وقارآباد ضلع : بی جے پی قائد کی جانب سے عطیہ شدہ ایرکولرز مسجد سے پھینکے جانے کا واقعہ، فون پر گالی گلوچ کا شاخسانہ !

تین طلاق قانون پرمسلم خواتین خوش!بی جے پی کےمسلم قائد کے بیان پر نوجوان برہم
بی جے پی قائد کی جانب سے مسجد کمیٹی کے صدر کوفون پر گالیاں دئیے جانے کا الزام!
فحش گالیوں پر ہی برہم نوجوانوں نے ایرکولرز پھینکے تھے،بی جے پی سے تعلق پر نہیں
ضلع ایس پی،ڈی ایس پی اور بی جے پی قائدین نے موضع کا دؤرہ کیا،مکان پر پولیس پکٹ

وقارآباد؍تانڈور:11۔اپریل(سحرنیوز ڈاٹ کام)

ان دنوں ریاست تلنگانہ میں پیش آنے والا ایک واقعہ قومی اور علاقائی میڈیاکی سرخیوں کے علاوہ سوشل میڈیا پروائرل ہے کہ ایک مسلم  بی جے پی قائد کی جانب سے تین طلاق قانون کی تائید و تعریف،اس سےمسلم خواتین کے خوش رہنے اور بی جے پی کی ستائش والے بیان پر برہم مسلم نوجوانوں نے اس مسلم قائد کی جانب سے مسجد کو عطیہ دئیے گئے ایرکولرس کو مسجد سے اٹھاکر باہر پھینک دیا۔

بعدازاں یہ ایرکولرس بی جے پی کے مسلم قائدکے مکان پر باہر لے جاکر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے پھینک دئیے گئے۔اس کے ویڈیو بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔

دراصل یہ واقعہ ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع کے بنٹارم منڈل کے تحت موجود موضع "تُرمامڑی” Turmamidi” کی جامع مسجد کا ہے جو کہ نماز جمعہ کے بعد پیش آیا تھا۔

اس معاملہ میں نمائندہ "سحر نیوز ڈاٹ کام"نے صدر انتظامی کمیٹی جامع مسجد ترمامڑی محمد افتخار اور بی جے پی قائد حکیم انور دونوں سےبات کی۔

حکیم انور 54 سالہ موضع ترمامڑی کے ساکن ہیں وہ زائداز دس سال کویت میں رہ کر چند سال قبل واپس ہوئے ہیں۔وہ ترمامڑی اور حیدرآباد دونوں مقامات پر رہتے ہیں۔انورحکیم نے اس نمائندہ کو بتایا کہ وہ پیشہ سے ڈرائیور ہیں کویت میں ٹراویلس میں کام کرتے تھے بعد ازاں وہ ترمامڑی اور حیدرآباد میں مقیم رہ کر اب تک زائداز 500 افراد کو کویت،سعودی عرب،قطر اور دیگر ممالک کو روزگار کی غرض سے روانہ کرچکے ہیں۔اب وہ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کررہے ہیں۔حکیم انور نے بتایا کہ وہ فلاحی و رفاہی کام بھی انجام دیتے رہتے ہیں۔

حکیم انور نے بتایا کہ وہ سابق ریاستی وزیر(متحدہ آندھرا پردیش) وسابق رکن اسمبلی وقارآباد و بی جے پی قائد اے۔چندراشیکھر کی ترغیب پر 28 مارچ کو اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوگئے (اس سے قبل وہ کانگریس میں تھے)۔

حکیم انور نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف اسی شرط پر بی جے پی میں شامل ہوئے کہ ان کے موضع اور قوم کی ترقی کا انہیں تیقن دیا گیا۔

حکیم انور نے بتایا کہ جائداد کی تقسیم کے معاملہ میں ان کے رشتہ داروں کے ساتھ طویل جھگڑا چل رہا تھا اور اس مسئلہ کو جامع مسجد ترمامڑی کی انتظامی کمیٹی نے حل کیا۔اس کے بعد ان کے حصہ میں ایک موروثی مکان آیا۔

حکیم انور کے مطابق مسجد کمیٹی کی اپیل پر ہی انہوں نے جامع مسجد میں موسم گرما کی شدت اور ماہ رمضان کے دؤران مصلیوں کو سہولت کی غرض سے تین ایرکنڈیشنڈ نصب کروانے کی پیشکش کی تھی۔تاہم جامع مسجد کمیٹی کے صدر محمد افتخار نے کہا کہ ایر کولرس ہی دلادیں کافی ہے۔

