راہل گاندھی کو لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا

راہل گاندھی کو لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا
گجرات کی عدالت کی جانب سے دو سال کی جیل کی سزا کے فیصلہ بعد اقدام

نئی دہلی :24۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سابق صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) و رکن پارلیمان حلقہ وایناڈ (کیرالا) کی لوک سبھا رکنیت کو آج ختم کر دیا گیا ہے۔کل گجرات کے سورت کی ایک عدالت نے راہل گاندھی کو دو سال کی سزا کا فیصلہ صادر کیا تھا۔کانگریس پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکاہے، راہل گاندھی کو 2019 کے مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کی وجہ سے لوک سبھا سے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

لوک سبھا سیکریٹریٹ کی جانب سے آج بعد دوپہر جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ کے وایناڈ پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرنے والے لوک سبھا کے رکن جناب راہول گاندھی کو ان کی سزا سنائے جانے کی تاریخ یعنی 23 مارچ 2023 سے لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے آج جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ ہندوستان کے آئین عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 8 کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کل 23 مارچ کو گجرات کے سورت کی ایک عدالت کے ذریعہ وزیراعظم نریندر مودی کی کنیت کے بارے میں ان کے ریمارکس پر کانگریس رہنما راہول گاندھی کو 2019 کے مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں قصوروار پایا گیا اور انہیں دو سال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔تاہم انہیں فوری ضمانت بھی مل گئی تھی اور اس سزا کو 30 دن کے لیےمعطل رکھا گیاتھا تاکہ راہل گاندھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکیں۔

راہل گاندھی عدالتی فیصلہ سننے کے لیے ایک دن قبل ہی سورت پہنچے تھےاور کانگریس کی گجرات یونٹ کے سرکردہ رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔دو سال قید کی سزا کے فیصلہ کے بعد راہل گاندھی کل شام دہلی واپس لوٹ گئے تھے۔

کل سورت کی عدالت کی جانب سے دو سال قید کی سزا کے فیصلے کے بعد اپنے پہلے تبصرے میں راہل گاندھی نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندی میں ٹویٹ کیاتھا کہ ” میرا مذہب سچائی اور عدم تشدد پر مبنی ہے۔سچ میرا خدا ہے،عدم تشدد اسے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔”

راہل گاندھی کے خلاف یہ مقدمہ بی جے پی کے ایم ایل اے اور گجرات کے سابق وزیر پرنیش مودی نے کرناٹک کے ایک جلسہ میں 2019ء میں راہل گاندھی کے یہ کہنے پر دائر کیاتھا کہ” تمام چوروں کی مشترکہ "کنیت” "مودی ” کیسے ہے؟”۔بظاہر ان کا اشارہ بینکوں کے کروڑہا روپئے لے کر بیرون ملک فرار ہونے والے للت مودی اور نیرو مودی کی جانب مانا گیا تھا۔

وہیں راہل گاندھی کی بہن اور کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ” خوف زدہ حکمران RahulGandhi@ جی کی آواز کو دبانے کے لیے تمام راستے نکال رہے ہیں۔میرا بھائی کبھی خوفزدہ نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی ہوگا۔وہ سچ بولناجاری رکھیں گے۔ملک کے لوگوں کی آواز کو بلند کرنے کے لیے،سچائی کی طاقت اور کروڑوں ہم وطنوں کی محبت ان کے ساتھ ہے۔”

2019ء کے ہتک عزت کےمقدمہ میں سورت کی ایک عدالت کی جانب سےقصوروار ٹھہرائے جانے اور دو سال کی قید کےفیصلہ کے دوسرے دن اور لوک سبھا سیکریٹریٹ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیےجانےسے قبل راہل گاندھی آج جمعہ کو قومی صدر کانگریس پارٹی مسٹر ملک رجن کھرگے کے چیمبر میں پارٹی کی میٹنگ میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ میں موجود تھے۔

ان کی والدہ و رکن لوک سبھا شریمتی سونیا گاندھی بھی اس میٹنگ میں بھی موجود تھیں۔ملک ارجن کھرگے اور راہل گاندھی میٹنگ ختم ہونے کے بعد باہر نکلے۔راہل گاندھی سیڑھیوں سے اترنے میں ملک ارجن کھرگے کی مدد کرتےہوئے نظر آئے۔اس موقع پر راہل گاندھی نےطنز کرتے ہوئے کہا کہ”اگر میں ابھی آپ کو چھوتا ہوں،تو وہ کہیں گے کہ میں آپ کی پیٹھ پر ناک پونچھ رہا ہوں۔کیا آپ نے دیکھا ہے؟ کہ میں وہاں آپ کی مدد کر رہا ہوں،وہ کہہ رہے ہیں کہ میں آپ پر ناک پونچھ رہا ہوں۔”

کیونکہ 18 مارچ کو کرناٹک بی جے پی نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتےہوئے لکھاتھاکہ بدقسمتی سے،ویڈیو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ” گاندھی سینئر لیڈروں جیسے کھرگےکے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔راہل گاندھی کسی کو اپنے ٹشو پیپر کےطور پر استعمال کرتے ہیں! کناڈیگا کی یہ تذلیل معاف نہیں کی جا سکتی۔”

عدالت سے راہل گاندھی کو دو سال قید کی سزا پر صدر قومی کانگریس مسٹرملک ارجن کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت اڈانی پر جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) سے بھاگنے کے لیے روزانہ نئے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ نیرو مودی،للت مودی،میہول چوکسی بینک اورعوام کا پیسہ لے کر بھاگ گئے۔مودی حکومت ان کا دفاع کیوں کر رہی ہے؟ ذات پات کی سیاست کا استعمال شرمناک ہے۔!

راہل گاندھی کو لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دئیے جانے والے نوٹیفکیشن کی اجزائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے اس فیصلہ کو غلط قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ” لوک سبھا سکریٹریٹ کسی رکن کو نااہل قرار نہیں دے سکتا۔صدر جمہوریہ ہند کو یہ فیصلہ مرکزی الیکشن کمیشن کے مشورہ کے بعد کرنا ہوگا۔”

کانگریس کے ایک اور سینئر رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے اس فیصلہ پر کہاکہ یہ جمہوریت کےلیے برا ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ میں عدالتی فیصلے کے 24 گھنٹوں کے اندر اس کارروائی اور اس کی تیز رفتاری سے دنگ رہ گیا ہوں اور جب کہ ایک اپیل زیرسماعت تھی۔ یہ دستانے اتار کر سیاست ہے اور یہ ہماری جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