کرناٹک میں کامیابی کے بعد 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں 200نشستوں پر کانگریس کی کامیابی کے لیے ممتا بنرجی کی حمایت

کرناٹک میں کامیابی کے بعد 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں
200 نشستوں پر کانگریس کی کامیابی کے لیے ممتا بنرجی کی حمایت
کانگریس کو بھی چند ریاستوں میں علاقائی جماعتوں کی تائید کرنی ہوگی

کولکاتہ: 15/مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی تاریخی کامیابی کےبعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو کانگریس کو 2024ء کے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کے محاذ میں شامل کرنے کی جانب دوبارہ غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔!! یاد رہے کہ کانگریس نے 13 مئی کو 224 رکنی کرناٹک اسمبلی انتخابات میں 135 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے زبردست جیت درج کی ہے جبکہ بی جے پی کو 65 اور جنتادل سیکولر(جے ڈی (ایس) کو 19 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔

چند اپوزیشن جماعتیں کانگریس کو بی جے پی مخالف محاذ میں شامل کیے جانے کے خلاف ہیں یا پھر اس سوال پر خاموشی اختیار کرلینا ہی بہتر سمجھتے آئے ہیں۔چیف منسٹر مغربی بنگال محترمہ ممتا بنرجی جنہوں نے حال ہی میں اعلان کیاتھا کہ ان کی ترنمول کانگریس پارٹی مغربی بنگال میں تنہا مقابلہ کرے گی نے آج اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے لیے اختلافات کو دور کرنے کی غرض سے ایک عملی حل تجویز کیا ہے۔ اور اس منصوبے میں کانگریس بھی شامل ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ دنوں کولکاتہ میں چیف منسٹر بہار نتیش کمار، ڈپٹی چیف منسٹر بہار تیجسوی یادو،سابق چیف منسٹر اتر پردیش اکھلیش یادو نے چیف منسٹر بنگال محترمہ ممتا بنرجی سے ملاقات کرتے ہوئے اپوزیشن محاذ کی تشکیل پر غور کیا تھا۔

محترمہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس اور اکھلیش یادو کی قیادت والی سماج وادی پارٹی (ایس پی) نےحال ہی میں کہا تھاکہ دونوں پارٹیاں کانگریس سے دور رہیں گی اور 2024ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل دیگر علاقائی پارٹی قائدین کے ساتھ ممکنہ بات چیت کا اشارہ دیا تھا۔ترنمول پارٹی سربراہ محترمہ ممتا بنرجی اکثر اپوزیشن کے اتحاد کا مشورہ دیتی آرہی ہیں۔

محترمہ ممتابنرجی نے آج ریاستی سکریٹریٹ نابنا میں ایک پریس کانفرنس کےدوران اس بات کا اعادہ کیاکہ علاقائی جماعتوں کو 2024 میں بی جے پی کے خلاف ہونے والی لڑائی میں زیادہ اہم کردار ملنا چاہئے،لیکن اس بار انہوں نے کانگریس کو شامل کیا ہے۔

چیف منسٹر مغربی بنگال محترمہ ممتابنرجی نے کہاکہ جہاں علاقائی پارٹیاں مضبوط ہوں وہاں بی جے پی لڑ نہیں سکتی۔کرناٹک کاانتخابی فیصلہ بی جے پی کے خلاف آیا ہے اور لوگ بی جے پی کے مخالف ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام پر مظالم ہو رہے ہیں،ان کے حقوق چھینے جارہے ہیں اور معیشت تباہ ہو چکی ہے، جمہوری حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور پہلوانوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے۔

