جھارکھنڈ میں خاتون رکن اسمبلی کا انوکھا احتجاج
نیشنل ہائی وے کے گڑھے میں ذخیرہ شدہ کیچڑ اور پانی سےغسل
رانچی: 22۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
ملک کی مختلف ریاستوں کے شہروں،ٹاؤنس اور دیہی علاقوں میں سڑکوں کی انتہائی شکستہ حالت سے عوام ہمیشہ پریشان رہا کرتے ہیں۔خاص کر بارش کے موسم میں خراب سڑکیں عوام کے لیے مزید وبال جان بن جاتی ہیں۔حد تویہ ہے کہ اسی خراب اور روز حادثات کے مرکز بننے والی ان سڑکوں سے منتخبہ عوامی نمائندوں اورعہدیداروں کابھی گزرہوتارہتاہے۔اگرکسی وزیر کاکسی ٹاون یا دیہات کادؤرہ طئےہوجائےتو ہی ان خراب سڑکوں کی راتوں رات مرمت کردی جاتی ہے۔
نیشنل ہائی ویز چونکہ مرکزی حکومت کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور یہ ایک ریاست سےدوسری ریاست کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں تو ان نیشنل ہائی ویز کی حالت بہت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
ایسے میں سوشل میڈیا پر ریاست جھارکھنڈ کے ایک نیشنل ہائی وے کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے اس ہائی وے پر بہت بڑا،طویل اور گہرا گڑھا پڑاہوا ہے۔جس میں جمع شدہ بارش کاپانی ایک تالاب کا منظر پیش کررہا ہے۔اور اس پانی کی مقدار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ ایک خاتون اس کیچڑ سے بھرے پانی میں اتر کر نصف حد تک بیٹھ جاتی ہیں اور پھر اپنے ساتھ لائے ہوئے اسٹیل کے لوٹے کے ذریعہ اپنے جسم پر اس سڑک کے کیچڑ آلود پانی کو اپنے کندھوں پر سے انڈیلتے ہوئےغسل کرتی ہیں۔ان کےساتھ مردبھی وہاں موجود ہیں۔
https://twitter.com/IndiaObservers/status/1572477059271892992
اس واقعہ کی تفصیلات کےمطابق اس خاتون کا نام دیپیکا پانڈے سنگھ ہے جوکہ گوڈہ ضلع کےحلقہ مہاگما کی رکن اسمبلی ہیں۔ان کاتعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔خاتون رکن اسمبلی دیپیکا پانڈے سنگھ نے بطور احتجاج یہ اقدام کرتے ہوئےاس سڑک پر پڑنےوالے گہرے گڑھے میں بیٹھ کر اپنے اوپر کیچڑ والا پانی انڈیل لیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک ان”بڑے گڑھوں” کو بھرنے کے لیے مرمت نہیں کی جاتی وہ ایسا ہی کرتی رہیں گی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے درمیان لڑائی میں نہیں پڑنا چاہتی۔یہ نیشنل ہائی 133 ہے اور حکام نے مئی 2022 میں سڑک کے اس حصہ کی توسیع کرنے کی ذمہ داری لی تھی۔لیکن مرکزی حکومت اس کی مرمت کے لیے فنڈز فراہم نہیں کررہی ہے۔ اور اس ہائی وے کے اس حصہ کی حالت ایسی ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ وزیراعلیٰ جھارکھنڈ ہیمنت سورین سے درخواست ہےکہ اس ہائی وے کو مکمل کروائیں کیونکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رکن اسمبلی دیپیکا پانڈے سنگھ نےدعویٰ کیا کہ وہ طویل عرصے سے ہائی وے کی توسیع اور مرمت کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں،لیکن اسمبلی کمیٹی کے عہدیداروں نے جائے مقام کا دورہ نہیں کیا۔
وہیں کانگریسی رکن اسمبلی دیپیکا پانڈے سنگھ نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ گوڈاضلع کے رکن پارلیمان نشی کانت دوبے پربھی تنقید کی۔اور کہا کہ” عوامی نمائندے لوگوں کی حالت زار کو سمجھ سکتے ہیں اگر وہ یہاں آکر بیٹھیں تو”۔
وہیں بی جے پی کے ایم پی گوڈاضلع نشی کانت دوبے نےاپنے جوابی ٹوئٹ میں لکھاہے کہ” مہاگما سے کانگریس ایم ایل اے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے خلاف دھرنے پر بیٹھی ہیں۔اس شاہراہ کی دیکھ بھال محکمہ روڈ اینڈ کنسٹرکشن کرتا ہے اور مرکز نے 6 ماہ قبل ہی 75 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔

تاہم رکن اسمبلی دیپیکا سنگھ پانڈے نےاس کےبعدالزام عائد کیاہے کہ مرکزی حکومت نے اس ہائی وے کی مرمت کے کاموں کے لیے کوئی فنڈ فراہم نہیں کیاہے اور یہ صریح جھوٹ ہے۔
ایک خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے اس انوکھے احتجاج کی سوشل میڈیا پرستائش کرتے ہوئے لکھا جارہا ہے کہ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نمائندگی کو نظر انداز کردئیے جانے کے بعد مجبور ہوکر ہی انہوں نے یہ اقدام کیا ہے۔!!

