ایمبولنس کو راستہ نہ دینے پر کار مالک پر ڈھائی لاکھ روپئے کا جرمانہ اور ڈرائیونگ لائسنس منسوخ
حیدرآباد :17۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت سڑک پر گزرنے والی اہم اور ہنگامی حالت میں جانے گاڑیوں بالخصوص ایمبولنس کو کسی بھی طرح آگے جانے کے لیے راستہ فراہم لازمی ہے۔اور یہ انسانیت کا بھی تقاضہ ہوتاہے کہ ٹریفک کے درمیان سائرن بجاتے ہوئے پیچھے سے آنے والی ایمبولنس کے علاوہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے اتنی جگہ فراہم کردی جائے کہ وہ با آسانی اور بلا رکاوٹ اس ٹریفک میں سےنکلنے میں کامیاب ہوجائیں۔تاکہ ایمبولنس میں موجود مریض کو بروقت ہسپتال پہنچایا جاسکے اور آگ بجھانے کے لیےجانے والے فائر انجن کو بھی راستہ فراہم کر دیا جائے تاکہ وہ جہاں آگ لگی ہے بروقت وہاں پہنچ کر آگ پر قابو پاتے ہوئے جانوں اور مال کو بچاسکے۔
یاد رہے کہ موٹر وہیکل ایکٹ کے سیکشن 194E کےمطابق ایمبولینس کو راستہ دینے میں ناکامی پر 6 ماہ کی قید یا 10 ہزار روپئے کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔یا پھر جرمانہ اور سزاء دونوں پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔
کیرالہ میں ایک ایسے غیر ذمہ دار کار مالک/ڈرائیور پر پولیس نے ڈھائی لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا جس نے ایمبولنس کو راستہ فراہم نہیں کیا۔پولیس کیجانب سے اتنی کثیر رقم پر مشتمل جرمانہ اور ساتھ ہی ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اور وائرل شدہ یہ ویڈیو اور ڈرائیور کی حرکت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین کیرالہ پولیس کے اس اقدام کی تائید کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ جرمانہ کیساتھ ساتھ اس کار مالک کیخلاف کیس درج کرتے ہوئے جیل بھیجا جائے۔
اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہواہے جو ایمبولنس کے ہی ڈیش بورڈ پر نصب کیمرہ سے ریکارڈ کیا گیا ہے۔دو منٹ 9 سیکنڈ کے اس ویڈیو کو دیکھا جائے تو واقعی کار ڈرائیور کی غیرانسانی اور جنونی حرکت پر تنقید اور پولیس کیجانب سے اتنی کثیر رقم پر مشتمل جرمانہ اور ڈرائیونگ لائسنس کا منسوخ کیا جانا لازمی مانا جائے۔!!
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہےکہ ٹریفک والی سڑک پر سامنے جارہی ماروتی سلور کار کے مالک/ڈرائیور نے دو منٹ 9 سیکنڈ تک پیچھے سے سائرن بجاتے ہوئے آنیوالی ایمبولنس کو راستہ فراہم نہیں کیاجبکہ سڑک کی دوسری جانب سے بھی گاڑیاں گزر رہی تھیں۔میڈیا اطلاعات کے مطابق یہ ایمبولنس ہنگامی حالات میں ایک مریض کو پونانی سے تھریسور میڈیکل کالج منتقل کر رہی تھی۔
اس کار مالک/ڈرائیور کی غیر انسانی حرکت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ ایمبولنس کا جہاں سائرن لگاتار بج رہاتھا وہیں پریشان ڈرائیور لگاتار ہارن بھی بجارہا تھا۔پھر بھی وہ اس ایمبولنس کو راستہ فراہم کرنے تیار نہیں تھا اور لگاتار اپنی گاڑی کو دوسری گاڑیوں سے اوور ٹیک کرتےہوئے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔ایمبولنس کے ڈیش بورڈ کیمرہ کی ریکارڈنگ میں قید اس کار کے نمبر سےمالک کی شناخت کرتےہوئے کیرالہ پولیس اس کے گھر پہنچ گئی اور ڈھائی لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے ڈرائیورنگ لائسنس منسوخ کر دیا۔
کیرالہ پولیس نے گاڑی کے مالک پر ایمبولینس کے لیے راستہ نہ بنانے،موٹر وہیکل ایکٹ کےتحت کسی اتھارٹی کے فرائض میں رکاوٹ ڈالنے، اور پولیوشن انڈر کنٹرول سرٹیفکیٹ (PUCC) نہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
https://twitter.com/MDAppMDApp/status/1858010743246926150
” یہ بھی پڑھیں ”
بھوپال کے سبزی فروش سلمان خان کو 14 سال بعد ڈی ایس پی سنتوش پٹیل نے ڈھونڈ نکالا


