اترپردیش: شاہجہاں پور کی ضلع عدالت کے احاطہ میں وکیل کا گولی مارکر قتل
سابق چیف منسٹرس مایاوتی،اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی نے مذمت کی
لکھنو:18۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام؍ایجنسیز)
اتر پردیش کی ایک عدالت میں نامعلوم حملہ آوروں نے عدالت میں ایک وکیل کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔شاہجہاں پور کی ضلع عدالت میں آج صبح یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
بھوپیندرا سنگھ ایڈوکیٹ ضلع عدالت کی تیسری منزل کے احاطہ میں چند افرادسے بات چیت میں مصروف تھے کہ اسی دؤران قریبی بلاک میں موجود ان کے ساتھی وکلا نے بتایا کہ انہوں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی! اور فوراً وہاں جاکر دیکھا توبھوپیندرا سنگھ ایڈوکیٹ کی نعش خون میں لت پت پڑی ہوئی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ نعش کے قریب دیسی طفنچہ کی ایک گولی برآمد ہوئی ہےاور بھوپیندراسنگھ ایڈوکیٹ کے قتل کی وجوہات کا پتہ نہیں چل پایا ہے اس سلسلہ میں شاہجہاں پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرکے مصروف تحقیقات ہے۔فورنسک ماہرین کو جائے مقام پر طلب کیا گیا تھا۔
عدالتی عملہ کا کہنا ہے کہ مقتول بھوپیندراسنگھ ایڈوکیٹ چار پانچ سال قبل تک بینک میں ملازمت کیا کرتے تھے بعدازاں وہ وکالت کرنے لگے۔
اس قتل کے واقعہ کے بعد سابق چیف منسٹر اترپردیش و بہوجن سماج پارٹی سپریمومایاوتی نے بھی ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ” یوپی کے شاہجہاں پورضلع کی عدالت کے احاطہ میں دن دہاڑے ایک وکیل کا قتل تکلیف دہ اور شرمناک ہے،جو کہ یہاں کی بی جے پی حکومت قانون اور امن وامان کی صورت حال اور اس سلسلہ میں حکومت کے دعوؤں کی پول کھولتا ہے،اب آخر یہی سوال اٹھتا ہے کہ اترپردیش میں کون محفوظ ہے؟حکومت اس جانب توجہ دے۔
سابق چیف منسٹر اتر پردیش و سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے بھی ٹوئٹ کیا ہے کہ”شاہجہاں پور کی کی عدالت میں ہی برسر عام ایک وکیل کے قتل نے انکاؤنٹر سرکار کی جھوٹی تشہیر کو عوام کے سامنے لاکر رکھ دیا ہے،بی جے پی حکومت میں اترپردیش جرائم کرنے میں آسانی میں نمبر ون بن گیا ہے”۔
جنرل سیکریٹری کل ہند کانگریس و انچارج اترپردیش پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”قانونی اور عدالتی برادری ہماری جمہوریت کا لازمی ستون ہے۔شاہجہاں پور میں عدالت کے احاطے میں دن کی روشنی میں ایک وکیل کا وحشیانہ قتل ایک اور دل دہلا دینے والی یاد دہانی ہے کہ آج کے یوپی میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے،نہ خواتین ،نہ کسان اور نہ اب وکیل "۔


