کھرگون میں رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ اور تشدد کے بعد
مدھیہ پردیش حکومت نے 50 مکانات اور دُکانات پر بلڈوزر چلوادئیے
بھوپال:11۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
اتوار کے دن ملک بھر میں رام نومی منائی گئی۔رام نومی کے دؤران ملک کی چار ریاستوں گجرات،مدھیہ پردیش،مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں فرقہ وارانہ تشدد برپا کیا گیا تین مقامات پر کرفیو نافذ کرنا پڑا۔مدھیہ پردیش میں 84 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جن میں زیادہ ترمسلمان بتائے گئے ہیں!۔جبکہ بہار کے مظفر پور میں مسجد پر بھگوا جھنڈا لہرادیا گیا۔
رام نومی کے دن اترپردیش کے علاوہ کئی مقامات پر بھی مساجد کے قریب جم کر اشتعال انگیزی کی گئی۔گجرات کے سانبرکانٹھا اور ہمت نگر میں ایک 65 سالہ بزرگ کو ہلاک کردیا گیا۔
وہیں اتوار کو رام نومی کے دن ہی دنیا اور ملک کی شہرت یافتہ دہلی میں موجود جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے میس میں اے بی وی پی کے طلبا نے رام نومی کے دن ہاسٹل اور میس میں چکن پکائے جانے پر برہمی ظاہرکرتے ہوئے اپنے کئی ساتھی طلبا و طالبات پر حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کردیا۔
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے 318 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود”کھرگون Khargone"ضلع میں شوبھایاترا کے دؤران زائداز 30 مکانات و دکانات میں آگ لگادی گئی۔اس دؤران کم ازکم 70 خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑکر بھاگنا پڑا۔ذرائع کے مطابق تالاب چوک مسجد کے قریب تصادم اس وقت شروع ہوا جب جلوس کے دوران کچھ لوگوں نے اشتعال انگیز گانوں کی مخالفت کی۔جلوسیوں کا الزام ہے کہ مسجد کی ملکیت دُکانات سے جلوس پر پتھراؤ کیا گیا۔جبکہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جلوس میں سے ان کی دُکانات پر پتھراؤ ہوا!!۔
اس واقعہ کے ویڈیوز جوکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ہجوم مسجد اور اس کے قریبی مکانات و دُکانات پر پتھراؤ کررہا ہے۔
کھرگون میں رام نومی کے جلوس کے دوران تشدد کے ایک دن بعد پیر کے دن چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت میں مدھیہ پردیش حکومت نے کہا کہ سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی فسادیوں سے کی جائے گی۔
اندور کے ڈویژنل کمشنر پون شرما نے کھرگون میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اب تک 84 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان ملزمان کی 50 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان غیر قانونی تعمیرات کی مسماری شروع ہوچکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شوبھایاترا کے دوران پتھراؤ کے الزام میں ان 50 مکانات اور دکانات کو پیر کے دن کئی جے سی بی مشینوں کے ذریعہ غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے انہیں منہدم کر دیا گیا۔
امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے پورے کھرگون شہر میں کرفیو نافذ کر دیا اور 77 افراد کو گرفتار کرلیا۔تشدد کے دوران کھرگون کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ چودھری کو گولی لگی اور 6 پولیس ملازمین سمیت زائداز 24 افراد زخمی بھی ہوئے۔کھرگون میں رام نومی کی تقریبات کے دوران جلوس پر پتھراؤ کے بعد فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا، آگ زنی کے واقعات پیش آئے جس میں چند گاڑیاں بھی نذرآتش کردی گئیں۔جب رام نومی کا جلوس ضلع ہیڈکوارٹر کے قریب تالاب چوک علاقہ سے آغاز ہوا تو جلوس پر پتھراؤ کیا گیا۔پولیس کو حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے۔
سویڈن کی اُپپاسلا یونیورسٹی کے ہندوستانی پروفسیراشوک سوائن Ashok Swain@نے کھرگون میں جلتی عمارتوں کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے”رام نومی کے دوران،ہندوستان میں دائیں بازو کا ہندو رام مندر میں عبادت کرنے نہیں جاتا بلکہ مسجدوں میں جا کر پتھر پھینکتا ہے اور انہیں آگ لگاتا ہے”!۔
چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے کھرگون تشدد واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی فسادیوں سے کی جائے گی۔چیف منسٹر نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ہم نے پبلک اور پرائیویٹ املاک کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام اور نقصان کی وصولی کا بل پاس کیا ہے۔کھرگون کے فسادیوں کو نہ صرف سزا دی جائے گی بلکہ ان سے ہرجانے کی وصولی بھی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک ٹریبیونل قائم کیا جائے گا۔
مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ مسٹر نروتم مشرا نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ فسادیوں کی شناخت کرلی گئی ہے اور تمام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر داخلہ نے نروتم مشرا نے پیر کو پریس کانفرنس میں کہا کہ کھرگون میں حالات قابو میں ہیں۔
وزیر داخلہ مدھیہ پردیش مسٹر نروتم مشرا نے فسادیوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ”جس گھر سے پتھر آئے ہیں وہ خود ہی پتھروں کا ڈھیر بن جائے گا”۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پڑوسی ضلع بروانی کے ملحقہ سینڈوا بلاک میں بھی اسی طرح کی جھڑپوں کی اطلاع ملی تھی، لیکن وہاں بھی حالات قابو میں ہیں۔
مدھیہ پردیش کے کھرگون میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو بی جے پی لیڈر کپل مشرا (جن کو 2020 میں دہلی میں ہوئے فسادات کے الزامات کا سامنا ہے) شوبھا یاترا کے اس جلوس میں شرکت کےلیے کھرگون میں تھے۔ٹوئٹر پر تصاویر شیئرکرتے ہوئے کپل مشرانے لکھا ہے کہ“نہ موسیٰ نہ برہان،بس جئےشری رام۔”
شدید فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل بی جے پی لیڈر کپل مشرا کا ایک ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جو کھرگون کے بھیکن گاؤں میں شوبھایاترا سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ”ہندو کے علاوہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہونی چاہیے،ہندو کے علاوہ کوئی اور بات کرے تو سمجھ لیں کہ آپ بھی کشمیر فائل بنانے کی تیاری کررہے ہیں،جس گھر سے موسیٰ افضل برہان نکلیں گے،گھر میں گھس کر مر جائیں گے”۔
مدھیہ پردیش کے کھرگون میں پیر کے دن حکومت کی جانب سے مسجد کی ملکیت املاک کو جے سی بی مشینوں سے منہدم کیے جانے پر نامور صحافی”عارفہ خانم شیروانی”نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ”مدھیہ پردیش کے کھرگون میں مسلمانوں کے گھر کس قانون کے تحت گرائے جا رہے ہیں؟،کس عدالت نے اس کی اجازت دی ہے؟،کیا بھارت میں اب بھی عدالتیں کام کررہی ہیں؟”
پروفسیراشوک سوائن Ashok Swain@نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ہندوستان میں ہندوؤں کے تہوار ہندوؤں کے لیے کم مزہ ،مسلمانوں کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوگئے ہیں!”۔

