اتر اکھنڈ میں مذہبی منافرت کا پھیلتا زہر، مسلمانوں کے خلاف شدت پسندوں کی مہم، اترکاشی کا پرولا 15جون تک چھوڑنے کی دھمکی

اتر اکھنڈ میں مذہبی منافرت کا پھیلتا زہر، مسلمانوں کے خلاف شدت پسندوں کی مہم
اُترکاشی کا پرولا کا علاقہ 15 جون تک چھوڑ دینے کی دھمکی، مسلمان نقل مکانی پر مجبور
موب لچنگ، لؤ جہاد، حجاب، حلال اور اب نقل مکانی : بیرسٹر اویسی کا امریکہ میں خطاب

دہرہ دون/نئی دہلی : 12/جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جوں جوں 2024 کے لوک سبھا اور مدھیہ پردیش،راجستھان، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں سیاسی زمین کومضبوط کرنے کی کوشش میں ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کونشانہ بنانے کاکام شروع ہوگیا ہے۔!صدیوں قدیم تاریخ کی قبریں کھودی جارہی ہیں،سچ کے نام پر اکثریتی طبقہ کو خوفزدہ اور ہندو۔مسلم یکجہتی کو کمزور کرنے کی غرض سےفلمیں بھی بنائی جارہی ہیں۔

تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیاجارہا ہے۔سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا جیسا ترانہ لکھنے والے علامہ اقبال کو گودی میڈیا کے چند اینکرز غدار اور ملک کی تقسیم کا ذمہ دار بتا رہاہے، نصابی کتابوں سےصفحات بدلے جارہے ہیں۔روز ایک نیا شوشہ،روز ایک نیا ناٹک اس پرگودی پر میڈیا کا اپنا رقص۔!!حالیہ دنوں میں بہار میں تشدد، مدرسہ کو نذرآتش کرنا،مہاراشٹرا میں اورنگ زیب کے نام پر فرقہ وارانہ فساد اور حد تو یہ کہ اوڈیشہ میں ہوئے ٹرین حادثہ کو بھی مسلمانوں کی سازش قرار دینے کی ناپاک سازش اور دیگر واقعات اس کی مثال ہیں۔

اب پہاڑی اور سیاحتی ریاست اتر اکھنڈ کا اتر کاشی لؤ جہاد LoveJihad# کے نام پر مذہبی منافرت پھیلانے کی نئی زمین بنتی جارہی ہے۔جہاں سے آنے والی خبریں اور سوشل میڈیا پر وائرل احتجاج، واقعات اور دھمکیوں والے ویڈیوز انتہائی تشویشناک ہیں۔جہاں پولیس کی موجودگی میں فرقہ پرستی اورمسلم دشمنی کا ننگا ناچ کھیلا جا رہا ہے اور اس معاملہ میں مرکزی اور ریاستی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔جبکہ مسلمانوں کے مکانات اور دکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے باقاعدہ ان پر” X ” کا نشان لگایا جارہاہے۔لوجہاد کےساتھ زمین جہاد کو بھی جوڑ دیا گیا ہے۔

اترکاشی کے پرولا میں ایک پرتشدد ہجوم نے اقلیتوں کی دکانوں پرحملہ کیا۔وائرل ہونےوالے ایک ویڈیو میں،مشتعل ہجوم کو دکانوں کونشانہ بناتے ہوئے اور "جے شری رام” کے نعرے لگاتےہوئے دیکھا جا سکتاہے۔ اقلیتوں کو 15 جون تک دکانیں بند کرنے اور ریاست چھوڑنے کی دھمکی دینے والے پوسٹر بھی منظر عام پر آئے ہیں۔اترکاشی کا پرولا 26 مئی سے فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔

قومی آواز کی رپورٹ کےمطابق اترکاشی ضلع کے پرولا میں گذشتہ ماہ پیش آئے واقعہ میں ایک ہندو لڑکے اور لڑکی کے پیار کےمعاملہ کو لو جہاد قرار دیا گیا کیونکہ ان کا ایک دوست مسلمان ہے اور وہ ان دونوں کے ساتھ سیر کرنے چلا گیاتھا۔26 مئی کوجب یہ تینوں پرولا بازارکے قریب سیر کے لیےگئےتھے تو کچھ لوگوں نے انہیں گھیرلیا اور ہنگامہ برپا کردیا اور الزام عائد کیاکہ انہوں نےنابالغ لڑکی کو لوجہاد میں پھنساکر بھگایاہے۔

