کھرگون،جہانگیر پوری اور دیگر مقامات پر بلڈوزرس کے متاثرین کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم، اندرون 14گھنٹے 69 لاکھ روپئے کے عطیات موصول

"جتنی بُری کہی جاتی ہے اُتنی بُری نہیں ہے دنیا"

کھرگون،جہانگیر پوری اور دیگر مقامات پر سرکاری بلڈوزرس کے متاثرین 
کے لیےسوشل میڈیا پر عطیات کی اپیل،ایک کروڑ روپئے کا نشانہ
اندرون 14 گھنٹے 69 لاکھ روپئے سے زائد کے عطیات موصول

حیدرآباد: 23۔اپریل
(سحرنیوزڈاٹ کام /سوشل میڈیا ڈیسک)

سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے متعلق زیادہ تر غلط فہمی یہ ہے کہ یہ نفرت پھیلانے کا اڈہ بن گیا ہے۔لیکن اسی سوشل میڈیا کے بہترین اور بروقت استعمال کے ذریعہ بہت سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔مختلف ضرورتمندوں کی ضرورت فوری طور پر پوری کی جاسکتی ہے،اپنے کاروبار کو وسعت دی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی مختلف کاروبار کے ذریعہ اس سے آمدنی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

ہم اکثر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز  دیکھتے ہیں کہ فوری”خون کے عطیہ”کے کئی ایک میسیج وائرل ہوتے ہیں۔کئی انسانی ہمدردی رکھنے والےلوگ اس پیغام کو پڑھنے کے فوری بعد اس میسیج میں دئیے گئےموبائل نمبر پر کال کرتے ہیں یا پھر میسیج میں دئیے گئے ہسپتال کو پہنچ جاتے ہیں ایسی کئی مثالیں ہیں۔اور یہ سلسلہ ہنوز جاری بھی ہے خون کا عطیہ دینے والے یہ نہیں دیکھتے کہ خون کی ضرورت مسلم کو ہے یا کسی غیرمسلم کو؟ بس انسانی جان بچانا ان کا مقصد ہوتا ہے۔یہی انسانی میراث بھی ہے۔

حیدرآباد کے بورہ بنڈہ کے ساکن سات سالہ محمدعدنان کے ان دنوں ملکی اور غیرملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بہت زیادہ چرچے ہیں۔حیدرآباد کے بورہ بنڈہ علاقہ کے ساکن محمد الیاس پیشہ سے باورچی ہیں اور پانچ رکنی خاندان کے سربراہ ہیں۔گھر چلانے کے لیے کبھی کبھار پان شاپ بھی چلالیتے ہیں۔ان کے فرزند محمدعدنان جن کی عمر صرف سات یا آٹھ سال ہوگی اپنے والدین سمیت دو بھائیوں اور ایک بہن پرمشتمل خاندان میں سب سے چھوٹے ہیں۔

اسی دؤران محمد عدنان نے اپنے والد محمد الیاس کے موبائل فون سے انسٹاگرام اور فیس بک پر اپنا اکاؤنٹ بنایا تھا اور وقت گزاری کرلیتے تھے۔

محمد عدنان کے والد محمد الیاس نے ماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ بورہ بنڈہ چوراستہ پر موتی نگر،انڈیا بازار کے قریب اپنی ایک حلیم کی دُکان لگائی تھی لیکن افسوس کہ ان کے پاس یکم رمضان سے بہت کم گاہک آنے لگے لیکن محمد الیاس نے ہمت نہیں ہاری۔

اسی دؤران محمدالیاس کے کمسن فرزندمحمد عدنان اس حلیم سنٹر کے قریب ایک رات خالص دکھنی زبان میں حلیم کی تشہیر کی غرض سے ایک ویڈیو بناکر اپنے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کردیا۔اس لڑکے کا یہ جذبہ اور تشہیر کا معصومانہ انداز بہت سے سوشل میڈیا صارفین کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

