ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سےسکھویندرسنگھ سکھو کل اتوار کو اپنے عہدہ کا حلف لیں گے

ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سےسکھویندرسنگھ سکھو
مکیش اگنی ہوتری بطور نائب وزیراعلیٰ کل اتوار کواپنے عہدوں کا حلف لیں گے

شملہ/نئی دہلی:10۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام /ایجنسیز)

ہماچل پردیش جہاں دو دن قبل ہونےوالی رائےشماری میں کانگریس پارٹی نے بی جے پی سےاقتدارچھینتےہوئے 68 اسمبلی حلقوں میں سے اقتدار حاصل کرنے کےلیے درکار 35 نشستوں کا جادوئی ہندسہ پار کرتےہوئے 40 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی اب کل اتوار 11 ڈسمبر کو چھتیس گڑھ اور راجستھان کے بعد تیسری ریاست ہماچل پردیش کا اقتدار سنبھالنے جارہی ہے۔

ہماچل پردیش کے ان انتخابات میں برسر اقتدار بی جے پی 25 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل کر پائی۔تاس کے 8 وزراء کوبھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

ہماچل پردیش کے چیف منسٹر کےانتخاب کامسئلہ کانگریس نے آج ہفتہ کی شام مختلف پیش قیاسیوں اور کئی دعویداروں کے درمیان اس وقت حل کرلیا جب کانگریس لیجسلیچر پارٹی(سی ایل پی)نے سکھویندرسنگھ سکھو کے نام پر اپنی مہر ثبت کردی۔مرکزی مبصرین کے ذریعہ ہمیر پور ضلع کے نادون سےچوتھی مرتبہ بحیثیت رکن اسمبلی کامیابی حاصل کرنےوالےسکھویندرسنگھ سکھو کے نام کا بحیثیت وزیراعلیٰ ہماچل پردیش اعلان کر دیا گیا۔وہیں پانچ مرتبہ رکن اسمبلی اورحالیہ سبکدوش ہونےوالی اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے اپوزیشن لیڈر مکیش اگنی ہوتری کے نام کو نائب وزیراعلیٰ کے عہدہ کے لیے منظوری دی گئی۔

قبل ازیں ہماچل پردیش کی اسمبلی میں ہونے والے سی ایل پی کے اجلاس سے قبل کانگریس کے مرکزی مبصرین چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر بھوپیش بگھیل اور ہریانہ کے سابق چیف منسٹر بھوپیندر ہوڈا نے ہماچل پردیش کے پارٹی انچارج راجیو شکلا کے ساتھ سکھویندرسکھو،مکیش اگنی ہوتری اور رکن پارلیمنٹ و سابق وزیر اعلی ویربھدرسنگھ کی اہلیہ پرتیبھا سنگھ سے ملاقات کی۔

کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس کےفوری بعدسکھویندرسکھو اورمکیش اگنی ہوتری نےریاستی گورنر راجندر ارلیکر سےملاقات کرتے ہوئے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا۔حلف برداری کی تقریب کل بروز اتوار 11 ڈسمبر کو دوپہر 1.30 بجے منعقد ہوگی۔

سی ایل پی اجلاس کے فوری بعدسکھویندر سنگھ سکھو نے زور دےکر کہاکہ کانگریس متحدہے اور ہماچل پردیش میں ایک مستحکم حکومت بنائے گی اور یہ کہ 68 رکنی اسمبلی میں کانگریس کے 40 کے علاوہ تین منتخبہ آزاد ارکان اسمبلی نے بھی کانگریس حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ہماچل پردیش کے چیف منسٹر کے عہدہ کے مضبوط دعویداروں کے طور پرسکھویندر سنگھ سکھو کے علاوہ پرتیبھا سنگھ کے نام آگے تھے۔اور دونوں اپنے اپنےموقف پر اٹل تھے۔جس کےباعث مرکزی پارٹی مبصرین کومشکلات درپیش رہیں۔جبکہ پرتیبھاسنگھ کےحامیوں نے ان کی تائید میں نعرےلگائے اور شور شرابہ بھی کیا۔پرتیبھا سنگھ کے حامیوں نے ہوٹل کے باہر نعرے لگائے جہاں مبصرین مشاورت میں مصروف تھے اور انہوں نے اس ہوٹل کا گیٹ بھی بند کر دیاتھا۔ان کا شدید مطالبہ تھاکہ پرتیبھا سنگھ کو چیف منسٹر بنایا جائے اور 6 مرتبہ ہماچل پردیش کے چیف منسٹر رہ چکے ویربھدرسنگھ کی وراثت کو نظر انداز نہ کیا جائے،ان حامیوں نے پارٹی ہائی کمان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

پرتیبھا سنگھ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ ہماچل پردیش کے انتخابات ویربھدرسنگھ کے نام پر جیتے گئے ہیں اور ان کی میراث کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے انتخابات کے دوران پوری ریاست کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی جلسوں سے خطاب بھی کیا تھا اور کانگریس کے حق میں زبردست مہم بھی چلائی تھیں۔

بحیثیت چیف منسٹر ہماچل پردیش اپنے انتخاب کے بعد 58 سالہ سکھویندر سنگھ سکھو جو کہ ہمیر پور ضلع کے نادون سے چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں پیشہ سے وکیل ہیں۔وہ 2013 ء تا 2019ء صدر ہماچل پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ان کےوالد پیشہ سے بس کنڈاکٹر رہ چکے ہیں۔نےسونیا گاندھی،راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سے ان پر اعتماد کرنے پر تشکر کا اظہارکیا۔اور انہوں نے ہماچل پردیش کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔وہیں واضح طور پر ناراض پرتیبھاسنگھ نے کہا کہ وہ پارٹی ہائی کمان کے فیصلے کو قبول کرتی ہیں۔

اپنے انتخاب کے بعد سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ ان کی حکومت پارٹی کی جانب سے کیے گئے تمام انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنائے گی انہوں نے تمام سے تعاون کی خواہش بھی کی۔انہوں نے گورنر سے ملاقات کے بعد سبکدوش ہونے والے چیف منسٹر ہماچل پردیش جے رام ٹھاکر سے بھی ملاقات کی۔