آئی پی ایل کے سٹے میں 24 خاندانوں کے فکسڈ ڈپازٹ کی رقم
ایک کروڑ روپئے ہار جانے والا پوسٹ ماسٹر گرفتار
بھوپال: 26۔مئی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
لوگوں کی زیادہ تر تعداد اپنےمستقبل کے لیے پائی پائی جوڑکر اپنی رقم بینکس اور پوسٹ آفسوں میں ڈپازٹ کرواتی ہے کہ مشکل وقت میں یہ رقم کام آئے۔لیکن مدھیہ پردیش میں ایک ایسے واقعہ کا انکشاف ہوا ہے جہاں پوسٹ آفس میں کھاتہ داروں کی جانب سےفکسڈ ڈپازٹ کروائے گئے ایک کروڑ روپئے کی رقم پوسٹ ماسٹر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)کے کرکٹ میچوں پر سٹے بازی کرتے ہوئے ہار گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ رقم 24 خاندانوں کی بچت کی رقم تھی اور اسے مدھیہ پردیش کےضلع ساگر کے ایک سب پوسٹ آفس میں جمع کروانی تھی تاہم پوسٹ ماسٹر یہ رقم آئی پی ایل کے سٹہ میں ہار گیا۔
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے 169 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجودضلع ساگر کے بینا Bina# سب پوسٹ آفس کے پوسٹ ماسٹر وشال اہیروار کو بینا گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) نے 20 مئی کو گرفتار کیا تھا۔مبینہ طور پر اس نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم پوسٹ ماسٹر وشال اہیروار نے جعلی فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹس کے لیے حقیقی پاس بک جاری کیں اور گزشتہ دو سال سے پوری رقم انڈین پریمیئر لیگ آئی پی ایل کرکٹ سٹے بازی میں لگادی اور یہ رقم ہار گیا۔
اس دھوکہ دہی کے شکار بہت سے معصوم لوگوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے جس نے کوروناوبا کےدؤران اپنے شوہر اور سسر دونوں کو کھو دیا تھا اس خاتون کے 9 لاکھ روپئے بھی اس فکسڈ ڈپازٹ کی گئی رقم میں شامل ہیں۔ایک متاثرہ ضعیف خاتون جس نے اپنی چار بیٹیوں کی شادی کے لیے 5 لاکھ روپے جمع کروائے تھے۔
پوسٹ آفس میں اپنی محنت کی کمائی جمع کرنے والے ان چھوٹے سرمایہ کاروں کا مستقبل اب غیر واضح نظر آتا ہے!۔کیونکہ اس دھوکہ باز پوسٹ ماسٹر نے یہ رقم سرکاری خزانہ میں جمع نہیں کروائی اور نہ ہی محکمہ پوسٹ کی جانب سے مصدقہ فکسڈ ڈپازٹ کی رسید یا پاس بک ہی جاری کی۔

بینا گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی)پولیس اسٹیشن کے انچارج اجئے دھووے نے میڈیا کو بتایا کہ دو درجن خاندانوں کے فکسڈ ڈپازٹ کی رقم سٹہ میں سٹہ ہارنے کے بعد گرفتار شدہ سب پوسٹ ماسٹر بینا سب پوسٹ آفس وشال اہیروار کے خلاف فی الحال انڈین پینل کوڈ کی دفعات 420 (دھوکہ دہی) اور 408 (مجرمانہ طور پر اعتماد کی خلاف ورزی)کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔اور اس معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں۔تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کیس میں مزید دفعات شامل کی جاسکتی ہیں۔اور سب پوسٹ ماسٹر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔

