو ہٹا دینا چاہئے
مذہبی منافرت پھیلائے جانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت
نئی دہلی/حیدرآباد:
(سحر نیوز ڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)
گذشتہ چند سال سے بالخصوص مسلمانوں کےخلاف ملک کے زیادہ تر قومی نیوز چینلوں پر مختلف نفرت انگیز سرخیوں کے ساتھ خبروں کی پیشکش اور شام ہوتے ہی ڈیبیٹ Debate# کےنام پر ہندو۔مسلم، مندو۔مسجد کےموضوع پر دونوں جانب کےچند لفافہ چھاپ لوگوں کو”دھرم گرو” کے طور پر پیش کرتے ہوئے انہیں مرغوں کی طرح لڑوانا،پارٹی ترجمانوں کی جانب سے بھی منافرتی بیانات اس ملک کی قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کو بربادی کے دہانے تک لے جارہے ہیں۔
ان نیوز چینلوں اور نیوز اینکرز کی مسلم مخالفت اور مذہبی منافرت کا ایک اور چھوٹا سا نمونہ اس وقت سامنے آیاتھا جب 4 جنوری کو دہلی میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس شمبھو دیال پر مایاپوری میں ہوئے قاتلانہ حملہ کے اصل ملزم”انیش راج” کومحمد انیس Mohammed Anees# کے طور پر چلا چلا کر دن بھر ٹائمز ناؤ بھارت، اے بی پی نیوز، ٹی وی 9 بھارت,سدرش ٹی وی اور نیوز ٹریک نے پیش کیا۔جس کا پردہ فیاکٹ چیکر ” آلٹ نیوز ” نے فاش کیا تھا۔اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس شمبھول دیال 8 جنوری کو زخموں سےجانبر نہ ہوسکے۔سدرشن نیوزنے دوقدم آگے بڑھ کر ” جہادی محمد انیس ” کہہ دیا تھا۔
جبکہ پولیس نے خود اس ملزم کا نام انیش راج Aneesh Raj# ولد پرہلاد راج کے طور پر بتایا تھا۔اس کے بعدسوشل میڈیا پرمسلم مخالف مہم شروع کردی گئی تھی۔ہر چھوٹے بڑے معاملہ کو یہ زہریلا میڈیا ہندو۔مسلم کے چشمہ سے پیش کرکےچھوڑ دیتا ہےجس کو واٹس ایپ یونیورسٹی اور سوشل میڈیا پر وائرل کرکےمسلمانوں کے خلاف خوب زہر پھیلاتے ہوئے برادران وطن کے دلوں میں مسلمانوں کاخوف اور ان کے تئیں نفرت پیدا کرنے کا کام کیا جاتا ہے۔!!
انہی حالات کو دیکھتے ہوئے میڈیا کی جانب سے جاری زہریلے پروپگنڈہ کےخلاف داخل کردہ درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جمعہ 13 جنوری کو سپریم کورٹ نے مذہبی منافرت پھیلانے اینکرز پر قانون کا چابک برساتے ہوئے کہا ہےکہ نیوز چینلوں پر نفرت پھیلانے والے نیوز اینکرز کو ہٹادینا چاہئے اور انہیں جواب دہ بنایا جائے۔
ساتھ ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت نے نیوز چینلوں کے مالکین کو بھی تاکید کی ہے کہ وہ ایسے اینکرز پر نظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کریں۔وہیں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کوبھی ہدایت دی ہےکہ وہ ایسے نفرتی نیوز چینلوں کےخلاف کارروائی کرے۔معزز جسٹس کے ایم جوزف اور محترمہ بی وی ناگارتھنا پرمشتمل دو رکنی بنچ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی کی درخواستوں کے ایک بیچ کی سماعت کر رہی تھی۔
جس میں سدرشن نیوز ٹی وی کی جانب سے ” UPSC جہاد ” مہم کےخلاف دائر کی گئی درخواستیں،تبلیغی جماعت کےمسئلہ کے تناظر میں ‘کورونا جہاد’ مہم کےخلاف اور دھرم سنسد کی میٹنگوں کےخلاف دائر درخواستیں اور نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے وسیع رہنمایانہ خطوط کی اپیل پر مبنی درخواستیں شامل ہیں۔