اپنی نئی حکمت عملی سے واقف کرواتے ہوئے محترمہ ممتا بنرجی نے کہاکہ” اس صورت حال میں،جو بھی اپنے علاقہ میں کسی جگہ مضبوط ہے، انہیں مل کر لڑنا چاہئے، اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بنگال میں ہمیں (ترنمول کانگریس) کومقابلہ کرنا چاہئے،دہلی میں عام آدمی پارٹی (عآپ ) کو مقابلہ کرنا چاہئے۔جبکہ بہار میں نتیش کمار، تیجسوی یادو اور کانگریس ایک ساتھ ہیں اس پر وہ فیصلہ کریں گے۔ میں ان کے فارمولے پر فیصلہ نہیں کر سکتی۔اسی طرح تمل ناڈو میں میں ایم کے اسٹالن کی ڈی ایم کے اور کانگریس کی دوستی ہے اور وہ ایک ساتھ لڑ سکتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں بھی جے ایم ایم اور کانگریس ساتھ ہیں اور دوسری ریاستوں میں بھی، تو یہ ان کی اپنی مرضی ہوگی۔ "

تاہم محترمہ ممتابنرجی نے واضح کیاکہ جہاں علاقائی پارٹیوں کو اپنے گڑھ میں بی جے پی کامقابلہ کرنا چاہئے وہیں کانگریس کو اپنی سیٹیں جیتنے پر توجہ دینی چاہئے۔” لیکن مجھے لگتاہے کہ جہاں بھی علاقائی پارٹیاں مضبوط ہیں چاہے وہ اترپردیش،بہار ہو یا اڈیشہ،یا بنگال، یا جھارکھنڈ یا آندھرا پردیش یا تلنگانہ وہاں بہت سی ریاستیں ہیں،مضبوط پارٹی کو ترجیح دی جانی چاہئے۔اور جہاں بھی کانگریس مضبوط ہے ان کی 200 سیٹیں یا کچھ کم ہیں ہم نے حساب لگایا ہے انہیں وہاں لڑنے دیں اور ہم سب ان کی حمایت کریں گے۔”

کیا کانگریس کو علاقائی پارٹیوں کےمتعلق خود کو بڑے بھائی والا رویہ چھوڑ دینا چاہئے والے سوال پر محترمہ ممتا بنرجی نے کہا کہ”ملک کو بچانے، جمہوریت کو بچانے اور اس ملک کے لوگوں کو بچانے کے لیے سب کے لیے ایک مساوی میدان کا حصہ ہونا چاہئے۔”

ساتھ ہی محترمہ ممتا بنرجی نے 2024 میں بی جے پی کوشکست دینے کی حکمت عملی بتاتےہوئے اس پر بھی زور دےکر کہا کہ کانگریس کو علاقائی جماعتوں کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔اور انہیں یہ دیکھناہوگاکہ انہیں دوسری سیاسی جماعتوں کوبھی حمایت کرنا ہے۔میں کرناٹک کے لیے آپ کی حمایت کرتی ہوں لیکن آپ ہر روز میرے خلاف لڑ رہے ہیں۔یہ پالیسی نہیں ہونی چاہئے۔یہ سب کے لیے ہے۔ اگر آپ کچھ اچھی چیز چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ علاقوں میں خود کو بھی قربان کرنا ہوگا۔

Almas International School ” CBSE ", TANDUR, Vikarabad Dist

محترمہ ممتا بنرجی نے مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ فرض کریں یہ اترپردیش میں ہے تو اکھلیش یادو کو ترجیح ملنی ہے، وہاں اجیت سنگھ بھی ان کے ساتھ ہیں۔محترمہ ممتا بنرجی نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ کانگریس کو وہاں نہیں لڑنا چاہئے، مگر اس پر فیصلہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ مشورہ قطعی نہیں ہے۔جب اس پر غور وخوص اور با ت کی جائے گی تو ہم اس معاملے پرتفصیل سے بات کر سکتے ہیں۔اب ہر کوئی کچھ نہ کچھ سوچ رہا ہے۔انہوں نے اشارہ دیا کہ جب اپوزیشن کی بات آتی ہے تو کانگریس بہت زیادہ بات چیت کا حصہ ہوتی ہے۔”