قومی آواز کےمطابق اس واقعہ کے دوسرے ہی دن تمام ہندوتنظیمیں سرگرم ہو گئیں۔28 مئی کو پرولا میں ایک بڑا جلوس منظم کیا گیا۔ مسلم برادری کے لوگوں کی دکانیں بند تھیں۔ہندو رکھشا ابھیان نامی تنظیم کا ایک پوسٹر ان دکانوں پر چسپاں کردیا گیا تھا جس میں انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ 15 جون تک پرولا کو خالی کر دیں۔پوسٹر میں یہ دھمکی بھی دی گئی ہےکہ اگرمسلم برادری کے لوگوں نے 15 جون تک پرولا خالی نہیں کیا تو وہ خود اس کے ذمہ دار ہوں گے۔اس کے بعد کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔!

قومی آواز کی رپورٹ کےمطابق اس معاملہ میں خاص بات یہ ہےکہ نابالغ لڑکی کے ساتھ پکڑے گئے دو نوجوانوں میں سے ایک ہندو لڑکا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار تھے۔جتیندر سینی نام کا یہ نوجوان بجنور کا رہنے والا ہے۔ پرولا میں جتیندر کی دکان کے بالکل سامنے بجنورکے عبید خان کی بھی ایک دکان ہے۔دونوں اچھے دوست ہیں،محبت کے اس معاملہ میں عبید خان صرف ایک ساتھی کا کردار ادا کر رہا تھا۔تاہم پولیس نے دونوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ لیکن اس پورے واقعہ میں صرف مسلمانوں کے خلاف ہی محاذ کھولا گیا ہے۔

پرولا میں مسلمانوں کی زائداز 45 دکانات ہیں۔ان میں بنیادی طور پر ملبوسات کی دکانیں،ہیئر سیلون،فرنیچر کی دکانات وغیرہ شامل ہیں۔ اور اب یہ دکانیں 28 مئی سے بند ہیں۔مسلم برادری کے زیادہ تر لوگ راتوں رات پرولا سے بھاگ گئے ہیں۔چنددکاندار اپنی دکانیں بند کرکے چلے گئے ہیں جبکہ کم از کم 6 دکاندار اپنا سامان باندھ کر اپنے گھروں کو چلےگئے ہیں۔26 مئی کو یہ واقعہ منظر عام پر آنے کےبعد ہی بنیادی طور پر ہندورکھشا ابھیان نامی تنظیم اس معاملے میں کود پڑی۔سوامی درشن بھارتی اس تنظیم کے کرتا دھرتا ہیں۔انہوں نے 28 مئی کو پرولا میں ایک بڑی ریلی منظم کی اور 15 جون کو مہا پنچایت کا اعلان کیا ہے۔

قومی آواز نے لکھا ہےکہ اس واقعہ کی گرمی پورے اترکاشی میں محسوس کی جارہی ہے۔پرولا کے علاوہ موری، برکوٹ اور اترکاشی میں بھی اس طرح کے بند کا اہتمام کیا گیا۔اترکاشی ضلع کی سرحد سےمتصل ٹہری ضلع کے نین باغ میں بھی لو جہاد کے خلاف جلوس نکالا گیا۔ ان تمام جلوسوں میں اتراکھنڈ کو مسلمانوں سے آزاد کرنے کا نعرہ دیا جا رہا ہے۔

قومی آواز کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ماحول اتنا خراب کردیا گیا ہے کہ ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو راتوں رات اپنا کاروبار سمیٹ کر بھاگنا پڑ رہا ہے۔اب تک کئی مسلم تاجر ضلع کے پرولا علاقے سے نکل چکے ہیں۔تاہم، پولیس انتظامیہ ایسی کسی بھی کشیدگی اور نقل مکانی کی بات کو مسترد کرنے کی کوشش کر رہی ہے 15 جون کو ایک پنچایت طلب کی گئی ہے۔