معزز جسٹس کے ایم جوزف نے ریمارک کیاکہ ہر چیز ٹی آر پی سے چلتی ہے۔چینلز ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ چیزوں کو سنسنی خیز بناتے ہیں،ایک ایجنڈا پیش کرتے ہیں۔آپ بصری میڈیا کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں,بصری میڈیا آپ کو اخبار سے کہیں زیادہ متاثر کر سکتا ہے۔معزز جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہمارے سامعین اس مواد کو دیکھنے کے لیے کافی بالغ ہیں۔؟
سماعت کےدؤران معززجسٹس جوزف نے نیوز براڈ کاسٹرز اینڈ ڈیجیٹل ایسوسی ایشن(این بی ایس اے) کی نمائندگی کرنےوالےوکیل سے سوال کیا کہ اگر ٹی وی پروگرام کے اینکرز خود اس مسئلہ کا حصہ ہیں تو کیاکیا جاسکتاہے۔؟ این بی ایس اے کومتعصب نہیں ہونا چاہئے۔معزز جسٹس نے این بی ایس اے کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے یہ بھی سوال کیا کہ آپ نے اب تک کتنی مرتبہ ایسے نیوز اینکرز ہٹائے ہیں۔؟
معزز جسٹس کے ایم جوزف نے کہاکہ یک لائیو پروگرام میں،پروگرام کے منصفانہ ہونے کی کلید اینکر کے پاس ہوتی ہے۔اگر اینکر منصفانہ نہیں ہے اور اینکر اپنی طرفداری سے کچھ پیش کرنا چاہے گا۔دوسری طرف خاموش رہے گا،ایک طرف سےسوال نہیں کرے گا،یہ تعصب کا ایک ناقابل تردید نشان ہے۔
معزز جسٹس نے کہا کہ میڈیا والوں کوسیکھنا چاہئے۔انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ طاقتور مقام پر براجمان ہیں اور جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے۔معززجسٹس جوزف نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ انہیں اپنی بات کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
معزز جسٹس کے ایم جوزف نےرائے دی کہ خلاف ورزی کرنےوالے اینکرز کو” پیشکش سے ہٹادیا جانا چاہئے اور پروگرام کوڈ کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔” آپ ان کو مالی طور پرمفلوج کریں گے تو اس سے فرق پڑے گا۔
نیوز چینلوں پر معزز جج کی کتنی گہری نظر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ معزز جسٹس کے ایم جوزف نے اس انداز پر بھی تنقید کی جس میں ٹی وی چینلز نے ایئر انڈیا کی فلائٹ میں پیشاب کرنے کےملزم کےخلاف استعمال کیےگئے الفاظ کاحوالہ دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ کسی کی بھی توہین نہیں کی جانی چاہئے۔ہر ایک کو عزت کا حق حاصل ہے۔
جب اس معاملہ کی سماعت کا آغاز ہوا تو معزز جسٹس کے ایم جوزف نے سپریم کورٹ کے اپنے ماضی کے حکم کے بعد سے عام ماحول کے متعلق استفسارکیا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں معزز جسٹس جوزف کی سربراہی میں بنچ نے ہدایت دی تھی کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف پولیس کو از خود کارروائی کرنی چاہئے،چاہے ان کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو۔معزز جسٹس جوزف نے استفسار کیا کہ عام ماحول کیسا ہے،یہ بہتر ہو گیا ہے یا خراب؟
جس پر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڈے نے معزز جسٹس سے کہا کہ ہم کوئی عمومی نتیجہ نہیں نکال سکتے۔ایک چنگاری اور سب کچھ بھڑک اٹھتا ہے۔
ایڈوکیٹ نظام پاشا نے بنچ کی توجہ سدرشن نیوز کے سریش چوہانکے کی جانب سےمسلمانوں کے خلاف دیے گئے چند بیانات کی جانب منبدول کروائی۔عیسائیوں کی کرسمس کی تقریبات وغیرہ پر نظام پاشا نے چوہانکےکےچند تبصرے پڑھ کرسنائے جیسے کہ”ہندوستان میں عیسائی 2 فیصد سے بھی کم ہیں لیکن ان کی کرسمس کی تقریبات 98 فیصد پر مسلط ہیں،ہندوؤں کو سیکھنا چاہئے۔”انہوں نے مزید کہاکہ میانمار کے بدھوں کی طرف سے جنہوں نے روہنگیا کا پیچھا کیا وغیرہ ان تبصروں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا اور پھیلایا جاتا ہے۔
