گوا سے حیدرآباد پہنچی اسپائس جیٹ فلائٹ کے انجن اور فلائٹ میں لینڈنگ سے قبل دھواں، طیارہ کی ایمرجنسی لینڈنگ، 96 مسافرمحفوظ

گوا سے حیدرآباد پہنچی اسپائس جیٹ فلائٹ کے انجن اور فلائٹ میں
لینڈنگ سے قبل دھواں،طیارہ کی ایمرجنسی لینڈنگ، 96 مسافرمحفوظ
تحقیقات کا حکم، ایک مسافر نے واقعہ کے ویڈیوز ٹوئٹ کیے

حیدرآباد:13۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

حیدرآباد کےراجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ(شمس آباد ایرپورٹ)پرخوش قسمتی سے گزشتہ رات اس وقت ایک فضائی حادثہ ٹل گیا جب گوا سے حیدرآباد پہنچنے والی اسپائس جیٹ کی فلائٹ نمبر SG3737 کے انجن سے لینڈنگ سے قبل دھواں اٹھنے لگا۔اور یہ دھواں طیارہ کے اندر بھی پھیل گیا تھا۔جس کے فوری بعد پائلٹ نے حیدرآباد ایرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کی۔

طیارہ کے عملہ سمیت اس طیارہ میں موجود 96 مسافر محفوظ رہے۔جبکہ اسپائس جیٹ ایئر لائن عہدیداروں کےمطابق اس طیارہ میں 86 مسافر سوار تھے۔تاہم اس دھویں سے ایک خاتون مسافر کی طبیعت بگڑنے کے باعث ایرپورٹ کے ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے عہدیداروں کو اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گوا سے حیدرآباد پہنچی اسپائس جیٹ کی فلائٹ میں لینڈنگ سے چند منٹ قبل دھواں اٹھنا شروع ہوگیا اور یہ دھواں طیارہ کے اندرونی حصہ میں بھی پھیل گیا۔جس سے مسافرین کو مشکلات پیش آئیں اور وہ خوفزدہ ہوگئے۔

اسی دؤران اس طیارہ کے پائلٹ نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئےبحفاظت حیدرآباد ایرپورٹ پراس طیارہ کوایمرجنسی حالات میں اتار لیا۔جس کے بعد مسافرین نے راحت کی سانس لی۔اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ رات 11 بجے پیش آیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ لینڈنگ سے قبل اس طیارہ کے انجن سے دھواں اٹھنا شروع ہوگیا تھا۔

وہیں مسافرین کاالزام ہے کہ ناگپور میں ہی دھویں کا پتہ چل گیا تھا لیکن اسے نظرانداز کرتے ہوئے طیارہ کو حیدرآباد ایرپورٹ تک لایا گیا اور اس دؤران 20 منٹ تک مسافرین کو خوف میں مبتلا رکھا گیاساتھ ہی اس دھویں سےمسافرین کو شدید پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔مسافرین کا کہنا تھا کہ طیارہ میں موجود آکسیجن ماسک بھی کام نہیں کررہے تھے۔اس طیارہ کو حیدرآباد میں ہنگامی حالات میں اتارا گیا۔

ٹوئٹر پر آج 11بجے دن سری کانت ملو پالا نے طیارہ کے اندر دھویں کے درمیان موجود مسافرین کی تصویر ٹوئٹ کی ہے اور اس ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندرمودی،وزیر شہری ہواباز جیوترآدتیہ سندھیا،اسپائس جیٹ کو باقاعدہ ٹیاگ کرتے ہوئےلکھا ہے کہ”محترم جناب یا جس سے بھی تعلق ہو۔رات کو ہم اسپائس جیٹ کے ذریعہ گوا سے حیدرآباد واپس آ رہے تھے،اچانک ناگپور سے حیدرآباد تک جہاز کے اندر چاروں طرف دھواں چھا گیا”۔

