بھوپال : 05۔جولائی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
اقتدار کے نشہ میں چند انسان درندوں اور وحشیوں کو بھی مات دینے میں مصروف ہیں۔ان کی عادتیں اور ان کی باتیں سماج کو بھی ذہنی طور پر بیمار کررہی ہیں۔ایسے میں بی جے پی اقتدار والی ریاست مدھیہ پردیش کا ایک ایسا انتہائی شرمناک اور انسانیت کو شرمسارکردینے والا 6سیکنڈ کا ویڈیو سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر سونامی کی طرح وائرل ہوا ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی اس واقعہ کی شدید مذمت میں مصروف ہے۔
انسانیت کو شرمسار کرنے والے اس شرمناک ویڈیو کی سوشل میڈیا پر سونامی آئی ہوئی ہے۔جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آفتاب شمسی نے کبھی سچ کہا تھا جو کہ اس متاثرہ قبائلی نوجوان پر صادق آتا ہے؎
میں جنگلوں میں درندوں کے ساتھ رہتا رہا
یہ خوف ہے کہ اب انساں نہ آ کے کھا لے کوئی
اس ویڈیو میں پرویش شکلا،جو مبینہ طور پر سدھی اسمبلی حلقہ کے بی جے پی ایم ایل اے کیدار ناتھ شکلا کا نمائندہ بتایا گیا ہے ایک بیٹھے ہوئے نوجوان کے چہرے،بالوں اور گردن پر پیشاب کرتے ہوئے سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ واقعہ ضلع کے کبری گاؤں میں 9 دن قبل پیش آیا تھا۔تاہم یہ ویڈیو کل رات وائرل ہو گیا۔متاثرہ نوجوان کا تعلق قبائیلی طبقہ سے ہے اور وہ مزدور اور ذہنی طور پر معذور بتایا گیا ہے۔
اس ویڈیو کےمنظر عام پر آتے ہی مدھیہ پردیش میں سیاست گرماگئی ہے چونکہ یہ غیر انسانی حرکت کرنےوالے پرویش شکلا کاتعلق ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی سے بتایا گیا ہے۔!!
اس معاملہ کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے وزیر اعلی مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” سدھی ضلع سے وائرل ایک ویڈیو میرے نوٹس میں آیا ہے،میں نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مجرم کو گرفتار کرے اور سخت سے سخت کارروائی کرے اور پرویش شکلا کے اس عمل کی مذمت کرتےہوئے وزیر اعلیٰ نےحکم دیاکہ پرویش شرما پر سخت قومی سلامتی ایکٹ NSA# کے تحت فرد جرم عائد کی جائے۔
اپوزیشن کانگریس نے کہا ہے کہ یہ واقعہ موجودہ نظام کے تحت مدھیہ پردیش میں قبائلیوں کے خلاف ہونے والے مظالم کا ثبوت ہے۔ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کانگریس کے سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے کہاکہ” اس واقعہ نے پوری ریاست کو شرمندہ کر دیا ہے۔کمل ناتھ نے کہا کہ قبائلی برادری کے کسی فرد کے خلاف ایسی فحش اور گھناؤنی حرکتوں کی مہذب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جس شخص نے جرم کیا ہے کہا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی سے ہے۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش کمل ناتھ نے کہا کہ قبائلیوں کے خلاف مظالم میں مدھیہ پردیش پہلے نمبر پر ہے اور اس واقعہ نے پوری ریاست کو شرمندہ کر دیا ہے۔میرا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلیٰ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملزمان کوسخت سےسخت سزا دی جائے اور یہ بھی کہ قبائلیوں کے خلاف مظالم کا خاتمہ ہو۔
گذشتہ رات پریس کانفرنس کا ایک ویڈیو وزیر اعلی مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے ٹوئٹ کیا ہے۔جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ”مجرم صرف مجرم ہوتا ہے،اس کی کوئی ذات، مذہب یا جماعت نہیں ہوتی۔میں نے ڈائریکٹ کیس کے حوالے سے ہدایات دی ہیں، ملزمان کو ایسی سزا دی جائے گی کہ مثال بن جائے۔ہم اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔”
سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ معمولی واقعات پر ایک مخصوص اور غریب طبقہ کےمکانات پر بلڈوزر چلانے والی مدھیہ پردیش حکومت بالخصوص اداکارہ دیپا پدوکون کی بکنی کے سائز اور اس کے رنگ کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد اطمینان کے ساتھ میڈیا سے بات کرنے والے اور بلڈوزر کارروائیوں کو درست قرار دینے والے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا کے بلڈوزر اب کہاں ہیں۔؟سوشل میڈیا پر ان کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے کہ وہ اس شرمناک واقعہ پر پوچھے جانےوالےسوالات سےبچنےکےلیے تیز تیز چلتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ کارروائی کی جارہی ہے۔!!
