دلیپ کمار کا فلموں میں اپنی ساتھی اداکاراؤں کے ساتھ تال میل، 100 ویں سالگرہ پر خصوصی مضمون

دلیپ کمار کا فلموں میں اپنی ساتھی اداکاراؤں کے ساتھ تال میل
100 ویں سالگرہ پر خصوصی مضمون

فلمی دنیا کے افسانوی اداکار،شہنشاہ جذبات یوسف خان عرف دلیپ کمار کا 7 جولائی 2021ء کی صبح 98 سال کی عمر میں انتقال کے بعد فلمی دنیا کا ایک سنہرہ باب ختم ہوگیا۔

یوسف خان سے دلیپ کمار بننے والے اس شہرہ آفاق اداکار کی پیدائش 11 ڈسمبر 1922 کو غیرمنقسم ہندوستان کے پشاور کےمحلہ خداداد میں غلام سرور کے گھر ہوئی اور یہ خاندان 1935ء میں کاروبار کی غرض سے بمبئی منتقل ہوگیا تھا۔فلمی دنیا میں داخلہ سے قبل دلیپ کمار پھلوں کا کاروبار کرتے تھے اور پونہ کی فوجی کینٹین میں ان کی پھلوں کی دُکان تھی۔

فلمی دنیا ہو یا پھر کوئی بھی شعبہ حیات جتنی عزت اور احترام دلیپ کمار نے اپنے کردار کے ذریعہ حاصل کی تھی اتنی عزت شاید ہی کسی فلمی یا سیاسی ہستی کے حصہ میں آیا ہو۔ان کے مداح آج بھی ساری دنیا میں پھیلے ہوئےہیں سرحدوں اور مذاہب کی تفریق کےبناء وہ ہمیشہ عوام کے دلوں پر اپنی انمٹ اداکاری اور بے داغ شخصیت کے ذریعہ راج کرتے رہے۔

98 سالہ دلیپ کمار نے بھرپور زندگی گزاری تھی،طویل عرصہ سے پیرانہ سالی کےباعث ہونےوالی بیماریوں کے دؤران انہیں مختلف مواقعوں پر ہسپتال میں شریک کیا جاتا رہا اور وہ ہمیشہ موت کو شکست دیتے رہے لیکن 7 جولائی 2021ء کی صبح ساڑھے سات بجے ممبئی کے مضافاتی علاقہ ولے پارلے کے ہندوجا ہسپتال میں دلیپ کمار موت سے جنگ ہار گئے۔

1944ء میں دیویکارانی نے انہیں فلم جوار بھاٹا سے متعارف کروایا اور یہیں سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کرنے والے یوسف خان، دلیپ کمار بن کر زائداز نصف صدی تک ٹریجڈی کنگ کی شناخت کےساتھ مختلف کرداروں کےذریعہ اپنی منفرد اور لازوال اداکاری کے ذریعہ فلمی شائقین کے دلوں پر راج کرتے رہے۔11 اکتوبر 1966 کو اداکارہ سائرہ بانو سے دلیپ کمار نے شادی کی تھی۔

1960ء میں کے۔آصف کی جانب سے بنائی گئی مشہور تاریخی فلم مغل اعظم نے دلیپ کمار کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا،جگنو، شہید، انداز ، بابل، دیدار، آن، فٹ پاتھ،امر،اڑن کھٹولا،دیوداس، نیا دور، پیغام، کوہ نور، گنگا جمنا،سگینہ ،بیراگ ،مزدور ،دل دیا درد لیا ، آدمی ،امر، آن، انداز، مدھومتی،میلہ، یہودی،لیڈر،رام اور شیام،شکتی،مشعل،دھرم ادھیکاری، قانون اپنا اپنا،ودھاتا، کرما،کرانتی،سوداگر جیسی کئی فلموں میں دلیپ کمار نے اپنی اداکاری کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

دلیپ کمار نے 62 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے جن میں 57 فلموں میں وہ تنہا اداکار رہے جبکہ 5 فلموں میں معاون اداکار کی حیثیت سے کام کیا تھا۔

آج 11 ڈسمبر کو دلیپ کمار کی 100 ویں یوم سالگرہ کے موقع پر پیش ہے ایک خصوصی مضمون:

سینما اسکرین پر مرد و زن کی جوڑی عموماً حقیقی زندگی کی نسبت مختلف ہوتی ہے ـسینما کے فنی قواعد کی رو سے دونوں متضاد کرداروں کے درمیان فنی تال میل ایک اہم خاصیت سمجھی جاتی ہے۔ ـ