سری کانت ملوپالا نے ساتھ ہی دو ویڈیوز بھی ٹوئٹ کیے ہیں۔ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ ہلکی بارش کے درمیان شمس آباد ایرپورٹ کے رن وے پر فلائٹ ایمرجنسی لینڈنگ کررہی ہے۔اور لینڈنگ کے بعد طیارہ میں سوار مسافر تالیاں بجارہے ہیں۔

جبکہ دوسرے ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ طیارہ کی بحفاظت لینڈنگ کے دؤران ایرپورٹ پر فائرانجن اور ایمبولنس گاڑیوں کےساتھ حفاظتی عملہ کسی بھی ہنگامی حالات سے نمنٹنے کے لیے تیار موجود ہے۔

 

ان ویڈیوز کے ساتھ سری کانت ملو پالا نے لکھا ہے کہ”وہاں سے 20 منٹ لگے اور ہم تمام مسافر خوف کے مارے پریشان اور بلیک آؤٹ ہو گئےتھے۔خوش قسمتی سے ہم زندہ اور بحفاظت لینڈ کر گئے۔لیکن اگر کچھ ہوتا تو ذمہ دار کون ہوتے؟ یہ عملے اور متعلقہ محکمے کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا۔

یاد رہےکہ اسپائس جیٹ ایسے پےدر پہ واقعات کے بعد تنقیدوں کی زد میں ہے اورمسافروں کی حفاظت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔19 جون کو دہلی جانےوالی اسپائس جیٹ کی پرواز کوپرندے سے ٹکرانے کے بعد پٹنہ ہوائی اڈے پرایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی تھی۔25 جون کو پٹنہ-گوہاٹی اسپائس جیٹ کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے ٹیک آف کو روکنا پڑا۔ہوائی جہاز کے پچھلے سرے پر ایک دروازے پر ایک خودکار وارننگ لائٹ آن ہوگئی تھی۔جبکہ 4 مئی کو چنئی،درگاپور اسپائس جیٹ کی پرواز ایک خرابی کی وجہ سے چنئی واپس ہوئی۔

جبکہ 2 جولائی کودہلی۔جبلپور اسپائس جیٹ طیارہ (SG-2962) کی فلائٹ کواس وقت دہلی ہوائی ایرپورٹ پر واپس اترنا پڑاتھا جب کیبن کے عملے نے جہازکےاندردھواں دیکھا تھا اس وقت یہ طیارہ 5000 فٹ کی بلندی پر پرواز کررہا تھا۔اسپائس جیٹ کے ترجمان نے کہاتھا کہ تمام مسافر دہلی ہوائی اڈے پر بحفاظت جہاز سے اترگئے۔اس کے بعد بھی ایک دو ایسے واقعات میڈیا اطلاعات میں آچکے ہیں۔

وہیں اسپائس جیٹ ایئر لائن،تاخیر سے پروازوں اور سیکورٹی سے متعلق بہت سےواقعات کے لیے تنقید کا نشانہ بنتی جارہی ہے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے گزشتہ ماہ اسپائس جیٹ پر اپنے بوئنگ 737 میکس طیارے کے پائلٹوں کو ناقص سمیلیٹر پر تربیت دینے پر 10 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ اس سے پرواز کی حفاظت پر منفی اثر پڑسکتا تھا۔وہیں ماہ اپریل میں ڈی جی سی اے نے اسپائس جیٹ کے 90 پائلٹوں کو مناسب طریقے سے تربیت یافتہ نہ ہونے کے بعد میکس طیارے کو چلانے سے روک دیا تھا۔

” یہ بھی پڑھیں:-

اسپائس جیٹ کی دہلی۔جبلپور فلائٹ کے اندر پرواز کے دؤران پانچ ہزار فیٹ کی بلندی پر دھواں، بحفاظت دہلی واپسی

اسپائس جیٹ کے طیارہ میں آگ، طیارہ کی پٹنہ ایرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ، 185مسافر محفوظ