منگلورضلع کی ایک مسجد میں داخل ہوکر نماز ادا کرنے میں مصروف خواتین سے بدسلوکی اور شرمناک حرکت کرنے والا سجیت شیٹی گرفتار

کرناٹک:منگلورضلع کی ایک مسجد میں داخل ہوکر
عبادت میں مصروف خواتین کے ساتھ بدسلوکی
اور شرمناک حرکت کرنے والا سجیت شیٹی گرفتار

منگلور: 30۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ملک کی مختلف ریاستوں میں گزشتہ چند ماہ بالخصوص ماہِ رمضان کے آغاز کے بعد سے مسلمانوں کےخلاف مذہبی منافرت اور اشتعال انگیز حرکتوں میں شدت پیدا کردی گئی ہے۔لیکن اس معاملہ میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا نعرہ جپنے والےوزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔جبکہ ان کے صرف ایک بیان یا ریاستوں کی پولیس کو اس مہم میں شامل غیرسماجی عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کے بعد یہ سلسلہ تھم سکتا ہے!

اسی دؤران ریاست کرناٹک کے منگلورضلع سے ایک انتہائی شرمناک اور اشتعال انگیزی پھیلانے کے حدود کو پھلانگنے کا واقعہ منظرعام پر آیا ہے۔

منگلور کے مضافاتی علاقہ تھوکوٹو کی جامع مسجد میں خواتین کے لیے مختص گوشہ میں داخل ہوکرشب قدر کے موقع پر عبادات میں مصروف خواتین کو ڈھکیلنے اور اپنی شرمگاہ دکھانے والے مذہبی جنونی اور درندہ صفت نوجوان کو اُلال پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔  

کمشنر آف پولس این۔ششی کمار کے مطابق گرفتار شدہ شخص سجیت شیٹی (26) کارکلا کے نیتے کے رہنے والے ادیہ کا بیٹا ہے۔پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے سجیت شیٹی نے ان خواتین کے ساتھ بھی بدتمیزی کی جو مسجد میں مذہبی پروگرام کے لیے جمع ہوئی تھیں

اس انتہائی ناشائستہ اور شرمناک واقعہ کی شکایت بی۔فاطمہ،فائصہ تمیم،آشیہ نازپت اور دیگر خواتین کی جانب سے پولیس میں درج کروائے جانے کے بعد پولیس نے سجیت شیٹی کو گرفتار کرتے ہوئے خواتین پر حملہ اور مجرمانہ طاقت کا استعمال،توہین کی نیت سے اشارے اور عمل کرنا،خواتین کے ساتھ ناشائستگی،جان بوجھ کر بدنیتی پر مبنی حرکتیں کرنا،کسی بھی طبقے،مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پرمشتمل تعزیرات ہند کی دفعات 448،354،509،295A کے تحت کیس درج کرلیا گیاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایودھیا میں فساد کروانے کی سازش ناکام ،مساجد کے قریب شدید قابل اعتراض اشیا رکھ دی گئیں، سات گرفتار،چار فرار