عام طور پر کاسٹنگ ہدایت کار ان باریکیوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن بیشتر اوقات کام چلاؤ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اور دونوں کرداروں پر یہ ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے کہ وہ اپنے درمیان تال میل خود بنائیں۔اس کام چلاؤ طریقے کی وجہ سے کبھی کبھار فلم میں نقص پیدا ہوجاتا ہے۔ ـ

دلیپ کمار جب اوائل میں سینما کا حصہ بنے تو کم از کم ان کی تین پہلی فلموں میں ہیروئن کے ساتھ کیمسٹری اچھی نظر نہیں آتی ـصرف فلم ” پرتیما ” (1945) میں سورن لتا کے ساتھ وہ نسبتاً بہتر نظر آتے ہیں۔ اوائل میں ان کی صرف ایک فلم میں ہیروئن کے ساتھ بہترین کیمسٹری نظر آتی ہے ـ وہ ہے نورجہان کے ساتھ فلم "جگنو” (1947)!

ذیل میں 6 ایسی اداکاراؤں کے ساتھ ان کے تال میل پر طالب علمانہ بحث کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کے ساتھ ان کی سب سے زیادہ فلمیں ہیں۔ واضح رہے یہ سینما کے ایک ادنیٰ طالب علم کی رائے ہے سو اسے حتمی نہ سمجھا جائے۔ ـ

1- کامنی کوشل
اداکارہ کامنی کوشل چالیس اور پچاس کی دہائیوں میں ایک باصلاحیت اداکارہ رہی ہیں ـدلیپ کمار کی پہلی بہترین جوڑی انہی کے ساتھ رہی ہے اس جوڑی کی قابلِ ذکر فلمیں چار ہیں ـ ” ندیا کے پار” (1948) ، "شہید” (1948) , "شبنم” (1949) اور "آرزو” (1950)۔

ـ
یہ اپنے زمانے کی کامیاب فلمیں رہی ہیں تاہم ان میں سے کسی ایک کو بھی دلیپ کمار کی نمائندہ فلموں کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ہر چند ہدایت کار شاہد لطیف کی فلم ” آرزو” فنی لحاظ سے نسبتاً بہتر ہے تاہم اس کے بعد دلیپ کمار کا فن زیادہ نکھرا اور سنورا نظر آتا ہے ان فلموں کی سب سے بڑی خوبی دونوں فن کاروں کا اسکرین پر تال میل ہے جو کسی بھی جگہ بے جوڑ اور بھدا نظر نہیں آتا۔ ـ

بعض فلمی تاریخ دانوں کےمطابق حقیقی زندگی میں بھی دلیپ کمار اور کامنی کوشل محبت کے رشتے میں بندھےہوئے تھے ـواقفانِ حال کےمطابق ان کا یہ رشتہ کامنی کےبھائیوں کوپسند نہیں تھا اور اسی ناپسندیدگی کی وجہ سےفلم ” شہید” کے سیٹ پر اداکارہ کے بھائی دلیپ کمار کو ڈرانے کے لیے پستول لے کر پہنچ گئے تھے! اس واقعہ کے بعد نہ صرف ان دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا بلکہ دوبارہ انہوں نے اسکرین بھی شیئر نہیں کیا۔ تاریخ دانوں سے قطعِ نظر یہ طے ہے اسکرین پر یہ ایک زبردست جوڑی رہی ہے اگر اس کو مزید کام کرنے کےمواقع ملتے توہندی سینما کا دامن شاید زیادہ وسیع ہوجاتا۔ ـ

2- نرگس
اداکارہ نرگس کی سب سے بہترین فلمی جوڑی راج کپور کے ساتھ رہی ہے ـ راج نرگس جوڑی کو عوامی و فنی سطح پر اس قدر پسند کیا گیا کہ دیگر اداکاروں کے ساتھ ان کا تال میل دب گیا۔ ـ

دلیپ کمار کے ساتھ ان کی فلمیں تو شاید آدھ درجن سے بھی زیادہ ہوں لیکن قابلِ ذکر فلمیں پانچ ہیں ـ” میلہ ” (1948)، "انداز” (1949)، "بابل” (1950) , ” جوگن ” (1950) , ” دیدار ” (1951)۔ ـ

