ملک کو 1947ء میں بھیک اور 2014ء میں آزادی ملی،کنگنارناوت کی اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا ملک سے غداری: ورون گاندھی

ملک کو 1947ء میں بھیک اور 2014ء میں آزادی ملی: کنگناراناوت
اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا ملک سے غداری: ورون گاندھی
پریتی شرما مینن نے ممبئی پولیس میں شکایت درج کروائی

نئی دہلی : 11۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

فلم اداکارہ کنگنا رناوت ہر معاملہ میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے والی،ممتازومشہور فلمی اور سیاسی شخصیتوں کی تضحیک کرنے میں ماہر اور انتہائی متنازعہ شخصیت مانی جاتی ہے اور وہ ان حرکتوں کے ذریعہ گودی میڈیا کے آنکھ کا تارا بھی بنی ہوئی ہے!

اسی دؤران کنگنا رناوت کا ایک ویڈیو کل رات سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ٹائمز ناؤ نامی گودی میڈیا کے انگریزی چینل پر لائیو پروگرام میں کنگنا رناوت کہتی ہے کہ” 1947 میں ملک کو جو آزادی ملی تھی وہ آزادی نہیں تھی وہ بھیک تھی اور آزادی 2014ء میں ملی ہے۔” (یاد رہے کہ 2014ء میں اس ملک کے اقتدار پر بی جے پی نے قبضہ کرلیا تھا اور نریندر مودی وزیر بن گئے تھے)ٹی وی چینل پر کنگنارنا وت کی جانب سے اس شرمناک اور مجاہدین آزادی کی توہین پرمشتمل بیان کے بعد ہال میں تالیاں گونجتی ہیں اور اس پروگرام کی ہاسٹ ٹائمز ناؤ کی نویکا کمار کنگنارناوت سے کہتی ہے کہ” اسی لیے سب کہتے ہیں کہ آپ بھگوا ہیں"!!

کنگنارناوت کے اس شرمناک بیان پر بی جے پی سے دوری اختیار کرنے والے رکن پارلیمان پیلی بھیت”ورن گاندھی”نے کنگنارناوت کے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں سوال کیا ہے کہ"کبھی مہاتما گاندھی کی قربانی اور تپسیا کی توہین،کبھی ان کے قاتل کا احترام اور اب شہیدمنگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی،بھگت سنگھ،چندراشیکھر آزاد، نیتاجی سبھاش چندرا بوس اور لاکھوں آزادی پسندوں کی قربانیوں کی توہین۔اس سوچ کو پاگل پن کہوں یا غداری ؟

جبکہ کنگنا رناوت کے اس واہیات اور شرمناک بیان پر سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ اس ملک کی آزادی کے لیے کروڑہا مجاہدین آزادی نے اپنی قیمتوں جانوں کی قربانی دی ہے اور کنگنا راناوت نےبشمول مہاتماگاندھی،پنڈت جواہر لال نہرو،بھگت سنگھ،مولانا ابولکلام آزاد، چندراشیکھرآزاد ،اشفاق اللہ سمیت ان کروڑہا مجاہدین آزادی کی توہین کی ہے۔

حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کنگنا رناوت کو مجاہدین آزادی کی توہین کےمعاملہ میں ملک سے غداری کا کیس درج کرتے ہوئے فوری گرفتار کیا جائے۔

اسی دؤران آج شام عام آدمی پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو ممبر پریتی شرما مینن نے ممبئی پولیس میں کنگنا رناوت کے اس بیان کے خلاف ایک شکایت درج کروائی ہے اور ان کے خلاف دفعات 504, 505 اور 124Aکے تحت ملک سے غداری کا کیس درج کرتے ہوئے کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ تین دن قبل ہی راشٹرپتی بھون میں منعقدہ تقریب میں کنگنا رناوت کو "پدماشری” ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔جس پر اس ملک کا دانشور طبقہ،غیرجانبدار صحافی،سماجی جہد کار اور سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد مرکزی حکومت سے سوال کرنے میں مصروف ہے کہ کنگنارناوت کی کن خدمات پر اسے پدماشری ایورڈ دیا گیا ہے؟

سوشل میڈیا پر مرکزی حکومت سے سوال کیا جارہا ہے کہ  کیوں فلم اداکار سونوسود کو پدم شری ایواڑد کے معاملہ میں بری طرح نظرانداز کیا گیا جو دو سال سے کوویڈ وباء کے دؤران مسلسل اس ملک کی کئی ریاستوں کے عوام کی مختلف طریقوں سے مدد کررہے ہیں!ساتھ ہی صدرجمہوریہ ہند سے باقاعدہ تحریری مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کنگنا رناوت کو دیا گیا پدماشری ایوارڈ واپس لیا جائے۔

جبکہ یہی وہ کنگنا رناونت ہے جس نے ممبئی کو پاک مقبوضہ علاقہ کہا تھا،کنگناراناوت نے 3 مئی کو ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے اس ملک کے وزیراعظم نریندرمودی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مغربی بنگال میں 2000ء والا اپنا اصلی روپ دکھائیں۔یاد رہے کہ 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے وقت نریندرمودی اس ریاست کے چیف منسٹر تھے!جس میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل اور ان کی املاک کو تباہ و برباد کردیا گیا تھا۔اور کورونا وبا کے دؤران میڈیا اور سوشل میڈیا پر تبلیغی جماعت کے خلاف بھی خوب زہر اُگلا تھا۔

ٹوئٹر پر اس منافرت انگیز ٹوئٹ کے بعد بہت زیادہ مخالفت ہوئی تھی جس کے بعد 5 مئی کو کنگنا رناوت کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ٹوئٹر نے ہمیشہ کے لیے بند کردیا تھا۔اس سے قبل بھی کنگنارناوت نے احتجاجی کسانوں کو دہشت گرد کہا تھا اور فلم اداکاراؤں دیپیکا پدوکون اور تاپسی پنو سمیت کئی اداکاروں کے خلاف اہانت آمیز ٹوئٹ کیے تھے۔

گزشتہ سال کنگنارناوت نے ارنب گوسوامی کے ری پبلک چینل پر ممتاز شاعر،نغمہ نگار اور کہانی نگار جاوید اختر کے خلاف کئی الزامات عائد کیے تھے۔جس کے خلاف جاوید اختر نے ممبئی ہائی کورٹ میں کنگنارناوت کے خلاف قانون کی دفعات 499 اور 500 کے تحت خلاف عزت ہتک کا مقدمہ دائر کیا ہے۔جس کے بعد سے کنگنا رناوت مختلف بہانوں سے عدالت میں حاضر نہیں ہورہی ہے اور قانون سے بھاگ رہی ہے۔

قابل غور بات یہاں یہ بھی ہے کہ فلم میں لکڑی کی تلوار اور لکڑی کے گھوڑے پر بیٹھ کر رانی لکشمی بائی کا کردار ادا کرنے والی کنگنا رناوت کو مرکزی حکومت نے اس ملک کے عوامی پیسہ سے "وائی سیکورٹی” بھی فراہم کر رکھی ہے۔!!