اتوار کو شکیل اینڈ سنز کےتاجر جو تقریباً 42 سالوں سے پرولا میں کپڑے کا کاروبارکررہے ہیں کو بھی اپنی دکان چھوڑنی پڑی۔انہوں نےمسلسل بگڑتے حالات اور احتجاج کے پیش نظر دہرادون شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔پرولا میں کپڑوں کی دکان چلانےوالے سلیم نے بتایا کہ ان کے والد شکیل 42 سال قبل پرولا آئے تھے۔اس سے پہلے ان کے والد کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے۔تقریباً 15 سال قبل انہوں نے پوری محنت سے پرولا میں کپڑے کی دکان کھولی تھی لیکن اب حالات بگڑنے کی وجہ سے وہ دہرادون منتقل ہو رہے ہیں۔

پرولا میں اس فرقہ وارانہ کشیدگی کی شدت سے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقلیتی لیڈر اور کارکن بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔اتر کاشی ضلع کے بی جے پی اقلیتی سیل کےضلع صدر محمد زاہد نے بھی جمعرات کو اپنے خاندان کے ساتھ پرولا چھوڑ دیا۔یہاں وہ کپڑے کی دکان چلاتے تھے۔

زاہد نے انڈین ایکسپریس کو بتایاکہ وہ یہاں 25 سال سے رہ رہے ہیں اور تین سال قبل بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔اس سال فروری میں انہیں ضلع کےاقلیتی سیل کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔اس سےقبل بھی وہ پارٹی میں مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ بی جے پی کے چند اور کارکن پرولا چھوڑ چکے ہیں۔یہاں رہنے والےمسلم تاجروں کا کہناتھاکہ جب حکمران پارٹی کے لیڈر ہی خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں تو وہ یہاں کیسے رہ سکتے ہیں۔ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔؟

دوسری جانب اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہاہےکہ ریاست میں زمین اور لو جہاد کوکسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔لو جہاد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد ریاست میں کامن سیول کوڈ نافذ ہو جائے گا۔

اسی دؤران آج شام دیرگئے صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی جو کہ ان دنوں امریکہ کے دورہ پر ہیں نے امریکہ میں مقیم ہندوستانی برادران وطن سے اپنے خطاب میں کہا کہ گذشتہ 9 سال سے ملک میں موب لنچنگ، لوجہاد، حجاب اور حلال کے نام پر ماحول خراب کیا جارہا ہے اور اب اتر کاشی میں مسلمانوں کے گھر پر X کا نشان لگاکر خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔

قبل ازیں آج صبح کیےگئے اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے لکھا ہے کہ ” 15 جون کو ہونے والی مہا پنچایت پر فوری پابندی لگائی جائے!وہاں رہنےوالوں کوتحفظ فراہم کیا جائے۔وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کو واپس لانے کے انتظامات کیے جائیں۔یہ بی جے پی حکومت کا کام ہے کہ وہ مجرموں کو جیل بھیجے اور جلد ہی امن قائم ہو۔ 

دوسری جانب ٹوئٹر پر باقاعدہ SaveUttarkashiMuslims# کا ہیش ٹیگ گذشتہ کئی دنوں سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔جس میں مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر ٹوئٹر صارفین کی بڑی تعداد اس ٹرینڈ میں شامل ہورہی ہے۔اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی خاموشی پر سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں۔!!اطلاعات کے مطابق اس معاملہ میں 18 جون کو اتر اکھنڈ کے مسلمانوں کی ایک مہا پنچایت طلب کی گئی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری اتر کاشی کے پریشان حال مسلمانوں کی تائید اور ان کے خلاف کی جارہی زہر افشانی پرمشتمل چند ٹوئٹ یہاں پیش ہیں۔

” سپریم کورٹ نے ماہ اپریل میں تمام ریاستوں کو حکم دیا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف ” ازخود کارروائی ” کریں ایسا نہ کرنا توہین عدالت متصور کیا جائے گا۔” انہیں سنیں!!

 

 

https://twitter.com/NargisBano70/status/1667921380321656832

 

 

” نوٹ : اس تفصیلی نیوز اسٹوری کی ترتیب میں " قومی آواز ” کی رپورٹس سے بشکریہ مدد لی گئی ہے "