اترپردیش کےلکھیم پور میں کسانوں کو کار سے رؤندے جانے والا ویڈیو ہوا وائرل
پولیس حراست میں محروس پرینکا گاندھی نے ویڈیو کے ذریعہ وزیراعظم مودی سے پوچھے سوال
لکھنو/لکھیم پور: 05۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
اترپردیش کےلکھیم پور کھیری میں اتوار کے دن مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کی مختلف پروگراموں میں شرکت کے دؤران مرکزی حکومت کی جانب سے منظورہ تینوں قوانین کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ دس ماہ سے احتجاج کررہے کسانوں نے اس پروگرام کے دؤران احتجاج کیا اور مرکزی وزیر کو کالی جھنڈیاں دکھائیں۔
پروگرام کے اختتام کے بعد واپس ہورہے کسانوں پر عقب سے گاڑی چڑھادی گئی تھی جس میں جملہ 9 افراد ہلاک ہوگئے بتایا جاتا ہے کہ ان میں چار کسان، ایک مقامی صحافی، تین بی جے پی کارکن اور ایک ڈرائیور شامل ہیں۔
اس بربریت والے واقعہ کے عینی شاہد کسانوں نے میڈیا کیمروں کے سامنے کہا تھا کہ کسانوں پر مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئےمشرا کے بیٹے ابھئے مشرا نے کار چڑھائی ہے۔بعد ازاں برہم کسانوں نے ان کی کار سمیت تین گاڑیوں کو نذرآتش کیا تھا اور ابھئے مشرا کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہاں سے فرار ہونے کے دؤران انہوں نے فائرنگ بھی کی تھی۔

اس واقعہ کے بعد مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا نے ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ واقعہ کے وقت ان کا بیٹا ابھئے مشرا وہاں موجود ہی نہیں تھا۔
بعدازاں ملک اور ریاست میں اس واقعہ کی چاروں طرف سے مذمت اور کسانوں کے بڑھتے غصہ کو دیکھتے ہوئے کل پیر کے دن اترپردیش حکومت اور کسانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے مہلوک کسانوں کے خاندانوں کو فی کس 45 لاکھ روپئے ایکس گریشا اور گھر کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کرنے اور لکھیم پور کھیری واقعہ میں ایک درجن سے زائد زخمی ہونے والے کسانوں کو فی کس دس لاکھ روپئے کا اعلان کیا ہے۔
ساتھ ہی حکومت اترپردیش نے کل ہی احتجاجی کسانوں پر کار چڑھا دینے کے الزامات کا سامنا کررہے مرکزی وزیر کے بیٹے اشیش مشرا سمیت 14 افراد پر قتل کا کیس درج کرلیا ہے۔
ایسے میں آج سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر ایک ایسا ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احتجاج کے بعد خاموشی کے ساتھ واپس ہونے والے کسانوں پرعقب آنے والی ایک کار اچانک انہیں رؤند رہی ہے۔کہا جارہا ہے کہ یہ کار مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے کی ملکیت ہے اور کار چلانے والے خود ابھئے مشرا ہیں۔
https://www.instagram.com/p/CUoCGQUsdiw/?utm_source=ig_web_copy_link
اس سلسلہ میں اتوار کی رات اس واقعہ میں مرنے والے کسانوں کے افراد خاندان سے ملاقات کی غرض سےلکھیم پور کھیری جارہیں جنرل سیکریٹری کانگریس و انچارج اتر پردیش پرینکا گاندھی کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے انہیں اترپردیش کے سیتاپور کے کسی مقام پر محروس رکھا ہے۔
آج فیس بک،ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر اترپردیش میں پولیس کی حراست میں موجود پرینکا گاندھی کا بھی ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں وہ ایک اور موبائل فون کے اسکرین پر لکھیم پور کھیری میں کسانوں پر پیچھے سے کار چڑھاکر انہیں رؤندے جانے والا ویڈیو دکھاتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ
https://www.instagram.com/tv/CUonYGpJiWS/?utm_source=ig_web_copy_link
” مودی جی نمسکار،میں نے سنا ہے کہ آج آپ آزادی کا امرت اتسو منانے کے لیے لکھئو آرہے ہیں!میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا آپ نے یہ ویڈیو دیکھا ہے؟
یہ ویڈیو آپ کی سرکار کے ایک منتری کے بیٹے کی جانب سے کسانوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچلتے ہوئے دکھاتا ہے،اس ویڈیو کو دیکھئیے،دیش کو بچائیے۔اس ویڈیو میں پرینکا گاندھی سوال کرتی ہیں کہ اس منتری کو اب تک کیوں عہدہ سے برخاست نہیں کیا گیا اور اس لڑکے کو اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟
اس ویڈیو میں پرینکا گاندھی کہہ رہی ہیں کہ میرے جیسے اپوزیشن لیڈرس کو تو بناء کسی ایف آئی اور آرڈر کے حراست میں تو رکھا گیاہے! میں جاننا چاہتی ہوں کہ یہ آدمی اب تک آزاد کیوں ہے؟
اس ویڈیو میں پرینکا گاندھی کہتی ہیں کہ آج آپ آزادی کا امرت اتسو کے منچ پر موجود رہیں گے تو آپ یاد رکھیں کہ اس ملک کو آزادی کسانوں نے بھی دلائی ہے اور آج بھی اس ملک کی سرحدوں پر فوجی جو کہ کسانوں کے بچے ہیں ملک کی حفاظت کر رہے ہیں، اس ویڈیو میں پرینکا گاندھی کہہ رہی ہیں کہ کسان مہینوں سے اپنی آواز اٹھارہا ہے اور آپ اس آواز کو نظرانداز کررہے ہیں۔
میں آپ سے اپیل کرتی ہوں کہ لکھیم پور آئیں اور کسانوں کی پریشانیاں سنیں،ان کے دکھ درد سے واقفیت حاصل کریں اور ان کسانوں کی حفاظت کرنا آپ کا دھرم ہے،پرینکا گاندھی اس ویڈیو میں کتہی ہیں کہ جس آئین کی قسم کھاکر آپ نے اپنے عہدہ کا حلف لیا اس کا دھرم بھی یہی ہے۔

