کرناٹک میں طالبات اور ٹیچرز کو بے حجاب کرنے کے بعد، اب مسلم بیوپاری،پھل فروش اور آٹو ڈرائیورز بھی نشانہ پر

عمر بھر تو کوئی بھی جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤگے تجربہ ہمارا ہے

کرناٹک میں طالبات اور ٹیچرز کو بےحجاب کرنے کے بعد
اب مسلم بیوپاری،پھل فروش اور آٹو ڈرائیورز بھی نشانہ پر

بنگلورو:09۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ریاست کرناٹک آئی ٹی کے شعبہ میں پورے ملک میں اول نمبر پر ہے۔کرناٹک کے دارالحکومت بنگلوروکو”سیلیکون ویلی”کی حیثیت حاصل ہے۔جہاں دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر قائم ہیں جن میں لاکھوں کی تعداد میں غیرملکی اور ملک کے نوجوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔

دنیا بھر میں بنگلورو کی حیثیت باغوں کے شہر کی حیثیت سےمشہورہے۔لیکن افسوس کہ باغوں کے شہر والی ریاست کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف بوئے گئے نفرت کے بیج خاردار پودوں میں اور اب یہی خاردار پودے تناور درختوں میں تبدیل ہوتےجارہے ہیں!!۔جبکہ ملکی اورغیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد بشمول بنگلورو،میسور کرناٹک کے دیگر خوبصورت مقامات کی تفریح کے لیے پہنچتی ہے۔

لیکن افسوس کہ گزشتہ سال ڈسمبر سے کرناٹک کو چند شدت پسند ہندوتواطاقتوں نےمذہبی منافرت اورفرقہ پرستی کی لیبارٹری میں تبدیل کرکے رکھ دیاہے جہاں روز مسلمانوں اورمسلم بیوپاریوں کے خلاف ایک نئی نفرت انگیز مہم شروع کی جارہی ہے۔

اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر باقاعدہ حکومت کی جانب سے پابندی پھر اس پابندی پر کرناٹک ہائی کورٹ کی مہر کے بعد ہندو شدت پسندوں کےحوصلے دن بہ دن بلند ہوتے جارہے ہیں۔اسی کرناٹک کے چند جنوبی اضلاع کے کئی مندروں کے انتظامیہ نے بجرنگ دل،وشواہندو پریشد اورشری رام سینا کی جانب سے اعتراض کے بعد تہواروں کے موقع پر پابندی عائد کردی کہ مسلم دکاندار ان تہواروں کے موقع پر مندروں کے قریب اپنی دکانات نہیں لگاسکتے۔جس پرکرناٹک کے سینئر سیاسی رہنما اور بی جے پی کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر اے ایچ وشواناتھ کو کہنا پڑا تھا کہ یہ مذہبی پاگل پن ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس معاملہ حکومت کرناٹک خاموش کیوں ہے؟

کرناٹک میں لاؤڈ اسپیکر پر اذاں کے خلاف مہم شروع کی گئی تو حکومت نے تمام مساجد انتظامیہ کو ہدایت جاری کی کہ وہ صوتی آلودگی کا خاص خیال رکھیں۔

پھر کرناٹک میں ایک نئی مہم حلال گوشت کے خلاف شروع کی گئی۔اور باقاعدہ اس کے خلاف گھرگھر گاؤں،گاؤں اور دُکانات پر گھوم کر زعفرانی ٹولیوں نے پرچے تقسیم کیے کہ برادران وطن حلال گوشت کا مکمل طور پر بائیکاٹ کردیں۔

دوبارہ اسی کرناٹک میں 5 اپریل کو دائیں بازو کی تنظیموں نےمسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کامطالبہ شروع کردیا۔

”ہندوجناجاگرتی منچ Hindujanajagruti”کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر کا یک ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل ہوا۔جس میں وہ ہندوؤں کومشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پھلوں کےمسلم تاجروں کا بائیکاٹ کریں۔اور ان کی اجارہ داری کو توڑنے کے لیے مزید پھلوں کی دکانیں قائم کرنے کا مشورہ دیا گیاہے۔