ایڈوکیٹ شاداں فراست نے کیبل ٹی وی ریگولیشن ایکٹ کے تحت ریگولیٹری نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے مسئلہ پر روشنی ڈالی جو نفرتی تقاریر پھیلانے والے پروگراموں کے خلاف ہے۔
اس موقع پر معزز جسٹس کے ایم جوزف نے نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے پوچھا کہ نفرت انگیز تقاریر کے پروگراموں کے سلسلہ میں کیا کیا گیا ہے؟ جب آپ تقریر اور اظہار کی آزادی کادعویٰ کرتے ہیں،تو آپ کو ایسا کام کرنا چاہئے جیسا کہ آپ اس کےمستحق ہیں۔ورنہ ہمارے لیے کیا وقار بچا ہے۔؟
معزز جسٹس محترمہ ناگرتھنا نے کہا کہ ہمیں آزاد اور متوازن صحافت کی ضرورت ہے۔آزاد ، لیکن متوازن بھی۔
سینئر ایڈوکیٹ اروند داتا،این بی ڈی اے کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی نے بہت سی خلاف ورزیوں کےخلاف کارروائی کی ہے۔بنچ کویہ بھی بتایا گیاکہ ریپبلک ٹی وی یا سدرشن ٹی وی جیسےچینل این بی ڈی اے کاحصہ نہیں ہیں۔
ایڈوکیٹ وشنوشنکر جین،سدرشن چینل کےسریش چوہانکے کی جانب سے پیش ہوئے انہوں نے ذاکر نائک اور اکبر الدین اویسی کی تقاریر کا حوالہ دیا اور شکایت کی کہ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہاکہ جب کارروائی کی جائےتو یہ سریش چوہانکے اور ان کےخلاف بھی ہونی چاہئے۔ دونوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
معززجسٹس جوزف نے نشاندہی کی کہ عدالت کے آخری حکم میں واضح طور پر کہاگیاتھا کہ خطاب کرنےوالے کے مذہب سے قطع نظر کارروائی کی جائے۔جسٹس جوزف نے یہ بھی نشاندہی کی کہ چوہانکے کی درخواست میں بیان کردہ تقاریر کافی پرانی ہیں، جو 2013 کی ہیں۔اور کہا کہ حالیہ واقعات کا ذکر کیا جائے تو بہتر ہو گا۔اس کے بعد ایڈوکیٹ جین نے حالیہ واقعات کاحوالہ دیتے ہوئے نئی درخواست دائر کرنے کی آزادی کے ساتھ درخواست واپس لے لی۔
ایک گھنٹہ سے زائد وقفہ تک جاری رہنے والی اس سماعت کے اختتام پر بنچ نےتمام ریاستوں کو مدعی کے طور پر شامل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کی۔بنچ نےریاست اتراکھنڈ کو ہریدوار دھرم سنسد تقریب میں نفرت انگیز تقاریر کےمعاملات کی تحقیقات کےسلسلہ میں موجودہ موقف پر مشتمل رپورٹ داخل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
ہندوستان کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی)کے ایم نٹراج نے بنچ کو بتایا کہ موجودہ قانونی منظر نامے میں جہاں تک میڈیا کاتعلق ہے سیلف ریگولیشن کی پریکٹس کی پیروی کی جارہی ہے۔اے ایس جی نے یہ بھی کہا کہ جب تک کوئی ایسا سنگین واقعہ نہیں ہوتا جس سے قومی مفاد یا ملک کی سلامتی متاثر ہوتی ہو، مرکز اس میں قدم نہیں اٹھائیں گے۔
جہاں تک نفرت انگیز تقریر کے جرم کا تعلق ہے اے ایس جی نے کہا کہ ہم فوجداری ضابطہ اخلاق میں ایک الگ ترمیم پر غور کر رہے ہیں جو کہ یونین آف انڈیا کا موقف ہے۔یہ قانون سازی کا عمل ہے جس کا فیصلہ بالآخر پارلیمنٹ کو کرنا ہے۔
” ملک کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے نفرتی میڈیا پر کیے گئے ریمارکس پر مشہور صحافی نوین کمار کا یہ 9 منٹ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔”
نوٹ : اس رپورٹ کی تیاری میں قانونی ویب سائٹ ‘ لائیو لاء Live Law ‘ سے بشکریہ مدد لی گئی ہے۔