جبکہ اس ویڈیو میں عدنان صرف اپنی حلیم کی دُکان،اپنے والد اور تمام اشیاء ہی دکھارہے تھے۔اس پورے ویڈیو میں محمد عدنان کہیں بھی نظر نہیں آئے تھے۔اسی تشہیر کے دؤران محمد عدنان نے کہاکہ یہ دیکھیں”پپا کی حلیم”۔بس پھر کیا تھا یہ ویڈیو سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا۔اور دوسرے ہی دن سے حیدرآباد کی کئی نامورشخصیتیں،صحافی،سماجی جہدکار،یوٹیوبرس محمد عدنان کے والد کی اس حلیم کی دُکان پر پہنچ گئے۔

https://www.instagram.com/reel/CcfSFurhMhd/?utm_source=ig_web_copy_link

محمد عدنان کے انداز تشہیر کی جم کر تعریف کی اسی سوشل میڈیا پر لائیو ٹیلی کاسٹ کے ذریعہ عوام سے اپیل کی کہ محمدعدنان کے والد کے اس حلیم سنٹر پرحلیم کھاتے ہوئے ان کی مدد کریں تاکہ ان کا کاروبار بہتر طور پر چل سکے اور محمدعدنان کی ہمت افزائی بھی ہو۔

اس یہ حلیم سنٹر جس کا نام تھا”الحمدللہ چکن حلیم سنٹر” تھا کا کاروبار چل نکلا اور اب یہ حلیم سنٹر”الحمدللہ پپا کی حلیم”کے نام سے مشہور ہوگئی ہے۔جہاں روز حلیم کے شائقین کے علاوہ کئی شخصیتوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ رہی ہے۔

سوشل میڈیا کا ایک اور ناقابل فراموش کارنامہ :-

10 اپریل کو رام نومی کی شوبھایاترا کے موقع پر مدھیہ پردیش کے کھرگون میں تالاب والی مسجد کے قریب سے جلوس پر پتھراؤ کے الزامات کے ساتھ تشدد برپا کیا گیا تھا۔جسکے دوسرے ہی دن یعنی 11 اپریل کو حکومت کی ہدایت پر مقامی انتظامیہ نے 55 سے زائد مکانات اور دکانات پر بلڈوزرس چلاکر انہیں زمین بوس کردیا۔

بتایا گیا کہ یہ غیرقانونی تعمیرات تھیں جبکہ ان میں حسینہ فخرو کا وہ مکان بھی منہدم کردیا گیا جسے خود حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم کے تحت ڈھائی لاکھ روپئے کی امداد کی تھی اور مزدور پیشہ حسینہ فخرو کے خاندان نے پائی پائی کرکے ایک لاکھ روپئے جمع کرتے ہوئے ساڑھے تین لاکھ سے یہ مکان تعمیر کیا تھا جس کی تکمیل 6 ماہ قبل ہی ہوئی تھی!!۔

وہیں شوبھایاترا پر پتھراؤ کے بعد وزیر داخلہ مدھیہ پردیش مسٹر نروتم مشرا نے فسادیوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ”جس گھر سے پتھر آئے ہیں وہ خود ہی پتھروں کا ڈھیر بن جائے گا”۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے بڑوانی میں بھی بلڈوزرس چلوائے گئے تھے۔

پھر 16 اپریل کو ہنومان جینتی کی شوبھایاترا کے دؤران دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں ایک مسجد کے سامنے برہنہ تلواروں،چھوٹی بندوقوں اور مُلوں کو کاٹنے والی اشتعال انگیزی کے دؤران جہانگیرپوری کی جامع مسجد کے روبرو تشدد برپا کیا گیا۔پھر کیا تھاشمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار 18 اپریل کی صبح دس بلڈوزرس اور سیکورٹی کے لیے 400 پولیس ملازمین کے ساتھ جہانگیرپوری پہنچ گئے۔

یہاں بھی غیرقانونی اورقبضہ کے الزامات کے ساتھ کئی ایک مکانات اور دکانات پر بے دردی کے ساتھ بلڈوزرس چلوارہے تھے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اس معاملہ کی سماعت تک انہدامی کارروائی روک دی جائے تاہم اس کے باؤجود میڈیا اطلاعات کے مطابق مزید دوگھنٹوں تک اس وقت تک توڑ پھوڑ جاری رکھی گئی جب تک سپریم کورٹ نے دوبارہ سخت ہدایت نہیں دی!!