مسلمانوں پر پھلوں کے کاروبار پر”اجارہ داری”کے الزام کے علاوہ چندروموگرنے اپنے ٹوئٹ میں مسلمانوں پر پھلوں اور روٹی کو فروخت کرنے سے پہلے”تھوکنے” کا بھی الزام لگایا اورلکھا کہ” میں تمام ہندوؤں سےمسلمانوں کی اجارہ داری کوختم کرنے میں مدد کرنے کی درخواست کررہا ہوں۔”

"ہندو جناجاگرتی منچ Hindujanajagruti”کے کوآرڈینیٹر چندروموگرکے اس بیان کے بعد کل ہندمجلس اتحادالمسلمین بنگلوروکے ترجمان و صدر بندھوامکتی شیخ ضیانعمانی جو کہ پیشہ سے انجینئر ہیں کی جانب سے بنگلورو کے سنجے نگر پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف ایک شکایت درج کروائی گئی۔

ضیاء نعمانی کے علاوہ مرتضیٰ علی بیگ،کرناٹک ہائی کورٹ کے وکیل اور پیرالیگل خضر عالم اور وسیم راجہ نے اس معاملہ کو پولیس سے رجوع کیا۔خضر عالم غیرسرکاری تنظیم،انسانی حقوق اورسماجی انصاف مشن کے بنگلورو سکریٹری ہیں۔اور وسیم راجہ بھی ایک سماجی کارکن ہیں۔

فیس بک پر ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے شیخ ضیاءنعمانی نے لکھاہے کہ وہ اور دیگر تین افراد ہندو جناجاگرتی منچ کے کوآرڈینیٹر چندروموگرکے خلاف مسلسل تین دنوں سے ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کررہے ہیں اور پولیس سے ربط بھی قائم کرچکے ہیں۔تاہم پولیس نے اب تک شکایت درج نہیں کی ہے۔ضیاء نعمانی نے لکھا ہے کہ اب اس سلسلہ میں وہ عدالت سے رجوع ہوں گے۔

https://www.facebook.com/zia.nomani/posts/10165810888470136

کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف اس مذہبی منافرت کا سلسلہ جاری تھا کہ آج کرناٹک کے ہی "پوتور” میں "ہندو جاگرن ویدیکا” کی جانب سے اس مہم کا آغاز کیا گیا ہے کہ "مہالنگیشور مندر”کا جاترا جو کہ 10 اپریل تا 12 اپریل منایا جارہا ہے کے دؤران ہندو صرف ہندوؤں کے آٹورکشاء کا استعمال کریں۔

ساتھ ہی”ہندو جاگرن ویدیکا”نے اپنی مہم کے دؤران ہندو آٹو ڈرائیورز سےکہا ہے کہ وہ اپنے آٹورکشاؤں پر زعفرانی پرچم لگائیں۔تاکہ دیگر سے الگ ہوں اور مسافر ان کے آٹورکشاؤں کی پہچان آسانی کے ساتھ کرلیں۔اس موقع پر آٹو ڈرائیورس میں زعفرانی پرچم بھی تقسیم کیے گئے۔

کرناٹک میں جاری روز ایک مسلم مخالف مہم کے دؤران حکومت کرناٹک اور محکمہ پولیس کی خاموشی معنی خیز ہے۔اس مہم سے جہاں پرسکون اور ترقی یافتہ مانی جانے والی ریاست کرناٹک کی بدنامی ہوگی اوروہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری پر اثر پڑے گا!

وہیں نفرت کی عمر بہت چھوٹی ہے جس سے وقتیہ طور پر اپنے پراگندہ ذہنوں کو سکون کا سامان مہیا کروالیا جاسکتا ہے مگر تاریخ شاہد ہے کہ نفرت کا مقدر ہی ہمیشہ ذلیل و خوار ہونا ہے۔جو کہ لوگ اس مہم کا حصہ ہیں۔شاید انہی کے لیے نامور شاعرمنظر بھوپالی نے کبھی کہا تھا کہ؎ 

عمر بھر تو کوئی بھی جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤگے تجربہ ہمارا ہے