بی جے پی قائدحکیم انورجنہیں اب نائب صدر بی جے پی مائنارٹی سیل ضلع وقارآباد کاعہدہ دیاگیاہے نے بتایا کہ انہوں نے 45 ہزار روپئے کے صرفہ سے ماہ رمضان کے آغاز سے ایک دن قبل تین نئے ایرکولرز جامع مسجد ترمامڑی کو عطیہ دئیے تھے اور پھر یکم رمضان کو انہوں نے اسی جامع مسجد میں روزہ داروں کے لیے دعوت افطار و طعام کا اہتمام کیا تھا جس میں 300 روزدار شریک ہوئے۔

اصل قصہ اس وقت شروع ہوا جب حکیم انور نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی تب ایک مشہور علاقائی نیوز چینل کے نمائندہ نے ان کا انٹرویولیتے ہوئے بی جے پی میں ان کی شمولیت کی وجہ دریافت کی تو حکیم انور نے کہاتھاکہ اس ملک کی ترقی صرف بی جے پی سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا تھاکہ بی جے پی حکومت نے جو تین طلاق کے خلاف قانون بنایا ہے اس سے تمام مسلم خواتین بہت خوش ہیں۔

” جامع مسجد ترمامڑی میں ایر کولرز کی توڑ پھوڑ،بی جے پی قائد کے مکان کے روبرو لے جاکر پھینکے گئے کولرز اور بی جے قائد حکیم انور کی جانب سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیا گیا بیان اس ویڈیو میں۔”

ساتھ ہی انہوں نے اس نیوز چینل کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا تھاکہ کانگریس پارٹی نے گزشتہ 50 سال سے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کی حیثیت سے استعمال کیا ہے مسلمانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔حکیم انور نے بی جے پی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو خوفزدہ کرکے بی جے پی سے دور کیا ہے۔

بی جے پی قائدحکیم انور کی جانب سے تین طلاق قانون پرمسلم خواتین کے بہت خوش ہونے والی بات پر ترمامڑی کےمسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد بھڑک گئی اور انہوں نے جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی سے رجوع ہوتے مطالبہ کیا کہ حکیم انور کو مسجد میں طلب کیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ موضع کی کونسی مسلم خاتون تین طلاق کے قانون سے خوش ہیں؟

جس کے بعد جامع مسجد ترمامڑی کی انتظامی کمیٹی کے صدرمحمد افتخار نے حکیم انور کو فون کرکے نوجوانوں کی اس شکایت کی وضاحت کرنے کے لیے مسجد آئیں۔

اس معاملہ میں جامع مسجد ترمامڑی کی انتظامی کمیٹی کے صدر محمد افتخار نے نمائندہ سحرنیوز ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جب حکیم انور کو اس معاملہ میں فون کیا تو انہوں نے انتہائی نازیبا اور فحش کلامی کرتے ہوئے شدید گالی گلوچ کی۔

جمعہ کی نماز کے بعد شکایت کنندہ نوجوانوں نے صدرمسجد کمیٹی محمد افتخار سے سوال کیا کہ حکیم انور کو اب تک وضاحت کے لیے کیوں نہیں طلب کیا گیا؟

تو صدر مسجد کمیٹی نے دیگر عہدیداروں اور نوجوانوں کو حکیم انور کی کال ریکارڈنگ سنادی کہ وہ گالی گلوچ کررہے ہیں اور آنے سے انکار کررہے ہیں۔

جامع مسجد کمیٹی ترمامڑی کے صدر محمد افتخار نے بتایا کہ کال ریکارڈنگ سننے کے بعد چند نوجوان انتہائی برہم ہوگئے۔کمیٹی کے عہدیداروں کی جانب سے سمجھانے کے باؤجود حکیم انور کی جانب سے مسجد کو عطیہ دئیے گئے تینوں ایرکولرس کو مسجد کے باہر پھینک دیا اور توڑ پھوڑ کی ان میں زیادہ تر نابالغ لڑکے شامل تھے۔

