مسلمانوں کی بہووؤں اور بیٹیوں کا اغوا اورعصمت دری کی دھمکی، مہنت بجرنگ منی نے معافی مانگ لی،6 دن بعد کیس درج

حکومت کی توجہ چاہتی ہیں یہ جلتی بستیاں
عدالت پوچھنا چاہے تو ملبہ بول سکتا ہے

مسلمانوں کی بہووؤں اور بیٹیوں کا اغوا اور عصمت دری کی دھمکی
6 دن بعد یوپی پولیس نے کیس درج کیا،مہنت بجرنگ منی نے معافی مانگ لی

لکھنئو/نئی دہلی :09۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ملک میں ایک ایسی نفرت کی فضاء تیار کردی گئی ہے کہ ہر ایرا غیرا زعفرانی لباس پہن کر کھلے عام اور پولیس کی موجودگی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کررہا ہے،مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور باقاعدہ ان اشتعال انگیز تقاریر کے ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیے جارہے ہیں۔

پھر بھی مرکزی و ریاستی حکومتیں،وزارت داخلہ،انٹلیجنس ایجنسیاں،محکمہ پولیس اور عدلیہ ایسے خاموش ہیں جیسے کہ انہیں کوئی اطلاع ہی نہیں ہے!

حتیٰ کہ چند غیر جانبدار نیوز چینلس ان زعفرانی چولے میں موجود مہنتوں کی اشتعال انگیز تقاریر اور دھمکیوں پرمشتمل بیانات کے ویڈیوز بھی دکھا رہے ہیں۔

وہیں سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز کی سونامی آئی ہوئی ہے۔لیکن قانون اور قانون مافذ کرنے والوں کی شاید ان پر نظر نہیں پڑ رہی ہے یا یہ مان لیا جائے کہ سب کچھ دیکھ اور سن کر بھی یہ قانون کے پاسبان خاموش ہیں؟؟

کل 7 اپریل کو فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر MohammedZubair@نے بجرنگ منی کا ایک ویڈیو ٹوئٹر پر پوسٹ کیا ہے۔جو کہ مہارشی شری لکشمن داس اُداسین آشرم کا مہنت بتایا گیاہے۔محمد زبیر کے مطابق یہ ویڈیو اترپردیش کے سیتاپور ضلع کے خیرآباد کا ہے۔جہاں شیشے والی مسجد کے سامنے دو بجے دن شہر میں نکالی گئی شوبھا یاترا کومسجد کے سامنے روک کربجرنگ منی نامی یہ مہنت باقاعدہ لاؤڈ اسپیکر پر کہہ رہا ہے کہ”ہندو لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے پرمسلمانوں کی بہوؤں اور بیٹیوں کا اغواء کرکے ان کی عصمت دری کی جائے گی۔

بجرنگ منی کی ان انتہائی دلآزار دھمکیوں کے دؤران جلوس میں موجود نوجوانوں کی بڑی تعداد جوش کے ساتھ جئےشری رام کے نعرے لگارہی ہے۔قابل غور اور تشویشناک بات یہ ہے کہ جب بجرنگ منی گاڑی میں بیٹھ کر لاؤڈ اسپیکر پر یہ دھمکیاں دے رہاتھا اس وقت اس کی اس گاڑی پر سوار دو پولیس جوان اس کا تحفظ کررہے تھے۔اس کی گاڑی کو پولیس والےگھیرے ہوئےتھے ساتھ ہی اس شوبھایاترا بھی پولیس کی بڑی تعداد موجود تھی۔

بجرنگ منی کی کھلے عام دی گئیں دھمکیاں اور اس کا تحفظ کرتی پولیس فورس ان دونوں ویڈیوز میں سنی اور دیکھی جاسکتی ہیں ” 

https://twitter.com/zoo_bear/status/1512320722227458051

محمدزبیر کی جانب سے ٹوئٹ کیے گئے اس بجرنگ منی کے ویڈیو پر”سیتا پور پولیس”کے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سےکمنٹ کیا گیا ہے کہ”اس علاقہ کے عہدیدار کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس ویڈیو اور بیان کی جانچ کرے اور مناسب کارروائی کرے۔”

اسی دؤران این ڈی ٹی وی کی اطلاع کے مطابق اتر پردیش کے سیتا پور ضلع میں ایک مسجد کے باہر ہندو پجاری بجرنگ منی کی نفرت انگیز تقریر کے 6 دن بعد جس میں اس نے مبینہ طور پرمسلم خواتین کو اغوا کرنے اور ان کی عصمت دری کرنے کی دھمکی دی تھی آج 8 اپریل کو پولیس نے کیس درج کرلیا ہے اور اس معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے۔

سیتاپور پولیس کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک دیڈیو ٹوئٹ کیا گیا ہے جس میں سیتا پور کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیو ڈکشٹ کہہ رہے ہیں کہ”خیرآباد قصبہ میں نفرت انگیز تقریر کے وائرل ویڈیو پر مہنت بجرنگ منی داس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

بجرنگ منی کے اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد قومی خواتین کمیشن نے بھی اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔قومی خواتین کمیشن نے اترپردیش کے ڈی جی پی کو ایک خط لکھا ہے۔چیئرپرسن قومی کمیشن برائے خواتین چیئرپرسن محترمہ ریکھا شرما نے جمعہ کے روز کہا کہ ایک مخصوص طبقہ کی خواتین کے خلاف متنازعہ بیان دینے والے لوگ عوام میں قابل قبول نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہی کمیشن کی جانب سے یوپی کے ڈی جی پی کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ چیئرپرسن قومی کمیشن برائے خواتین چیئرپرسن محترمہ ریکھا شرما نے کہا کہ اس معاملہ میں وہ خود ذاتی طور پر یہ معاملہ اٹھانے جارہی ہوں۔

 اسی دؤران آج 8 اپریل کو ایک گھنٹہ قبل محمدزبیر نے بجرنگ منی کا ایک اور ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”یہاں ایک اور ویڈیو میں بجرنگ منی نہ صرف مسلم خواتین کی عصمت دری کی دھمکیاں دے رہا ہے بلکہ اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پولیس اور یوپی حکومت کوبھی چیلنج کررہا ہے۔اس ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے قریب پولیس اس کی حفاظت کے لیے موجودہے۔

https://twitter.com/H8cHqHp9xHTwfNq/status/1512399948225994752

 

ملک کے مختلف مقامات پر جاری مسلم مخالف دہشت گردی،نسل کشی کی دھمکیوں،مساجد پر چڑھ کر ان کی بے حرمتی کے ان کربناک واقعات کو روکنا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔اس سے دنیا بھر میں ہندوستان کی بدنامی ہورہی ہے۔اور نفرت انگیزمسلم مخالف مہم کو روکنا حکومت،عدالتوں اور پولیس کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔بقول منور رانا (تھوڑی سی تحریف کے ساتھ) کہ 

حکومت کی توجہ چاہتی ہیں یہ جلتی بستیاں
عدالت پوچھنا چاہے تو ملبہ بول سکتا ہے