ان کا شمار بھی بازار کے لحاظ سے کامیاب فلموں میں ہوتا ہے البتہ اگر ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو ان میں سے صرف تین فلموں میں دلیپ کمار کے بہترین فن کا مظاہرہ دیکھا جاسکتا ہے ـ ” انداز ” ، ” دیدار ” اور ” میلہ "۔ ـجبکہ ” جوگن ” اور ” بابل ” میں نرگس کا پلڑا بہ نسبت دلیپ کمار زیادہ بھاری نظر آتا ہے بالخصوص "جوگن” میں نرگس کی سنجیدگی اور متانت کے سامنے دلیپ کمار بجھے بجھے سے لگتے ہیں۔ ـ

نرگس کے ساتھ دلیپ کمار کا تال میل برا تو نہیں ہے لیکن کامنی کوشل جیسی کیمسٹری نظر نہیں آتی اس کا سب سے زیادہ احساس ” انداز ” کو دیکھ کر ہوتا ہے جس میں نرگس راج کی کیمسٹری دلیپ کمار سے بہتر محسوس ہوتی ہے۔دلیپ کمار نے "دیدار” میں تال میل بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جو فلم کے ہر مشترکہ سین میں جھلکتا بھی ہے۔

اس کوشش کی وجہ سے اشوک کمار اور نرگس کے درمیان تال میل کے نقائص زیادہ واضح نظر آتے ہیں ـ دلیپ کمار نے یہی کوشش نمی کے ساتھ بھی کی ہے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ دلیپ کمار دونوں اداکاراؤں کے ساتھ خوب صورت تال میل بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ـ” دیدار” ویسے بھی دلیپ کمار کی فنی زندگی کی نمائندہ فلم کہی جاسکتی ہے جس میں انہوں نے جذبات نگاری کی حدوں کو چھولیا ہے اسی طرح فلم ” میلہ ” میں بھی دونوں فن کاروں کی کیمسٹری اچھی ہے۔ ـ

نرگس دلیپ جوڑی کا آخری تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ یہ جوڑی نرگس راج سے نسبتاً کم بہتر ہے اگر اس کا موازنہ کامنی دلیپ جوڑی سے کیا جائے تو موخرالذکر بہترین ہے۔ ـ

دلیپ کمار کو یاد کرکے سائرہ بانو آبدیدہ ہوگئیں، اداکار دھرمیندر اور ڈائرکٹر سبھاش گھئی نے دلاسہ دیا،جذباتی مناظر: ویڈیو 

3- نمّی
اداکارہ نمّی کی اہم ترین خصوصیت ان کی مسحور کن آنکھیں اور مخمور لہجہ ہے ـ نمی کو بلاشبہ ایک رومانی اداکارہ قرار دیا جاسکتا ہے ـنمی کے ساتھ دلیپ کمار کی قابل ذکر فلمیں پانچ ہیں ـ” دیدار ” (1951), ” آن ” (1952)، ” داغ ” (1952)، ” امر” (1954)، "اڑن کھٹولہ” (1955)۔

ـ

درج بالا تمام فلمیں باکس آفس ہٹ رہی ہیں تنقید کی سخت ترین کسوٹی پر پرکھا جائے تونمائندہ فلمیں غالباً صرف تین رہیں گی”دیدار”،” داغ” اور "امر” ـ
"دیدار” پر بحث ہوچکی ہے۔ـ

رخ کرتے ہیں ” داغ ” کا! ـ” داغ ” کا دلیپ کمار ایک انتہائی پیچیدہ کردار ہے بظاہر سماج کی نگاہ میں نامعقول اور ناکارہ شخص اس شخص سے سادہ دل نمی کو محبت ہے مگر وہ محبت سے ناآشنا اس کا دل دکھاتا رہتا ہے اس پیچیدہ تعلق میں دونوں کرداروں کا تال میل نہایت ہی خوب صورت اور دل موہ لینے والا ہوتا ہے۔ ـ

” امر ” کا دلیپ کمار بھی ” داغ ” کی مانند کوئی سیدھا کردار نہیں ہے بلکہ وہ ” داغ ” سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ ـوہ ایک جانب مدھو بالا سے محبت کرتا ہے اور دوسری جانب نمی پر بری نظر رکھتا ہے۔نمی کے ساتھ رشتہ ڈرانے اور خوف زدہ ہونے کا ہے یہاں بھی دونوں فن کاروں کی کیمسٹری فنی لحاظ سے نہایت ہی شاندار ہے جو فلم کے آخر تک برقرار رہتی ہے۔ ـ

دوسری جانب دلیپ اور مدھو بالا کا تال میل بار بار بنتا بگڑتا رہتا ہے ـحالاں کہ حقیقی زندگی میں دونوں محبت کے رشتے میں بندھے ہوتے ہیں لیکن الفت کا وہ سماں نظر نہیں آتا جو آنا چاہیے۔ ـ

 

4- مدھو بالا

دلیپ کمار اور مدھو بالا حقیقی زندگی میں دو پریمی رہے ہیں ـحیرت انگیز طور پر اسکرین پر ان کی قابلِ ذکر رومانی جوڑی محض تین فلموں تک محدود ہے ـ "ترانہ” (1951) ، ” امر” (1954) اور "مغلِ اعظم” (1960)۔

ـ

” ترانہ ” اس جوڑی کی شروعات ہے ـفلم میں دلیپ کمار ایک شہری بابو جبکہ مدھو بالا ایک غریب دیہاتی ہے دو متحارب طبقات کے درمیان محبت کا رشتہ دکھانا ہندی سینما کی قدیم روایت رہی ہے یہ روایت البتہ خطرناک بھی ہے کیوں کہ عموماً دونوں طبقات کی طبقاتی نفسیات الفت کے رشتے پر اثرانداز ہوکر اسکرین پر ان کی کیمسٹری کو بگاڑنے کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ ـ

” ترانہ ” میں بظاہر طبقاتی نفسیات کی اثرپذیری نظر نہیں آتی لیکن اس کے باوجود یہ جوڑی من تو شدم تو من شدی جیسا نظر نہیں آتا ـفلم کے بعض سیکوینسز میں اچھی کیمسٹری دیکھنے کو ملتی ہےلیکن مجموعی طور پر اسے بہترین سینما جوڑی قرار دینا ناممکن ہے۔ بالخصوص دلیپ کمار کے والہانہ پن کا وہ جواب نہیں ملتا جس کا تقاضا ایک فلمی محبوبہ سے کیا جاتا ہے۔ ـ

مدھو بالا کے ساتھ دلیپ کمار کی بہترین جوڑی بلاشبہ ” مغلِ اعظم” ہے۔ ـمعاملہ یہاں بھی طبقاتی ہے لیکن دونوں کردار اپنے طبقاتی پسِ منظر سے مغلوب نظر نہیں آتے بالخصوص مدھوبالا کا رومان زیادہ جارحانہ بلکہ بعض سیکونسز میں جان لیوا ہے۔ ـ

جہاں جہاں مدھو بالا کی وارفتگی بڑھی وہاں وہاں وہاں تال میل دلیپ کمار کی جانب سے بگڑ جاتا ہے مجموعی طور پر ” ترانہ” اور ” امر ” کی نسبت اس فلم میں دونوں فن کار ایک دوسرے میں مدغم نظر آتے ہیں۔ ان دونوں کی صرف یہی ایک جوڑی ہی بہترین کہلائے جانے کے لائق ہے ـ

5- مینا کماری
دلیپ کمار اگر شہنشاہِ جذبات ہیں تو مینا کماری ملکہِ جذبات. نسوانی الم کا شاندار مظاہرہ مینا کماری کے بعد ہندی سینما نے دوبارہ نہیں دیکھا میناری کماری کے ساتھ دلیپ کمار کی چار فلمیں موضوع کاحصہ ہیں ” فٹ پاتھ” (1953) ،” آزاد ” (1955), ” یہودی ” (1958) اور ” کوہِ نور(1960)۔

ـ

بہترین اسکرین پلے اور باریک ہدایت کاری کی وجہ سے ان میں ” فٹ پاتھ” سب سے بہتر ہے ـ گوکہ ” یہودی” اور "کوہِ نور” اپنے تاریخی ژنر کی وجہ سے منفرد ہیں۔لیکن ” فٹ پاتھ” چوں کہ سماج کا مارکسی تجزیہ ہے اس لیے میرے نزدیک اس کا پلڑا بھاری ہے۔” آزاد ” ایک کامیاب فلم ہے لیکن میری رائے میں وہ ایک کمزور تجربہ ہے جسے بحث کے دائرے سے خارج کرنا بہتر ہوگا۔ ـ

