تلنگانہ کی مسجدوں کی کھدائی کریں گے، نعشیں نکلیں تو تمہاری شیولنگ نکلے تو ہمارے، اقتدار پر آئے تو دینی مدارس پر پابندی :صدر تلنگانہ بی جے پی

تلنگانہ کی مسجدوں کی کھدائی کریں گے،نعشیں نکلیں تو تمہاری،شیولنگ نکلے تو ہمارے
اقتدار پر آئے تو دہشت گردی کے اڈوں دینی مدارس اور اردو زبان پر پابندی
تمام بم دھماکوں میں مسلمان ہی ملوث،تلنگانہ کو بھگوا رنگ میں رنگ دیا جائے گا
کریم نگر میں صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار کا اشتعال انگیز خطاب
کریم نگر: 26۔مئی (سحرنیوزڈاٹ کام)
صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان حلقہ کریم نگر بنڈی سنجے کمار نے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں،مساجد اور مدارس کے خلاف اب کھل کر زہر افشانی کرتے ہوئے انتہائی دلآزار حملے کیے ہیں۔
چہارشنبہ کی شام دیر گئے صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے اپنے پارلیمانی حلقہ کریم نگر میں منعقدہ ہندو ایکتا یاترا سے اپنے خطاب کے دؤران صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد سے سوال کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کسی بھی مسجد کی بنیادوں کی کھدائی کریں گے، اگر نعشیں نکلیں تو آپ رکھ لیں اور "شیولنگ” نکلیں تو ہم لیں گے”۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ماضی میں 36 ہزار منادر کو منہدم کرنے سے ہندو مضطرب ہیں۔بنڈی سنجے کمار نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ آج ملک میں کسی بھی مسجد کی کھدائی کریں تو منادر اور شیولنگ ہی نکل رہے ہیں۔
کریم نگر میں منعقدہ اس ہندو ایکتا یاترا کے آغاز ہی سے انتہائی اشتعال انگیز خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے اعلان کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد اردو زبان کی سرکاری زبان کی حیثیت ختم کی جائے گی۔
انہوں نے دینی مدارس کو دہشت گردوں کے اڈے قرار دیتے ہوئے دینی مدارس پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو بھگوا رنگ میں رنگ دیا جائے گا۔
ساتھ ہی صدر تلنگانہ بی جے پی نے کہا کہ لوجہاد کے ذریعہ ہندو لڑکیوں کو بہکانے والوں کو لاٹھیوں کے ذریعہ سبق سکھایا جائے گا اور غریب ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروانے والوں کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کریم نگر کی عیدگاہ اور ویملواڑہ کی درگاہ کو کسی بھی طرح برخاست کرنا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں مینارٹیز کو دی جانے والی ترجیح کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کسی بھی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ مجلس کی تائید و حمایت کرنے والوں کو بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ریاست اور حیدرآباد کے مسلمانوں پر صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے اپنے پارلیمانی حلقہ کریم نگر میں منعقدہ ہندو ایکتا یاترا سے اپنے خطاب کے کہا کہ حیدرآباد میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگانے والوں کو سبق سکھایا گیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں پر یہ سنگین الزامات عائد کیے کہ کریم نگر بس اسٹانڈ،کورٹلہ اور جگتیال میں بم دھماکے مسلمانوں نے ہی کیے تھے۔چوپا دنڈی بینک لوٹنے میں مسلمان ہی ملوث تھے۔اس سے دو قدم آگے بڑھ کر صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے مسلمانوں کے خلاف اپنی زہر افشانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لمبنی پارک،گوگل چاٹ بھنڈار اور سائی بابا مندر میں بم دھماکے مسلمانوں کی ہی کارستانی تھی۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ورنگل میں پجاری کے قتل اور بی جے پی کارکن ناگاراجو کا قتل بھی مسلمانوں نے ہی کیا ہے۔
اپنے خطاب میں بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ رضاکاروں کے مظالم کے خلاف فلم کشمیر فائلز کی طرح فلم رضاکار فائلز بھی لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے 19 فیصد مسلمانوں کی حمایتی جماعت کو اقتدار سے بے دخل کرنا لازمی ہے۔
اپنے اس خطاب میں زہرافشانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے اس ہندو ایکتا یاترا سے خطاب کے دؤران کہا کہ بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد ریاست میں مسلمانوں کو دئیے جانے والے تحفظات(ریزرویشن) کوختم کردیا جائے گا انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کے حق میں لائے گئے تین طلاق قانون کے تحت ان مسلم خواتین کی مدد کی جائے گی۔