حکومت تلنگانہ کو چیوڑلہ میں موجود "برگد کے درختوں” کی منتقلی سے روکنے کے لیے
ماحول دوست جہد کار دوبارہ کمربستہ،چیوڑلہ میں درختوں کے نیچے انوکھا احتجاج
حیدرآباد/چیوڑلہ: 05۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
رنگاریڈی ضلع میں چیوڑلہ روڈ پر بڑے پیمانے پر موجود برگد کے درختوں کی دوسرے مقام کو منتقلی سے متعلق تازہ اطلاعات پر ماحول دوست جہدکار پھر سے حرکت میں آگئے ہیں اور اتوار کو باقاعدہ اسی سڑک پر ایک برگد کےدرخت کے نیچے انوکھا احتجاج منظم کرتے ہوئے قدرتی اور ثقافتی ورثہ کے حامل ان درختوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ چیوڑلہ سڑک پر زائد از 1100 برگدکے درخت ہیں جو کہ تاریخی عثمان ساگر اور حمایت ساگر ذخائر آب کی تعمیر کے موقع پر لگائے گئے تھے لیکن اب یہ قدیم درخت سڑک کی کشادگی کی زد میں آرہے ہیں۔
اس سڑک کی توسیع دراصل چار رخی راستہ پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عمل میں لائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ دو سال قبل یہ مسئلہ میڈیا کے گوشہ میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب ماحول دوست جہدکاروں نے یہاں سے برگد کے درختوں کی دوسرے مقام کو منتقلی کے خلاف زور دار احتجاج کیا تھا۔
معین آباد سے وقارآباد کو جانے والے اس حیدرآباد۔بیجاپور ہائی وے پر بڑے پیمانہ پر موجودیہ برگد کے درخت فطری طور پر مسافرین کو سایہ دار گزرگاہ فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس علاقہ کے قدرتی ماحول کو بنائے رکھنے میں بھی معاون ہیں۔

زائد از 60 ماحول دوست جہد کاروں کی ایک ٹیم اتوار کو چیوڑلہ روڈ پر ایک برگد کے درخت کے نیچے جمع ہوئی اور پھر خاکہ نگاری کی مشق کرکے حکومت کی توجہ ماحولیات کے تحفظ خاص کر جنگلاتی بوقلمی کی اہمیت کی طرف مبذول کروائی۔
اس احتجاج کے ذریعہ اس بات پر بھی زور دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پیڑ اور پودے کرہء عرض پر انسان اور چرند و پرند کی بقاء کے لیے کس قدر ضروری ہیں۔
اس موقع پر ایک ماحول دوست جہد کار آسیہ خان نے بتایا کہ”سال 2019 میں برگد کے درختوں کو منتقل کرنے کی کوشش کے خلاف کیے گئے احتجاج کے بعد یہ مسئلہ تقریباً دو برسوں تک ٹھنڈے بستے میں پڑا رہا لیکن گزشتہ ماہ اچانک اس وقت یہ پھر سے سرخیوں میں آگیا جب یہ اطلاعات عام ہونے لگیں کہ سڑک کی توسیع کی تجویز کو مرکزی حکومت نے منظوری دے دی ہے۔
جس سے چار رخی راستہ کی تعمیر کے لیے ان دیوہیکل درختوں کی پامالی تقریباً طئے ہوگئی ہے۔اس طرح معین آباد اور چیوڑلہ سے وقار آباد تک کے راستہ پر موجود زائد از 1100 برگد کے درختوں کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے کیونکہ ہمیں پتہ چلاہے کہ حکومت ان قدیم درختوں کو منتقل کرنے کے اپنے قدیم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری کررہی ہے۔“
ایک اور ماحول دوست جہد کار ساتھنا رامچندر نے استدلال پیش کیا کہ” ہم نے اس سے پہلے دیکھا ہے کہ سایہ دار درختوں کو بھاری رقم خرچ کرکے لگایا گیا اور پھر چند برسوں بعد ہی انہیں سڑک کی توسیع یا فلائی اوور بریج کی تعمیر کے نام پر پامال کردیا گیا۔

چیوڑلہ روڈ پر موجود برگد کے درخت صدیوں سے وہیں کھڑے ہیں اور یہ ہمارے ثقافتی وتاریخی ورثہ کاایک حصہ ہیں۔آج ہمیں انہیں ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟
اس احتجاج میں شامل ایک اورماحول دوست جہد کار تیجا بلن تراپو نے بتایا کہ” ایک پرامن احتجاج کے طور پر ہم نے چیوڑلہ میں روڈ کے کنارے موجود ایک درخت کے نیچے پر سکون ماحول میں شعر گوئی اور پوسٹر پینٹنگ کا بھی اہتمام کیا تاکہ ان ماحول دوست دیوہیکل درختوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے جن کا ہمارے ملک میں صدیوں سے نہ صرف احترام کیا جاتا ہے۔
بلکہ تحقیق میں یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ برگد کے درختوں کا ادویات سازی میں استعمال کیا جاتا ہے۔“اور حیدرآباد۔وقارآباد کے درمیان موجود یہ برگد کے پیڑ مسافرین کے ساتھ ساتھ چرند اور پرند کے لیے برسوں سے سایہ فراہم کرتے ہیں اور اطراف کے ماحول کو سرسبز و شاداب بنائے ہوئے ہیں۔
