وقارآباد ضلع یوتھ کانگریس کے نائب صدر عامر عبداللہ کی پدیاترا ، حلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریس کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا

وقارآباد ضلع یوتھ کانگریس کے نائب صدر عامر عبداللہ کی پدیاترا 
حلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریس کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا 

وقارآباد/تانڈور: 21۔اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کی جانب سے ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کے لیے 55 امیدواروں پر مشتمل پہلی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔وقارآبادضلع میں موجود اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، پرگی اور کوڑنگل کے لیے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا، لیکن حلقہ اسمبلی تانڈور کے امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔جس سے سیاسی حلقوں اور عوام میں تجسس پایا جاتا ہے۔

ایسے میں صدر وقارآباد ضلع یوتھ کانگریس عامر عبداللہ جو حلقہ اسمبلی تانڈورسے مقابلہ کے لیے مضبوط دعویدار ہیں اور جنہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لیے پہلے ہی پارٹی ہائی کمان کو درخواست بھی دے دی ہے۔مسلسل زور وشور کے ساتھ وہ تانڈور ٹاؤن اور مختلف منڈلات و مواضعات میں اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔اور ساتھ ہی وہ کانگریس کی جانب سے اعلان کردہ 6 گیارنٹی اسکیمات کی تشہیر میں بھی مصروف ہیں۔

نوجوان سیاسی قائد عامر عبداللہ کا کانگریس پارٹی ہائی کمان سےمطالبہ ہےکہ وہ اور ان کا خاندان گزشتہ 30 سال سے کانگریس سے وابستہ ہے اور تمام طبقات میں ان کی پہچان مضبوط ہے۔اس لیے حلقہ اسمبلی تانڈور سے پہلی مرتبہ کسی مسلم امیدوار کے طور پر کانگریس پارٹی انہیں ٹکٹ دے تو وہ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آج تانڈور ٹاؤن کے مختلف مقامات پر کی گئی پدیاترا اور عوامی ملاقات کے دوران صدر وقارآباد ضلع یوتھ کانگریس عامر عبداللہ نےاس یقین کا اظہار کیا کہ کانگریس پارٹی کی کامیابی طئے ہے۔عامر عبداللہ نے آج صمد فنکشن ہال سے براہ مارواڑی بازار، بھدریشور چوک، گاندھی چوک ایک پدیاترا منعقد کی۔جس میں کانگریسی قائدین،کارکنوں اور ان کے حامیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے بیوپاریوں اور عوام سے ملاقات کی اور انہیں کانگریس کی گیارنٹی اسکیمات سے واقف کر وایا۔بعدازاں مجسمہ گاندھی پر گل پیش کئے۔

بعدازاں صمد فنکشن پیالیس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عامر عبداللہ نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس مقبولیت حاصل کرتی جا رہی ہے اور رائے دہندوں کی اولین پسند کانگریس ہے۔انہوں نے کہا کہ 6 گیارنٹی اسکیمات کانگریس کی کامیابی کی ضامن ہیں اور کانگریس زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار حاصل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تانڈور میں بھی کانگریس کی کامیابی طئے ہے۔

انہوں نے پارٹی ہائی کمان سےمطالبہ کیا کہ مقامی امیدوار کے طور پر انہیں ٹکٹ دیا جائے۔ساتھ ہی عامر عبداللہ نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی ہائی کمان کی جانب سے کسی کو بھی ٹکٹ دیا جائے وہ اس امیدوار کی کامیابی کے لیےکام کریں گے۔اس موقع پر سابق فلور لیڈر بلدیہ لنگا دلی روی کمار،محمد شریف (مینا ہوٹل)،سید نواز احمد،ایم اے شکور، ایم اے قیوم اور دیگر موجود تھے۔

یاد رہےکہ وقارآبادضلع میں موجود چار اسمبلی حلقہ جات سےمقابلہ کے لیے کانگریس نے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست میں حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی کے نام کا اعلان کیاہے۔جہاں انہیں 2018ءمیں منعقدہ انتخابات میں ٹی آر ایس امیدوار پی۔نریندر ریڈی کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، اب ریونت ریڈی دوبارہ حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے مقابلہ کریں گے۔

وہیں کانگریس نے اسمبلی حلقہ وقارآباد(محفوظ) سے سابق ریاستی وزیر (متحدہ آندھرا پردیش) جی۔پرساد کمار کو اپنا امیدوار بنایا ہے،جنہیں 2018ء کے انتخابات میں ٹی آر ایس (موجودہ بی آر ایس) کے امیدوار ڈاکٹر میتکو آنند کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

جبکہ حلقہ اسمبلی پرگی سے صدر ضلع کانگریس ٹی۔رام موہن ریڈی کو میدان میں اتارا گیاہے،انہیں بھی گزشتہ انتخابات میں ٹی آر ایس امیدوار مہیش ریڈی نے شکست دی تھی۔اس طرح ضلع وقارآباد کے ان تینوں اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، کوڑنگل اور پرگی میں بی آر ایس (سابقہ ٹی آر ایس) اور کانگریس کے انہی امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جن کا 2018ء کے انتخابات میں ٹکراؤہوا تھا۔تاہم 2018ء میں حلقہ اسمبلی تانڈور سے اس وقت کےکانگریسی امیدوار پائلٹ روہت ریڈی نےکامیابی حاصل کی تھی۔تاہم چند ماہ بعد وہ ٹی آر ایس پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اب پائلٹ روہت ریڈی دوبارہ حلقہ اسمبلی تانڈور سے بی آر ایس کے امیدوار ہیں۔

تاہم کانگریس نے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست میں حلقہ اسمبلی تانڈور کے امیدوار کےنام کا اعلان نہیں کیاہے۔جس سے سیاسی اور عوامی حلقوں میں تجسس پایا جاتا ہے۔چند ماہ سے ایسی اطلاعات زیر گشت ہیں کہ کانگریس سابق رکن اسمبلی حلقہ میڑچل و سینئر پارٹی قائد کچنا گاری لکشما ریڈی (کے ایل آر) کو اپنا امیدوار بناسکتی ہے۔؟

اسی دوران نامور صنعت کار و سینئر سیاستداں پی۔منوہر ریڈی حلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریسی امیدوار کے مضبوط دعویدار کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔جو کہ صدرنشین ڈسٹرکٹ کو آپریٹیو سنٹرل بینک(ڈی سی سی بی)،حیدرآباد،رنگاریدی) ہیں۔جنہوں نے تین ہفتہ قبل بی آر ایس پارٹی سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔دیکھنا ہوگا کہ قرعہ فال کس امیدوار کے حق میں نکلتا ہے؟ اور حلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریس کے امیدوار کون ہونگے۔؟ وہیں بی جے پی نے بھی ریاستی سطح پر اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں ” 

گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 13 مسلمانوں کی سرعام پٹائی کرنے کے جرم میں 4 پولیس عہدیداروں کو 14 دن قید کی سزا سنائی

 

دبئی۔کوچی فلائٹ میں سفر کرنے والی ماں کی آنکھیں خوشی سے چھلک گئیں، جب اچانک معلوم ہوا کہ فلائٹ کا پائلٹ خود اس کا بیٹا ہے