کیا بار بار یہی بات دُہرائی جائے گی؟ پیگاسیس جاسوسی معاملہ کی سماعت: چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ریمارک

کیا بار بار یہی بات دُہرائی جائے گی؟
پیگاسیس جاسوسی معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت
چیف جسٹس این وی رمنا کا ریمارک

نئی دہلی :13۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام؍ایجنسیز)

معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ این وی رمنا نے آج پیگاسیس جاسوسی معاملہ کی سماعت کے دؤران مرکزی حکومت کی جانب سے رجوع ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ پر ریمارک کیا کہ حلف نامہ داخل کرنے کے معاملہ میں کیا بار بار یہی بات دہرائی جائے گی؟

معزز چیف جسٹس این وی رمنا نے سخت ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا تو سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملہ میں عبوری احکامات جاری کیے جائیں گے۔

ایڈیٹرس گلڈس کے علاوہ مختلف صحافیوں بشمول این۔رام نے اس مسئلہ پر حکومت کا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے درخواست کی ہے کہ پیگاسیس موبائل فون جاسوسی معاملہ پر آزادانہ جانچ کی جائے جس کی آج چیف جسٹس این وی رمنا،جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی پرمشتمل تین رکنی بینچ نے ملک کی اعلیٰ عدالت میں سماعت کی۔

اس سماعت کے دؤران مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ میگاسیس جاسوسی معاملہ کی جانچ کے لیے مرکزی حکومت ایک ماہرین کی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے تیار ہے اور اس معاملہ میں ایک اور حلف نامہ داخل نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ ملک کی سیکورٹی پر کھلے عام بات کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس معاملہ میں ماہرین پر مشتمل ایک آزاد کمیٹی جانچ کے بعدرپورٹ دے گی۔

Representative Imge

جس پر سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ قومی سلامتی اور امن و امان کے معاملات میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کررہی ہے بلکہ سپریم کورٹ صرف صحافیوں،سماجی جہد کاروں اور دیگر کی جانب سے ان کے حقوق کے تحفظ کی غرض سے داخل کی گئیں درخواستوں کی سماعت کررہی ہے۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی جانب سے بار بار اسی ایک موقف کو ظاہر کرنے کو قبول نہیں کیا۔

سماعت کے دؤران معزز چیف جسٹس این وی رمنا نے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ سے کہا کہ پیگاسیس جاسوسی معاملہ پر سب کی نگاہیں ہیں اور اس معاملہ میں مرکزی حکومت صرف یہ واضح کرے کہ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں؟

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل کپل سبل نے سالیسٹر جنرل کے موقف کو غلط بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت یہ پیغام دے رہی ہے کہ حقائق ہم واضح نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے ہی غیر قانونی طریقہ سے پیگاسیس جاسوسی سافٹ ویئر کا استعمال کیا جارہا ہے۔سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ جاسوسی سافٹ ویئر کے استعمال کا بھی ایک الگ طریقہ ہوتا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمیں جو کرنا ہے ہم کریں جیسا موقف مرکزی حکومت کا ہے۔

دونوں جانب سے کی گئی بحث کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔اور اس سلسلہ میں سپریم کورٹ دو یا تین دنوں میں پیگاسیس جاسوسی معاملہ میں عبوری حکمنامہ جاری کرنے والی ہے۔

اس سلسلہ میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے حلف نامہ کے عدم ادخال پر عبوری حکمنامہ جاری کیا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں مرکزی حکومت دوبارہ غور کرنے پر تیار ہو تو سپریم کورٹ کو اطلاع دے۔

File Photo

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ بین الاقوامی میڈیا نے انکشاف کیا تھا کہ ہندوستان میں اسرائیلی پیگاسیس جاسوسی موبائل سافٹ ویر کے ذریعہ ملک کے دو مرکزی وزراء، 40 سے زائد صحافیوں،تین اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران،ایک جج اور مختلف صنعت کاروں،سماجی جہد کاروں سمیت 300 سے زائد افراد کے موبائل فونس کی ہیاکنگ کے ذریعہ جاسوسی کی گئی ہے!!

جبکہ ان الزامات کے آغاز کے بعد سے ہی مرکزی حکومت اس سے انکار کررہی ہے۔وہیں اس سافٹ تیار کرنے والی اسرائیلی ایم او ایس کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنا سافٹ ویئر صرف حکومتوں کو فروخت کرتی ہے!!

جس کے بعد اس معاملہ میں چند ذمہ دار افراد سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔پیگاسیس جاسوسی معاملہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس پر بھی چھایا ہوا تھا اور اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملہ میں حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

                           ……… ** ……..

17 اگست کو پیگاسیس جاسوسی معاملہ کی سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت کی تفصیلات اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہیں "

پیگاسیس جاسوسی معاملہ ، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی