کرناٹک ہائی کورٹ میں 60 سے زائد میڈیا ہاؤسز کے خلاف درخواست،تعلیمی اداروں سے میڈیا نمائندوں کو دور رکھنے کی استدعا

کرناٹک ہائی کورٹ میں 60سے زائد میڈیا ہاؤسز کے خلاف درخواست داخل
تعلیمی اداروں کے باہر ٹیچرز اور طالبات کے تعاقب اور نقاب اتارنے کے دؤران
ویڈیوگرافی سے روکنے کی استدعا،سماج میں 24 گھنٹے منافرت پھیلانے کا میڈیا پر الزام

بنگلورو: 22۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں طالبات اور ٹیچرس کے حجاب/برقعہ پہننے پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں مسلسل دو ہفتوں سے سماعت جاری ہے۔اور اس معاملہ پر آج بھی ڈھائی بجے دن سے معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی،معززجسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور معزز جسٹس زیب النسا محی الدین قاضی پرمشتمل کرناٹک ہائی کورٹ کی سہء رکنی بنچ سماعت کرنے والی ہے۔

” کرناٹک ہائی کورٹ میں آج جاری حجاب معاملہ کی سماعت ہائی کورٹ آف کرناٹک کے آفیشل یوٹیوب چینل کے اس لنک پر لائیو دیکھی جاسکتی ہے”

اسی دؤران آج ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کے تحت 60 سے زیادہ میڈیا ہاؤسز کے خلاف ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حجاب پہن کر اسکولوں اور کالجوں میں جانے والی طالبات اور ٹیچرس کا پیچھا کرنے اور ان کی ویڈیو گرافی کرنے سے روکنے کی ہدایت دی جائے۔

اس عرضی میں میڈیا ہاؤسز کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، ٹوئٹر، گوگل،یاہو،انسٹاگرام،یوٹیوب اور واٹس ایپ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

عبدالمنصور،محمد خلیل اور آصف احمد کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں معزز ہائی کورٹ کو بتایاگیا ہے کہ بعض مفادات کے لیے میڈیا ہاؤسز اشتعال انگیزی کے ذریعہ طالبات کی تذلیل کررہے ہیں اور ان کے عقیدے،شناخت اور ثقافت کو مجرم کے طورپر پیش کرتے ہوئے انہیں بدنام کررہے ہیں۔

اس درخواست میں معزز ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ نفرت،بے عزتی اور انتقام کے زہر پرمشتمل مواد کے ذریعہ طلباء برادری کو مذہبی خانوں میں تبدیل کرنے،انہیں تقسیم کرنے اور معاملہ کو فرقہ وارانہ بنانے کی بار بار کوششیں کی جا رہی ہیں جو بالآخر پرتشدد کارروائیوں اور ردعمل کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔درخواست گزاروں نے دلیل دی ہے کہ مسلم طبقہ کا بہت بڑا حصہ اس طریقہ سے پریشان ہے جس میں مسلم خواتین اور بچیوں کی بے عزتی اور تذلیل کی گئی ہے اور انہیں اسکول کے گیٹ کے باہر ہی سرعام حجاب اور برقعہ اتارنے پر مجبور کرکے ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

اس درخواست میں معزز عدالت کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک ماہ سے،کیمرہ مین اور رپورٹرز سرکاری کالجوں اور اسکولوں کے احاطوں میں اور اس کے ارد گرد جمع ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جہاں بھی خاتون ٹیچرس اور طالبات اپنی کلاسوں میں جا رہے ہوتے ہیں ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے،گالی گلوچ،نعرے بازی کے ساتھ انہیں نشانہ بنایاجا رہا ہے ان کے ساتھ بدتمیزی کی جا رہی ہے۔

ان طالبات اور ٹیچرس کی جانب سے اسکولوں کے گیٹوں پر برقعہ حجاب اتارے جانے کے مناظر کی ویڈیو گرافی کی جارہی ہے اور ان کی فوٹوز لے کر چینلوں پر روزآنہ 24 گھنٹے اور ہفتہ کے سات دن ان مناظر کو دکھایا جارہا ہے اور اخبارات میں شائع بھی کیا جارہا ہےجوکہ جمہوری اقدار اور تنوع میں اتحاد کے اہم اصولوں کو پامال کرنا واحد مقصد ہے۔

عرضی میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پریس کی آزادی جیسا کہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت تصور کیا گیا ہے قطعی حق نہیں ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت فراہم کردہ معقول پابندیوں کے تابع ہے۔اس درخواست کے ذریعہ معزز عدالت سے استدعا  کی گئی ہے کہ”انصاف اور مساوات کے مفاد میں وہ جواب دہندہ نمبر 3 سے 73 کو مناسب رٹ جاری کریں کہ وہ اسکولوں اور کالجوں میں جانے والی طالبات اور اساتذہ کا پیچھا کرنے اور ان کی ویڈیو گرافی اور تصویر کشی کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹیلی کاسٹ کرنے سے روکنے کے احکام جاری کریں۔

یاد رہے کہ 10 فروری کو معزز ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا جس میں طلباء کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کرناٹک کے کالجوں میں کلاسوں میں شرکت کے دوران حجاب،زعفرانی شال پہننے پر اصرار نہ کریںپہنیں اور نہ ہی کوئی مذہبی جھنڈا استعمال کریں۔