ٹوئٹر پر بہت سے انسانیت کا دکھ تقسیم کرنے والے کئی صارفین بلالحاظ مذہب کھرگون اور جہانگیرپوری میں اپنے مکانات اور دکانات سے محروم ہوجانے والوں کی مدد کی بڑے پیمانے پر اپیل کرنے لگے۔جس کے بعد فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر نے کل 22 اپریل کی دوپہر دو بجے ٹوئٹر پر ان ساری اپیلوں کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ

” آخرکار! یہ ہے جہانگیر پوری،کھرگون،کرولی،سینڈوا اور روڑکی کے رہائشیوں کے لیے چندہ کی اپیل۔آپ کی سخاوت اور مہربانی ایک سو سے زیادہ خاندانوں کو اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔”کوئی غیر ملکی عطیہ قبول نہیں کیا جائے گاکیونکہ NGO کے پاس FCRA نہیں ہے

اس کے ساتھ محمدزبیر نے آن لائن عطیات روانہ کے لیے ایک لنک بھی شیئر کی۔اور اس کے لیے "ایک کروڑ روپئے ” کے عطیات کی اپیل کی گئی اور اس کے لیے 26 دنوں کا وقت تعین کیا گیا۔اس لنک کو کلک کرکے کوئی بھی آن لائن مالی عطیہ دے سکتے ہیں۔

https://www.ketto.org/fundraiser/khargone-Jahangirpuri

بعدازاں اس عطیات کی لنک اور اپیل کو ٹوئٹر کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرشیئر کرنے کے بعد محمدزبیر نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ”سوشل میڈیا کی طاقت! 6 گھنٹے سے بھی کم وقت میں 30 لاکھ روپئے جمع۔مختلف پلیٹ فارمز پر عطیہ کرنے،ٹوئٹ کرنے اور شیئر کرنے اور آگے بڑھانے کے لیے سبھی کا شکریہ۔انہیں مزید ضرورت ہے۔آئیے مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا کام کریں۔براہ کرم نیچے دیئے گئے لنک کو شیئر کریں”۔اس وقت تک ملک کے مختلف مقامات سے 30,23,677 روپئے کے عطیات جمع ہوچکے تھے۔

محمد زبیر نے کل رات 11 بجے ایک اور اسکرین شارٹ کے ساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ” 47 لاکھ روپئے جمع ہوئے۔ہر ایک کا شکریہ جنہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر عطیہ کیا اور بڑھایا۔انہیں مزید ضرورت ہے۔آئیے مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا کام کریں۔براہ کرم نیچے دیئے گئے لنک کو شیئر کریں”۔رات 11 بجے تک 47,18,533 روپئے کے عطیات موصول ہوچکے تھے۔

فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر نے دوبارہ رات ایک بجے ایک اور اسکرین شاٹ کے ساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے اطلاع دی کہ”اس عطیہ مہم کے لیے زبردست ردعمل! ہم 12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں 60 لاکھ روپئے سے زیادہ جمع کرنے کے قابل ہوئے۔ ہر ایک کا شکریہ جنہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر عطیہ کیا اور بڑھایا۔انہیں مزید ضرورت ہے۔آئیے مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا کام کریں۔براہ کرم نیچے دیئے گئے لنک کو شیئر کریں”۔اس وقت تک 60,12,027 کی رقم بطور عطیہ موصول ہوچکی تھی۔

اس طرح جہانگیر پوری،کھرگون،کرولی،سینڈوا اور روڑکی کے”سرکاری بلڈوزرس”کے شکار رہائشیوں کے لیے چندہ کی اپیل کے بعد آج صبح ساڑھے چار بجے تک یعنی ٹوئٹر پر اپیل کیے جانے کے اندرون 14 گھنٹے جملہ 69,25,173 روپئے کے عطیات موصول ہوچکے تھے۔جسے 2,680 عطیہ دہندگان نے مختلف آن لائن ذرائع سے روانہ کیا ہے۔