سپریم کورٹ میں کر ناٹک میں حجاب پر پابندی کے معاملے میں الگ الگ فیصلہ
وسیع بنچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس آف انڈیاکے پاس بھیج دیا گیا
نئی دہلی:13۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج کرناٹک کےتعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کےحجاب پہننے پر پابندی کو چیلنج کرنے والی اپیلوں کے معاملہ میں ایک بنچ پر الگ الگ فیصلہ سنایا ہے۔
جسٹس ہیمنت گپتانے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر 26 اپیلوں کو خارج کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ حجاب اسلام کا لازمی عمل نہیں ہے اور ریاست میں تعلیمی اداروں میں سر پر اسکارف پہننے پر پابندی کو قائم رکھا۔
جبکہ اپنی رائے میں اختلاف کااظہار کرتےہوئے جسٹس سدھانشو دھولیانے کرناٹک ہائی کورٹ کےفیصلے کو ایک طرف رکھتے ہوئےکہا کہ ضروری مذہبی عمل کا پورا تصور تنازعہ کے لیے ضروری نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے غلط راستہ اختیار کیا۔بالآخر آرٹیکل 14 اور 19 کے تحت یہ اپنے انتخاب کا معاملہ ہے،کچھ زیادہ اور کچھ کم نہیں۔
جسٹس دھولیا نے کہا کہ ان کے ذہن میں سب سے اہم سوال لڑکی کی تعلیم کا ہے۔جسٹس دھولیا نے سوال کیا کہ کیا ہم لڑکی کی زندگی کو بہتر بنا رہے ہیں؟یہ میرے ذہن میں ایک سوال تھا۔میں نے 5 فروری کے حکومتی حکم نامے کو منسوخ کردیا ہے اورپابندیوں کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔میرا خیال ہے کہ بیجو ایمینوئل کا فیصلہ اس مسئلے کا احاطہ کرتا ہے۔
کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے پر حکومت کی جانب سے پابندی اور پھر اس پابندی پر کرناٹک ہائی کورٹ کی مہر کے بعد اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔جسٹس ہیمنت گپتا اور سدھانشو دھولیا کی دو ججوں کی بنچ نے ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر 10 دن کی تیز رفتار سماعت کے بعد 22 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
اگر دونوں ججوں کی حتمی رائے میں ایک دوسرے سے اختلاف ہوتا ہے تو کیس کو بڑے بنچ کو بھیج دیا جائے گا۔
اس طرح اب یہ معاملہ بھی وسیع بنچ کی تشکیل کے لیے معزز چیف جسٹس آف انڈیا یو یو للت کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔

کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب کی متنازع پابندی پرسپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل سینئر وکیل اور راجیہ سبھاکے رکن کپل سبل نے کہا کہ یہ پابندی ایک "لیب کا تجربہ” ہے،جو کامیاب ہونے کی صورت میں سیاسی فائدے کے لیے بی جے پی کی حکومت والی تمام ریاستوں میں دہرایا جائے گا۔کپل سبل نے مشورہ دیا کہ حکومت کو مہنگائی کو کم کرنے، فیکٹریوں کی پیداوار بڑھانے،غربت کےخاتمے اور غریبوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔
” نوٹ : اس خبر کی تیاری میں ” لائیو لاء ” سے بشکریہ مدد لی گئی ہے”