بعد ازاں یہ ایرکولرس انہی نوجوانوں نے حکیم انور کے مکان کے باہر لے جاکر پھینک دئیے۔نمائندہ سحرنیوز ڈاٹ کام کے استفسار پر مسجد کمیٹی کے صدر محمد افتخار نے اعتراف کیا کہ نوجوانوں کی حرکت قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔

چونکہ مسجد میں اس وقت نماز جمعہ کے بعد 500مصلی تھی اورمسجد دو منزلہ ہے۔اس وقت یہ نوجوان کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔

صدر جامع مسجد انتظامی کمیٹی محمد افتخار نے میڈیا کی جانب سے عائد کردہ ان الزامات کی سخت تردید کی کہ حکیم انور کے بی جے پی سے تعلق ہونے کے باعث ہی یہ واقعہ پیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ سچ ہوتا تو مسجد کمیٹی حکیم انور کے ایرکولرز قبول ہی نہ کرتی اور نہ ہی انہیں یکم رمضان کومسجد میں دعوت افطار و طعام کے اہتمام کی اجازت ہی دیتی۔

محمد افتخار نے انکشاف کیا کہ حکیم انور نے مسجد کے ناقص لاؤڈ اسپیکرس کی بھی شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ لاوڈ اسپیکرس بھی دلادیں

اس واقعہ کے بعد بی جے پی قائدحکیم انور نے الزام عائد کیا کہ نوجوانوں نے ان کے مکان پر پتھراؤ بھی کیا اس وقت وہ حیدرآباد میں موجود تھے اور مکان میں خواتین اور بچے موجود تھے۔

اس واقعہ کے بعد حکیم انور نے بنٹارم پولیس اسٹیشن،سرکل انسپکٹر دھارور پولیس اسٹیشن کے علاوہ ایس پی ضلع وقارآباد این۔کوٹی ریڈی آئی پی ایس سے مسجد کمیٹی کے صدرسمیت جملہ 12 افراد کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔اور ان کی جان کو خطرہ ہونے کا دعویٰ  کرتے ہوئے پولیس سے مناسب سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد ایس پی ضلع وقارآباد این۔کوٹی ریڈی اور ڈی ایس پی وقارآباد نے موضع ترمامڑی کا دؤرہ کیامسجد کمیٹی کے عہدیداروں اور حکیم انور سے تمام تفصیلات حاصل کیں۔اور اس معاملہ کو فوری ختم کرتے ہوئے موضع میں امن قائم رکھنے کی ہدایت دی۔

اس واقعہ کے بعدحکیم انور کے مکان واقع ترمامڑی پر 8 پولیس ملازمین پرمشتمل پکٹ بٹھادی گئی ہے۔موضع میں پولیس گشت کانظم کیا گیا ہے۔

کل ہی تلنگانہ بی جے پی مائنارٹی سیل کے ضلعی قائدین کی بڑی تعداد نے ترمامڑی پہنچ کرحکیم انور اور مسجد کمیٹی کے انتظامیہ سے ملاقات کرتے ہوئے سارے واقعہ کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس معاملہ طول نہ دیں اور فوری طور پر ختم کرتے ہوئے مل جل کر رہیں۔

اطلاع ہے کہ ریاستی صدر بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار بھی ترمامڑی کا دؤرہ کرتے ہوئے بی جے پی قائد حکیم انور سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ہر چھوٹی اور بڑی غلطی قابل گرفت بنتی جارہی ہے۔ایسے میں چند ناسمجھ اور نادان نوجوانوں کی ایسی حرکتیں مخصوص میڈیا اداروں اورسوشل میڈیاکے تمام پلیٹ فارمز پر مزیدارمسلم مخالف مواد تیار کرنے اور اس کے ذریعہ نفرت پھیلانے کے لیے مسالحہ فراہم کررہی ہیں۔پھر بھی قوم کے چند نادان نوجوان ان حالات سے بے خبر ہیں اور اپنی ناسمجھی و جاہلیت کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہیں!!۔

مسجد کمیٹی کی بھی ذمہ داری تھی کہ اگر ایرکولرز کو واپس ہی کرنا تھا تو باعزت طریقہ سے بی جے پی قائد حکیم انور کے مکان پر بھجوادیتے۔45.000 روپئے مالیتی ایرکولرز کو تباہ کرکے اور قوم کی بدنامی کا مزید سامان پیدا کرکے کس نے کیا حاصل کیا؟