تانڈور میں نومولود کو فروخت کرنے کے معاملہ کا نیا موڑ، ماں لاپتہ ، پولیس تحقیقات جاری

تانڈور میں نومولود کو فروخت کرنے کے معاملہ کا نیا موڑ، ماں لاپتہ ، پولیس تحقیقات جاری

تانڈور۔14۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام)
آج صبح سے پدیمول منڈل کے موضع بدھارم سے میڈیا میں ایسی اطلاعات سرگرم تھیں کہ داماد کو دئیے گئے قرض کی رقم حاصل کرنے کی غرض سے 9 دن کے نومولود لڑکے کو نانی اور ماں نے تانڈور کے ساکن ایک جوڑے کو 70 ہزار روپئے میں فروخت کردیاہےاور سحر نیوز ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ایسی اطلاعات کی سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور رورل جلندھر ریڈی نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس اس سارے معاملہ کی تحقیقات میں مصروف ہے۔

سب انسپکٹر پولیس تانڈور مسٹر گیری قدیم تانڈور میں تحقیقات میں مصروف

ان اطلاعات کے عام ہوتے ہی سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور رورل مسٹر جلندھر ریڈی ،پدیمول پولیس اور تانڈور پولیس چوکس ہوگئی اس سلسلہ میں پدیمول پولیس موضع بدھارم میں اور تانڈورپولیس قدیم تانڈور میں تحقیقات میں مصروف ہوگئی جس کے دؤران انکشاف ہوا کہ نومولود کو فروخت کیے جانے کے بعد سے اس کی ماں بھی لاپتہ ہے جسکے بعد ہی یہ سارا معاملہ منظر عام پر آیاہے۔

آج سب انسپکٹر پولیس تانڈور مسٹر گیری نے قدیم تانڈور پہنچ کرتلگوگڈہ قدیم تانڈور کے علاقہ کے رہائشی نومولود کی نانی لکشمی اور انکی ایک اور دختر سے پوچھ تاچھ کی تو یہ انکشاف ہوا کہ انکی بیٹی بھیمماں کی شادی بدھارم کے ساکن راملو سے کی گئی تھی جنہیں ایک چار سالہ لڑکا ہے اسی دؤران چار ماہ قبل بھیمماں نے ایک اور لڑکے کو جنم دیا تھا جسکے بعد بھیمماں کے شوہر راملو نے اپنے اوپر موجود قرض کی ادائیگی کیلئے لڑکے کے پیدا ہونے کے 9 دن بعد ہی تانڈور کے ساکن ایک شخص کو اپنا نومولود لڑکا 70 ہزار روپئے میں فروخت کردیا

اس کے بعد سے لکشمی کی بیٹی بھیمماں بھی لاپتہ ہوگئی جس پر لکشمی اور انکے شوہر شنکر نے اپنے داماد بدھارم کے ساکن راملو سے بازپرس کی اسکے بعد ہی آج چار ماہ بعدنومولود لڑکے کو فروخت کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ۔

دوسری جانب لاپتہ ماں بھیمماں کی بہن نے میڈیا کو بتایا کہ نومولود کو فروخت کیے جانے کے جھگڑے کے دوران انکی بہن بھیمماں بھی لاپتہ ہے ۔ اس سارے معاملہ کی پدیمول اور تانڈور پولیس انتہائی باریکی کیساتھ تحقیقات میں مصروف ہے۔

اور اس شخص کا پتہ لگانے میں بھی پولیس مصروف ہے جس نے نومولود کو 70 ہزار روپئے میں خریدا تھا۔اس سارے معاملہ کے تمام حقائق پولیس کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی سامنے آنے کا امکان ہے۔