نیوزی لینڈ کی سوپر مارکیٹ میں چاقو سے حملہ، 6 زخمی، تین کی حالت نازک
شدت پسند سری لنکن حملہ آور کو پولیس نے گولی ماردی،واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر ہوا وائرل
نیوزی لینڈ:03۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام؍ایجنسیز)
نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کی ایک سوپر مارکیٹ میں ایک شدت پسند شخص کی جانب سے چاقو سے حملہ میں 6؍افراد زخمی ہوگئے ۔اور پولیس نے اس حملہ آورشخص کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔
وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسینڈا آرڈرن نے اس حملہ کو ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے تصدیق کی کہ اس حملہ آور کو پولیس نے گولی مار دی ہے انہوں نے کہا کہ یہ شخص سری لنکن شہری اور دہشت گرد تنظیم داعش سے متاثر دہشت گرد تھا۔
اور وہ اکتوبر 2011 میں نیوزی لینڈ منتقل ہوا تھا تاہم 2016 سے لے کر اب تک اس کی مشتبہ حرکتوں کو دیکھتے ہوئے قومی سیکورٹی کی جانب سے اس پر سخت نگاہ رکھی گئی تھی۔
وزیراعظم نیوزی لینڈجیسینڈا آرڈرن نے کہا کہ اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی۔
سینٹ جان ایمبولنس سرویس کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ سوپر مارکیٹ میں چاقو سے کیے گئے اس حملہ میں زخمی ہونے والے 6 افرادہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ آکلینڈ کے مضافات نیولین علاقہ میں موجود لین مار سوپر مارکیٹ میں یہ شخص داخل ہوا اور چاقو کے ذریعہ وہاں موجود لوگوں پر حملہ کرنا شروع کردیا سوپر مارکیٹ میں چیخ پکار شروع ہوگئی اور خوفزدہ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
چند عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ خوفزدہ لوگ سوپر مارکیٹ کے باہر بھاگ نکلے اور انہوں نے سوپر مارکیٹ میں گولیاں چلنے کی آواز بھی سنی۔سوپر مارکیٹ میں پیش آنے والے اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔
کمشنر پولیس اینڈریو کوسٹر نے تصدیق کی کہ حملہ آور ایک ہی شخص تھااور اس سلسلہ میں کسی کو بھی پریشان یا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ مارچ 2019ء میں ایک سفیدفام جنونی نے نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ کی مساجد میں اندھادھند فائرنگ کی تھی جس میں عبادت میں مصروف 51 مسلمان جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے تھے۔