https://www.instagram.com/reel/CuSLb50uu6a/
دوسری جانب چند ایسی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں پرویش شکلا کو کیدارناتھ شکلا اور ریوا کے بی جے پی ایم ایل اے و سابق وزیر راجندرشکلا کےساتھ دیکھا گیاہے۔وہیں بی جے پی نے پرویش شکلا کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے۔ایم ایل اے کیدار ناتھ شکلا نے کہاکہ میں اسے جانتا ہوں کیونکہ وہ میرے حلقہ سے ہے،لیکن وہ میرا نمائندہ یا بی جے پی کا کارکن نہیں ہے۔
ایک پوسٹر جس میں پرویش شکلا نے کیدار ناتھ شکلا کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ بھی وائرل ہوا ہے۔وہیں سوشل میڈیا پر بی جے پی کا ایک مکتوب وائرل ہوا ہے جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پرویش شکلا نے یووا مورچہ کے منڈل نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اس معاملہ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ریوا رینج)متھیلیش شکلانےکل کہاتھا کہ” ویڈیو کبری گاؤں کا بتایا جاتا ہے۔ بہاری پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کرلیا گیا ہے اور پرویش شکلا کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔”
پرویش شکلا پر قومی سلامتی ایکٹ،ایس سی/ایس ٹی ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دفعہ 294 (عوامی جگہ پر فحش حرکت) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت کیس درج کرلیا گیا ہے۔
پرویش شکلا مفرور تھا جسے آج پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق اس کی گرفتاری کے لیے کئی ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں، جو شکلا کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئیں۔ پرویش شکلا مبینہ طور پر اپنے مقامات بدل رہا تھا۔
اس گرفتاری والے ویڈیو کو ٹوئٹ کرتےہوئے صدر آل انڈیا یوتھ کانگریس بی وی سرینواس نے لکھاہے کہ” گرفتاری سے زیادہ ایک معزز شخص کی طرح پولیس اسٹیشن جاتے ہوئے!کیا یہ صرف اس لیےکہ یہ بی جے پی کا آدمی ہے؟انہوں نے لکھاکہ کوئی اور مجرم ہوتا تو اب تک خاندان بلڈوزر تلے روندا جا چکا ہوتا۔”
وہیں قبل ازیں ہی یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ اس ویڈیو کے باعث پرویش شکلا کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔اس کے چچا نے یکم جولائی کو سدھی پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔جس میں کہا گیا کہ پرویش شکلا 29 جون سے لاپتہ ہے۔شکایت میں، چچا کا کہناہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ پرویش شکلا خودکشی کرسکتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ فرضی ویڈیو چند لوگوں نے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے بنایا ہے۔
دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی زیرگشت ہیں کہ متاثرہ شخص سے ایک حلف نامہ تیار کروا لیا گیا ہےکہ یہ ویڈیو فرضی ہے اور پرویش شکلا کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کے لیے فلمایا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حلف نامہ جو مبینہ طور پر دباؤ کے تحت تیار کیا گیا تھا، ابھی تک کہیں بھی داخل نہیں کیا گیا یہ حلف نامہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔
وہیں اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنےوالے نوجوان کو بھی دھمکیاں دئیےجانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔!!جبکہ پرویش شکلا کا باپ بھی ویڈیو کو فرضی بتاتے ہوئے کہہ رہاہے کہ اس کے بیٹے کی جان کو خطرہ ہے۔انہوں نے بھی قبول کیا کہ ان کا بیٹا رکن اسمبلی کا نمائندہ ہے اور بی جے پی سے ہی اس کا تعلق ہے۔
” اپ ڈیٹ "
اسی دؤران آج سوشل میڈیا پر پریش شکلا کےخلاف بلڈوزر کارروائی نہ کرنے پر اٹھائے جارہے سوالوں کے بعد مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے سدھی ضلع کے موضع کبری میں موجود اس کے مکان کو غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کر دیا گیا۔پرویش شکلا کی ماں ، بہن اور باپ کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو قدیم ہے اور اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے کل وائرل کیا گیا ہے۔؟
جبکہ سوشل میڈیا کے کئی صارفین نے الزام عائد کیا ہےکہ معاملہ کو سرد کرنے کی غرض سے پرویش شکلا کے مکمل مکان کو نہیں بلکہ باہر موجود درختوں اور مکان کے باہری حصہ کو ہی منہدم کیا گیا ہے۔!!
وہیں اب اس بات پر بھی بحث چھڑگئی ہے کہ عدالتی فیصلوں سے قبل ہی چند سال سے ملزمین کے مکانات پر بلڈوزر چلاکر انہیں تہس نہس کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے۔؟ ملزم چاہے کسی بھی مذہب کا ہو اس کے جرم کی سزاء پورے گھر والوں کو کیوں دی جارہی ہے اور کیوں انہیں بے گھر کیا جانے لگا ہے؟ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس بلڈوزر کے ذریعہ انصاف کے سلسلہ کو فوری روکنے کی ضرورت ہے۔

" یہ بھی پڑھیں "