” فٹ پاتھ ” میں مینا کماری اور دلیپ کمار دونوں سنجیدہ کردار ہیں اتنی ہی سنجیدگی سے دونوں نے نیکی بدی کی کشمکش کو پیش کیا ہے ان دونوں کا تال میل صرف وہاں بگاڑ کا شکار نظر آتا ہے جہاں سنجیدگی پر رومانس کا تڑکہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے بالخصوص سیڑھیوں پر بیٹھ کر بہت سی باتیں کرنے کی ناکام کوشش تاہم مجموعی طور پر یہ ایک اچھی جوڑی ہے۔ ـ

” کوہِ نور ” اور ” یہودی ” میں وہ تال میل نظر نہیں آتا جو ” فٹ پاتھ” میں ہے۔” یہودی” میں پھر بھی دونوں جانب سے رخنے دور کرنے کی کوشش نظر آتی ہے لیکن ” کوہِ نور” میں دونوں کی انفرادیت واضح ہے۔آخری تجزیے میں دلیپ کمار اور مینا کماری کی مجموعی کیمسٹری اچھی نہیں ہے ـصرف "فٹ پاتھ” میں ان کی سنجیدگی ایک بہترین تال میل تخلیق کرتے ہیں۔ ـ

6- وجینتی مالا

نرگس کے بعد غالباً دلیپ کمار کی سب سے زیادہ فلمیں وجینتی مالا کے ساتھ ہیں (نمی بھی ممکن ہے) ان دونوں کی قابلِ ذکر فلمیں چھ ہیں ” دیوداس” (1955)، ” نیا دور” (1957)، ” مدھومتی” (1958)، ” پیغام ” (1959)، ” گنگا جمنا ” (1961) اور ” لیڈر ” (1964)۔

ـ”لیڈر” اور "پیغام” کو میں خاص تصور نہیں کرتا بالخصوص "لیڈر” جس کے صرف گیت ہی سننے کے قابل ہیں ـ دیگر چار فلموں میں سے ایک "نیا دور” کو چھوڑ کر (گوکہ یہ بھی اچھی فلم ہے) تینوں شہکار اور دلیپ کمار کی فنی زندگی کی نمائندہ فلمیں ہیں۔ ہماری بحث کا دائرہ بھی انہی تینوں فلموں تک محدود رہے گا۔ ـ

” دیوداس” کی مرکزی ہیروئن بظاہر سچترا سین ہیں لیکن ان کے ساتھ دلیپ کمار کا تال میل درست نہیں ہے جبکہ وجینتی مالا سے ان کی کیمسٹری نقائص سے پاک نہایت ہی مضبوط ہے۔ یہ جوڑی ” داغ ” کی نمی۔دلیپ جوڑی کی یاد دلاتی ہے لیکن اس کی نسبت یہ زیادہ دلآویز بھی ہے اور بے داغ بھی۔

ـ کسی بھی جگہ ان دونوں کا رابطہ منقطع ہوتا نظر نہیں آتا ایسا لگتا ہے جیسے یہ برسوں پرانے دوست ہیں جو ایک دوسرے کی خاموشی کو بھی نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ فطری ردعمل بھی دے سکتے ہیں۔اسی قسم کی مضبوط کیمسٹری ” گنگا جمنا ” اور ” مدھو متی ” میں بھی نظر آتی ہے۔ ـ

دلیپ کمار اور وجینتی مالا کی جوڑی کو دلیپ کمار کی سب سے بہترین کیمسٹری قرار دیا جائے تو شاید ہی غلط ہو۔ان تینوں فلموں سمیت اس جوڑی کی دیگر فلموں میں بھی تال میل کا نقص ڈھونڈھے سے بھی نظر نہیں آتا۔ ـ

دلیپ کمار جیسے بڑے فن کار کے ساتھ تال میل بنانا اور ان کے ساتھ قدم بہ قدم چلنا ویسے بھی دشوارعمل ہے دلیپ کمار کی سب سے بڑی خاصیت کردار میں ڈھل جانا ہے۔

اگر مقابل اداکارہ اپنے کردار سے انصاف نہ کر پائے یا دلیپ کمار کی مانند اس میں ڈھل نہ جائے تو تال میل بگڑ جاتا ہےاس کے ساتھ ساتھ چہرے اور ڈیل ڈول کی اسکرین کیمسٹری کی بھی اپنی اہمیت ہے۔وجینتی مالا نے دونوں معاملات میں بہتر نتائج دیے ہیں۔ ـ

مضمون نگار: 
ذوالفقار علی زلفی 
کراچی۔پاکستان

ترتیب و پیشکش : یحییٰ خان

All Films Poster Courtesy: Youtube