سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو ٭٭سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو: شاعر :ندافاضلی،غزل گلورجگجیت سنگھ

شاعر : نِدا فاضلی 

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
**
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
**
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو
**
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

” ** ندا فاضلی کی یہ مشہور غزل جگجیت سنگھ کی آواز میں (لائیو کنسرٹ) ویڈیو ** "